Friday , June 22 2018
Home / ہندوستان / ذات پات نہیں معاشی پسماندگی تحفظات کی بنیاد بنانے کا مطالبہ

ذات پات نہیں معاشی پسماندگی تحفظات کی بنیاد بنانے کا مطالبہ

نئی دہلی 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام)ایک ایسے وقت جب تحفظات سیاست کا گرما گرم موضوع بنے ہوئے ہیں کانگریس کے سینئر قائد جناردھن دیویدی نے ذات پات کی بنیاد پر تحفظات کی فراہمی ختم کردینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نائب صدر کل ہند کانگریس راہول گاندھی سے خواہش کی کہ معاشی پسماندہ طبقات کیلئے تحفظات متعارف کروائے جائیںاور اس کے دائرہ کار میں تمام

نئی دہلی 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام)ایک ایسے وقت جب تحفظات سیاست کا گرما گرم موضوع بنے ہوئے ہیں کانگریس کے سینئر قائد جناردھن دیویدی نے ذات پات کی بنیاد پر تحفظات کی فراہمی ختم کردینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نائب صدر کل ہند کانگریس راہول گاندھی سے خواہش کی کہ معاشی پسماندہ طبقات کیلئے تحفظات متعارف کروائے جائیںاور اس کے دائرہ کار میں تمام فرقوں کو شامل کیا جائے۔دیویدی کے اس مطالبہ پر کئی افراد برہم ہونے کا اندیشہ ہے۔یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پیش کیا گیا ہے کہ جبکہ کانگریس اقلیتوں کیلئے ذیلی کوٹہ فراہم کرنے ،ملازمتوں میں ترقی کے مرحلے پر درج فہرست ذاتوں اور قبائل کیلئے تحفظات فراہم کرنے کی پُر زور تائید کررہی ہے اور جاٹوں کیلئے تحفظات کے بارے میں بھی اس کا رویہ ہمدردانہ ہے۔

جناردھن دیویدی نے کہا کہ سماجی انصاف اور ذات پات کے نظام میں کافی فرق ہے۔ ذات پات پر مبنی تحفظات کا نظام ختم کیا جانا چاہئے۔ اب تک ایسا صرف اس لئے نہیں کیا گیا کیونکہ اس سے مفادات حاصلہ پر منفی اثر مرتب ہوتا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دلتوں اور پسماندہ طبقات میں مستحق افراد تک تحفظات کے فوائد پہنچ رہے ہیں یا ان فرقوں کے صرف اعلی سطحی افراد اس سے استفادہ کررہے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ سماجی انصاف کا نظریہ اب ذات پات کے نظام میں تبدیل ہوگیا ہے انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس نظام کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کو پارٹی کا انتخابی منشور تیار کرنے کیلئے اس مسئلہ پر راست عوام کے خیالات سے واقفیت حاصل کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک جرات مندانہ فیصلے کا وہ راہول گاندھی سے پُر زور مطالبہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے معاشی حالات کی بنیاد پر تحفظات کے بارے میں بات ہونی چاہئے ۔ راہول گاندھی کانگریس کے آئندہ قائد ہیں۔وہی ذات پات اور فرقہ واریت کی حد بندیوں سے بالا تر ہوکر یہ کام کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف اس کارروائی کے بعد ہی سماج میں مساوات قائم ہوسکتی ہے۔ ان کی یہ بے باک بات چیت ایک حساس مسئلہ پر منظر عام پر آئی ہے اور ایسے وقت آئی ہے جبکہ پارٹی لوک سبھا انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اپنے مطالبہ کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کی بہ نسبت صورتحال اب تبدیل ہوچکی ہے اور ذات پات پر مبنی نظام کی برسر عام مذمت کرنے کی اخلاقی جراء ت عوام میں موجود ہے۔ دیویدی نے کہا کہ وہ 1960 کی دہائی میں نوجوانوں کی تحریک کے ذریعہ سیاست میںداخل ہوئے تھے جس کا مقصد ذات پات کی حدود کا خاتمہ تھا۔

TOPPOPULARRECENT