Wednesday , December 12 2018

ذات پات کی بنیاد پر تحفظات ختم کرنے کانگریس لیڈر کے بیان کی مذمت

نئی دہلی ۔ 5 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ذات پات کی بنیاد پر تحفظات کے خلاف بیان دینے والے کانگریس کے سینئر قائد جناردھن دیویدی کو ہدف تنقید بتاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کانگریس کو اس معاملہ میں اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ایک سینئر قائد ن

نئی دہلی ۔ 5 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ذات پات کی بنیاد پر تحفظات کے خلاف بیان دینے والے کانگریس کے سینئر قائد جناردھن دیویدی کو ہدف تنقید بتاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کانگریس کو اس معاملہ میں اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ایک سینئر قائد نے تحفظات کے موضوع پر بیان دیا ہے جسے ہم ان کا شخصی نظریہ تصور نہیں کرسکتے بلکہ پارٹی کا موقف تصور کرتے ہیں ۔ اس بیان کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ دیویدی نے ذات پات کی بنیاد پر تحفظات کے سلسلہ کو ختم کرنے کا بیان دیتے ہوئے راہول گاندھی سے کہا تھا کہ موصوف معاشی طور پر کمزور طبقات کیلئے کوٹہ سسٹم متعارف کریں اور اس طرح تمام فرقوں کو اس سسٹم کے تحت کردیا جائے ۔ انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے ذات پات کی بنیاد پر تحفظات کے سلسلہ کو ختم کرنے کی وکالت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ اب تک اس لئے ختم نہیں ہوا کیونکہ مفاد حاصلہ سے مربوط کچھ لوگ اس سے وابستہ تھے ۔ کیا دلت اور دیگر پسماندہ طبقات میں حقیقی طور پر ضرورت مند لوگوں کو تحفظات کے فائدے حاصل ہوئے ہیں ؟

ان فرقوں میں بھی جو لوگ معاشی طور پر مستحکم ہوتے ہیں، وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ حقیقی ضرورت مند محروم رہ جاتے ہیں۔ مسٹر دیویدی نے کہا تھا کہ سماجی انصاف اور ذات پات میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ دوسری طرف ایل جے پی سربراہ رام ولاس پاسوان نے بھی مسٹر دیویدی کے بیان کی مذمت کی تھی۔ حالانکہ لوک سبھا انتخابات سے قبل کانگریس ایل جے پی سے مفاہمت کیلئے پیشرفت کر رہی ہے ۔ مسٹر پاسوان نے کہا کہ دیویدی کے ریمارکس دستور ہند کے مغائر ہیں اور اس سے صرف اپوزیشن کو ہی استحکام حاصل ہوگا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کانگریس پارٹی اس ریمارک کی مذمت کرے تاکہ عوام کو کوئی غلط پیغام نہ مل سکے۔ مسٹر پاسوان بھی پارلیمنٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کے سینئر قائدین سے بات چیت کی ہے اور وہ (کانگریس قائدین) خود بھی اس بات پر حیران ہیں کہ ایسے غلط ریمارکس کیوں کئے گئے ۔ مایاوتی نے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کو 1984 ء کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کو انصاف دلانے میں ناکامی پر ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔

TOPPOPULARRECENT