Wednesday , January 16 2019

ذاکر نائک کے خلاف ریڈکارنر نوٹس پر ہندوستان کی سرزنش

انٹرپول نے ہندوستانی پولیس کی کارروائیوں کو ’’لاشعوری‘‘ سے تعبیر کیا
ممبئی ۔ /16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ڈاکٹر ذاکر نائک کو ہندوستان لانے کی کوششوں کو شدید دھکہ پہونچاتے ہوئے انٹرپول نے ڈاکر نائک کے خلاف جاری کردہ ریڈ کارنر نوٹس کے لئے نئی دہلی کی درخواست کو منسوخ کردیا ۔ ہندوستان نے درخواست کی تھی کہ ذاکر نائک کے خلاف ریڈکارنر نوٹس دی جائے ۔ اس نوٹس کے باعث ذاکر نائک کے بین الاقوامی سفر پر پابندیاں عائد ہوسکتی تھیں ۔ انٹرپول نے مختلف ممالک میں کام کررہی پولیس ایجنسیوں سے کہا کہ وہ بھی اس مبلغ اسلام سے متعلق معلومات کو اپنے ڈاٹا بیس سے نکال دیں یا ہندوستان کے ڈاٹا بیس سے بھی اس نوٹس کو ہٹادیا جائے ۔ انہیں ہندوستان واپس بھیج دینے کی اب کوئی گنجائش نہیں ہوگی ۔ 52 سالہ ذاکر نائک نے انٹرپول کی کارروائی کا فوری طور پر خیرمقدم کیا اور کہا کہ مجھے راحت ملی ہے ۔ سب سے بڑی راحت اس وقت ملے گی جب میری اپنی حکومت ہند اور ہندوستانی ایجنسیاں میرے ساتھ انصاف کریں اور مجھے تمام الزامات سے بری کردیں ۔ ہندوستانی سکیوریٹی ایجنسیوں نے کہا کہ انہوں نے ذاکر نائک کو واپس لانے کی امید ختم نہیں کی ہے ۔ مبلغ اسلام ذاکر نائک گزشتہ سال جولائی میں ہندوستان سے چلے گئے تھے جب بنگلہ دیش میں دہشت گردوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ذاکر نائک کی تقاریر سے متاثر ہوکر حملے کررہے تھے ۔ جس کے فوری بعد سکیوریٹی ایجنسیاں حرکت میں آگئی تھیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT