Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / ذاکر نائیک کیخلاف سادھوی پراچی کا قابل مذمت بیان

ذاکر نائیک کیخلاف سادھوی پراچی کا قابل مذمت بیان

مذہبی معاملات میں میڈیا کو سنجیدگی اختیار کرنے شاہی امام کا مشورہ
نئی دہلی ۔ 15 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محدم مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ پیغمبر اسلامؐ کے اسوہ حسنہ اور آپ کی تعلیمات پر عمل کریں ۔ لاکھوں حدیثیں ہمارے سامنے موجود ہیں جن میں اسلامی تعلیمات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ وقت نکال کر ان سے استفادہ کر کے اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات اور نور قرآنی سے فیضیاب کریں ۔ شاہی امام نے کہا کہ آج عالمی طور پر مذہب اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی صحیح اور سچی تصویر عوام کے سامنے پیش کریں ۔ شاہی امام نے کشمیر کے حالات پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وہاں کے لوگوں سے امن قائم کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کشمیر کے لوگوں سے اپیل کی کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنے مطالبات کو پرامن احتجاج کے ذریعہ حکومت کے سامنے رکھیں ۔ شاہی امام نے سیکوریٹی فورسز اور آرمی سے اپیل کی کہ وہ طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کریں اور ایسی کارروائی نہ کریں کہ کشمیر کے عوام کی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوں یا وہ لوگ شدید طور پر زخمی ہو کر زندگی سے ہی معذور ہوجائیں ۔ سیکوریٹی فورسز کو ظلم و ستم نہیں ڈھانا چاہئے ۔ ایسی خبریں ابھی بھی مل رہی ہیں اور پہلے بھی ملتی تھیں کہ امن قائم کرنے کے بہانے فورسز شدید ظلم و ستم ڈھاتی ہیں اور نہتے بے قصور نوجوانوں کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ طاقت سے امن قائم نہیں ہوسکتا ، محبت اور حسن سلوک سے ہی حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ وشوا ہندوپریشد لیڈر سادھوی پراچی کے اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شاہی امام مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے کہا کہ ان کے خلاف کیس درج ہونا چاہئے ۔ اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کو این آئی اے نے کلین چٹ دے دی ہے اس کے باوجود سادھوی کا یہ بیان کہ جو سعودی عرب جاکر ذاکر نائیک کا سر قلم کر کے لائے گا اسے پچاس لاکھ کا انعام دیا جائے گا ۔ شدید مذمت کے قابل ہے ۔ سعودی عرب میں دہشت گردی کی واردات کو انجام دینے کی تلقین کر کے انہوں نے بین الاقوامی ضوابطہ کی خلاف ورزی کی ہے کیا مرکزی حکومت اس بیان پر نوٹس لے گی ؟ کیا سر قلم کرنے کی بات کرنا قانون کے دائرے میں آتا ہے ، مدارس اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والوں پر کیا حکومت کارروائی کرے گی ؟ شاہی امام نے کہا کہ ذاکر نائیک کے خلاف اگر کیس بنتا ہے تو ضرور کارروائی ہونی چاہئے لیکن مذہبی معاملات میں میڈیا کو سنجیدہ رہنا چاہئے ورنہ حالات بگڑ سکتے ہیں ۔ شاہی امام نے اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف دادری کیس میں مقدمہ درج کیے جانے کو سیاسی مفاد کی گھناونی سازش اور قابل مذمت عمل قرار دیا ۔ انہوں نے کہا پہلے اس کیس کی انکوائری میں اخلاق کو کلین چٹ دی جاچکی تھی لیکن دوسری تفتیش میں کیس کو زبردستی اخلاق کے خلاف بنایا گیا ہے اس کی مزید انکوائری ہونی چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT