Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / ذبیحہ سے متعلق جامعہ نظامیہ کا فتوی

ذبیحہ سے متعلق جامعہ نظامیہ کا فتوی

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کیلئے کونسے جانور ذبح کئے جاسکتے ہیں ؟ اگر گائے اور بیل کو ذبح کرنے میں نزاع کی کیفیت پیدا ہونے یا جان و مال کے نقصان کا خدشہ ہوتو کیا حکم ہے ؟ گائے اور بیل کی قربانی سے اجتناب کرناکیسا ہے ؟
ایسی صورت میں مذکورہ سوالات کے متعلق شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: شرعًا قربانی کیلئے ذبح کئے جانے والے جانوروں میں تین جنس ( بکری، گائے اور اونٹ) کی قربانی درست ہے، بھیڑو دنبہ، بکری کی قسم سے ہے۔ اور بھینس، گائے کی قسم سے ہے۔ نر و مادہ ہر دوقسم کے جانور کی قربانی دی جاسکتی ہے۔ اسمیں کوئی بھی جانور کی قربانی ممنوع نہیں ہوسکتی۔ فتاوی عالمگیری جلد ۵ کتاب الاضحیۃ صفحہ ۲۹۷ میںہے: (اما جنسہ) فھو ان یکون من الاجناس الثلاثۃ الغنم او الابل اوالبقر ویدخل فی کل جنس نوعہ والذکر والانثی منہ الخصی والفؤحل لانطلاق اسم الجنس علی ذلک والمعز نوع من الغنم والجاموس نوع من البقر۔پس صورتِ مسئول عنہا میں مذکورہ جانوروں میں کوئی ایک قسم کا جانور فراہم نہ ہو یا اسکو حاصل کرنے میں نقصان کا اندیشہ ہو تو مصرحہ جانور (نر و مادہ) میں سے جو مل سکے اُس کی قربانی دی جاسکتی ہے۔(نشان ۳۶۵ جلد ۶۹ بتاریخ ۱۵ ذوالقعدۃ الحرام ۱۴۳۸؁ھ ۸ اگست ۲۰۱۷؁ ء )
ہم کفوء میں نکاح کرنا شرعًا درست ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تقریباً تیس سالہ احمد اور مطلقہ اخترالنساء دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ احمد اخترالنساء کے ہم کفوء ہیں۔ عاقدہ کے والدین اس رشتہ سے ناراض ہیں۔ ایسی صورت میں والدین کی رضامندی کے بغیر دونوں کا نکاح درست ہوگا یا نہیں ؟ بینوا تؤجروا
جواب: شرعاً عاقلہ بالغہ لڑکی، اولیاء کی ولایت سے خارج ہے، وہ خود اپنی رضامندی سے اپنے کفوء میں بغیر رضامندی اولیاء نکاح کرے تو نکاح درست ہوگا۔ ہدایہ جلد اولین باب فی الأولیاء والأکفاء میں ہے: وینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضائھا وان لم یعقد علیھا ولی بکرا کانت أو ثیبا۔ اور ردالمحتار جلد ۲ کتاب النکاح ص ۳۴۴ میں ہے : ان المرأۃ اذا زوجت نفسھا من کف ء لزم علی الأولیاء۔
پس بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں مطلقہ اخترالنساء اپنے ہم کفوء احمد سے نکاح کرسکتی ہے، شرعا کوئی ممانعت نہیں۔
طلاق کا اختیار دے تو اسکا شرعی حکم
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شوہر زید اور بیوی ہندہ دونوں میں بار بار لڑائی بحث و تکرار کی وجہ، بیوی نے شوہر سے طلاق طلب کی، جس پر شوہر نے طلاق کا اختیار بیوی کو منتقل کردیا۔ اس پر بیوی نے کہا کہ ’’میںنے طلاق لے لیا‘‘ اس واقعہ کے بعد ایام عدت بھی گذرچکے۔ایسی صورت میں کیا یہ طلاق ہوئی یا خلع ؟
اب دونوں مل کر رہنا چاہتے ہیں تو شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا
جواب: بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں بیوی ہندہ کے طلاق، طلب کرنے پر شوہر نے بیوی کو طلاق کا اختیار دیدیا اور اسی وقت بیوی، طلاق لے لی، تو اس سے ایک طلاق رجعی ہوئی اور عدت (تین حیض) گزرتے ہی وہ طلاق بائن ہوگئی۔ اسکو خلع نہیں کہا جائیگا۔ بلکہ یہ طلاق ہوئی۔ اب اگر دونوںدوبارہ ملنا چاہتے ہیں، تو بقرار مہرجدید دوبارہ نکاح کرکے مل سکتے ہیں۔ اس کے بعد شوہر کو صرف دوطلاق کا حق رہیگا۔ فتاوی عالگیری باب تفویض الطلاق ص ۳۸۹ میں ہے: وان کان التفویض مقررونا بذکرالطلاق بأن قالھا اختاری الطلاق فقالت اخترت الطلاق فھی واحدۃ رجعیۃ۔ اور اسی کتاب کی فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ص ۴۷۲ میں ہے:اذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا۔
فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT