Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / ذبیحہ گاؤں پر امتناع مخالف گائے فیصلہ : پی سائی ناتھ

ذبیحہ گاؤں پر امتناع مخالف گائے فیصلہ : پی سائی ناتھ

کسانوں کو مشکلات ، جنگلات میں گائے کو چھوڑا جارہا ہے ، معروف قلم کار کا لکچر
حیدرآباد۔5جون(سیاست نیوز) ذبیحہ گاؤ پر عائد کردہ امتناع دراصل مخالف گائے فیصلہ ہے کیونکہ اس طرح کے فیصلہ سے نہ صرف انسانوں کا بلکہ ملک میں موجود مویشیوں بالخصوص گائے کے خلاف ہے۔ معروف قلمکار پی سائی ناتھ نے وی ہنمنت راؤ یادگار لکچر سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ذبیحہ گاؤ پر امتناع عائد کیا جانا مخالف مسلم‘ دلت یا آدی واسی نہیں بلکہ مخالف گائے ہے کیونکہ گائے کی پرورش کرنیو الا کوئی نہیں ہے اور گائے کی پرورش نہ کر پانے کے سبب کسان مشکلات میں مبتلاء ہوتے ہوئے اپنے مویشیوں کو جنگلات میں چھوڑنے لگے ہیں کیونکہ انہیں گائے کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی وہ خود اسے ذبح کر سکتے ہیں۔ مسٹر پی سائی ناتھ نے بتایا کہ ہندستان میں مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کو وہ اس لئے مخالف گائے تصور کر تے ہیں کیونکہ کوئی گائے کی پرورش کیلئے تیار نہیں ہے اور جو لوگ گائے کی پرورش کرتے ہیں وہ بھی اس کی دودھ حاصل ہونے تک خدمت کرتے ہیں لیکن جب وہ دودھ دینا بند کردیتی ہے تو وہ اسے فروخت کردیا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس اعلامیہ پر عمل آوری کی صورت میں کارپوریٹ اداروں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے گاؤ کشی پر مکمل امتناع کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر گاؤکشی بند کردی جاتی ہے تو ملک کی سڑکو پر مہاراشٹر اور گجرات کی طرح آوارہ مویشیوں کی بڑی تعداد نظر آنے لگے گی جو منٹوں میں ختم ہونے والے راستوں کو گھنٹوں کا کردیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے تیزی سے ترقی کرنے والے شہرو ںمیں ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی۔ مسٹر پی سائی ناتھ نے کہا کہ مہاراشٹر میں گاؤکشی پر مکمل امتناع کے بعد کسان اپنے مویشی فروخت کرنے کے بجائے انہیں آوارہ چھوڑنے یا پھر جنگل لیجا کر چھوڑ دینے پر مجبور ہوچکا ہے کیونکہ جنگل میں چھوڑے جانے کے سبب مویشی کی غذا کا بھی مسئلہ نہیں ہوتا اور گائے خود کسی بڑے جانور کی غذا بن جاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جس معاشرہ میں گائے اور دیگر مویشیوں کی پرورش کا رجحان نہیں ہے اس معاشرہ میں اس طرح کے فیصلہ خود معاشرتی نقصانات کا موجب بنتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑے جانور بالخصوص گائے کا گوشت صرف مسلمان نہیں کھاتے بلکہ آدی واسی‘ دلت اور شمال۔ مشرقی ممالک کی کئی ریاستوں کے علاوہ ملک میں بسنے والے مختلف طبقات کی جانب سے یہ گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور اس اعلامیہ کا اثر ان تمام طبقات پر مرتب ہوگا جو اس کا استعمال کرتے ہیں ۔انہوں نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ وہ سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کریں کیونکہ یہ مسئلہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے اگر یہ جانور استعمال کرنا ترک کردیا جائے تو صورتحال کیا ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT