Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / آئی ایس آئی ایس میں ہندوستانیوں کو کمتر درجہ

آئی ایس آئی ایس میں ہندوستانیوں کو کمتر درجہ

دیگر جنوبی ایشیائی اور بعض افریقی شہریوں کے مقابل عرب جنگجوؤں کا دہشت گرد تنظیم میں غلبہ : رپورٹ
نئی دہلی ۔ 23 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) آئی ایس آئی ایس میں ابھی تک 23 ہندوستانیوں نے شمولیت اختیار کی جن میں سے 6 مبینہ طورپر ہلاک کردیئے گئے جبکہ یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ خطرناک دہشت گرد تنظیم جنوبی ایشیائی مسلمانوں بشمول ہندوستانیوں کو عراق اور شام کے جنگی منطقہ میں عرب جنگجوؤں کے مقابل کمتر سمجھتی ہے ۔ ایک انٹلیجنس رپورٹ کے مطابق جو بیرونی ایجنسیوں نے تیار کی اور ہندوستانی اداروں کے ساتھ اس کا تبادلہ کیا ہے ، ہندوستان، پاکستان ، بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ بعض ممالک جیسے نائجیریا اور سوڈان کے جنگجوؤں کو آئی ایس آئی ایس معقول حد تک لڑائی کے اہل نہیں سمجھتی اور اکثر انھیں جھانسہ دے کر خودکش حملوں میں استعمال کرلیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جملہ 23 ہندوستانیوں نے ابھی تک آئی ایس آئی ایس میں شمولیت اختیار کی جن میں سے 6 مختلف حادثات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان کی شناخت عاطف وسیم محمد (عادل آباد ، تلنگانہ ) ، محمد عمر سبحان ، فیض مسعود(بنگلور، کرناٹک ) ، مولانا عبدالقادر سلطان ارمار(بھٹکل ، کرناٹک ) ، سہیم فاروق تانکی (تھانے ، مہاراشٹرا) اور محمد ساجد عرف بڑا ساجد (اعظم گڑھ ، اترپردیش ) کی حیثیت سے کی گئی ۔ انٹلیجنس رپورٹ کا ماننا ہے کہ جنوبی ایشیائی اور افریقی نژاد دہشت گرد لوگوں میں ہلاکتوں کے معاملے میں بہت ہی غیرمتناسب فرق پایا جاتا ہے کیونکہ اُنھیں لڑائی کے محاذ پر پیدل سپاہیوں کے طورپر آگے بڑھنے پر مجبور کردیا جاتا ہے ۔ عرب جنگجو جو لڑائی کا بہتر تجربہ رکھتے ہیں وہ زیادہ تر ان جنگجوؤں کے پیچھے مورچہ سنبھالے ہوتے ہیں اور اس لئے اُن کی ہلاکتیں تناسب کے اعتبار سے مجموعی تعداد میں کم ہوتی ہیں ۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں معمولی سے ہندوستانی جتھے میں زیادہ تر ہلاکتیں پیش آئی ۔ علاوہ ازیں عہدوں کے معاملے میں بھی امتیاز برتا جاتا ہے اور آفیسر کیڈر کے طورپر عرب جنگجوؤں کو ترجیح دی جاتی ہے اور انھیں بہتر اسلحہ اور گولہ بارود ، ساز و سامان ، قیام اور تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے جنگجوؤں کو عام طورپر گروپوں کی شکل میں چھوٹے بیرکوں میں رکھا جاتا ہے اور اُنھیں عرب جنگجوؤں کے مقابل کافی کم ادائیگی کی جاتی ہے اور اُنھیں حاصل ہونے والا ساز و سامان بھی کم تر درجہ کا ہوتا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ نام نہاد کم تر درجہ کے جنگجوؤں کو بسا اوقات جھانسہ دے کر خودکش حملوں کیلئے اُکسایا جاتا ہے ۔ بالعموم اُنھیں دھماکو مادؤں سے بھری گاڑی دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ مطلوبہ نشانہ کے قریب تک چلے جاؤ اور فلاں نمبر پر فون کرو ، جو تمہیں وہاں پہنچ کر بقیہ مشن کے تعلق سے وضاحت کریں گے ۔ تاہم جیسے ہی دیا گیا نمبر ڈائیل کیا جاتا ہے کار پہلے سے بنائے ہوئے میکانزم کے سبب دھماکے سے پھٹ پڑتی ہے ، جو دراصل کسی مخصوص ٹارگٹ کو تباہ کرنے کے لئے بنائے گئے منصوبہ کا قطعی حصہ ہوتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق چینی ، ہندوستانی ، نائجیریائی اور پاکستانی نژاد بیرونی جنگجوؤں کو ایک ساتھ رکھ کر آئی ایس آئی ایس پولیس اُن کی کڑی نگرانی کرتی ہے ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ صرف تیونسی، فلسطینی ، سعودی ، عراقی اور شامی افراد  کو ہی آئی ایس آئی ایس پولیس فورس میں شامل ہونے کی اجازت ہے ، جہاں تمام دیگر قومیتوں کے جنگجوؤں کا شامل ہونا ممنوع ہے لہذا غالب عرب جنگجوؤں اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے درمیان اعتماد کے معاملے میں واضح خلیج دکھائی دیتی ہے جبکہ غیر عرب افراد آئی ایس آئی ایس کے عصری پروپگنڈے سے متاثر ہوکر اُن کی طرف سے کھنچے چلے جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT