Wednesday , June 20 2018
Home / ہندوستان / ذرائع ابلاغ پر کنٹرول ہو تو جمہوریت کی بقاء ناممکن

ذرائع ابلاغ پر کنٹرول ہو تو جمہوریت کی بقاء ناممکن

نئی دہلی 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ’’زیرکنٹرول ذرائع ابلاغ کی بہ نسبت غیر ذمہ دار ذرائع ابلاغ‘‘ بہتر ہیں۔ نئے صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا چندرامولی کمار پرساد نے آج کہاکہ آزادیٔ صحافت کا تحفظ اُن کی اوّلین ترجیح ہوگا۔ انھوں نے آج صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا کے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اُن کے شخصی نقطہ نظر سے

نئی دہلی 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ’’زیرکنٹرول ذرائع ابلاغ کی بہ نسبت غیر ذمہ دار ذرائع ابلاغ‘‘ بہتر ہیں۔ نئے صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا چندرامولی کمار پرساد نے آج کہاکہ آزادیٔ صحافت کا تحفظ اُن کی اوّلین ترجیح ہوگا۔ انھوں نے آج صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا کے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اُن کے شخصی نقطہ نظر سے عوام اتنے ذہین ہیں کہ ذرائع ابلاغ کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کی جانچ کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ذرائع ابلاغ پر کنٹرول رکھا جائے تو خود جمہوریت برقرار نہیں رکھ سکتی۔ انھوں نے کہاکہ درحقیقت خود احتسابی بہترین کام ہے۔ ان کے اپنے شخصی نقطہ نظر سے غیر ذمہ دار ذرائع ابلاغ زیر کنٹرول ذرائع ابلاغ کی بہ نسبت بہتر ہوتے ہیں۔ کیونکہ لوگ خود ان کی جانچ کرلیتے ہیں۔ وہ کافی ذہین ہیں اور حقیقت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ چاہے ذرائع ابلاغ پر کتنا ہی کنٹرول کیا جائے۔ زیرکنٹرول ذرائع ابلاغ کی صورت میں جمہوریت کی بقاء بھی ناممکن ہے۔ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ وہ اپنے شخصی نظریات پیش کررہے ہیں اور ضروری نہیں کہ پریس کونسل کے نظریات بھی یہی ہوں جو ہمیشہ اجتماعی طور پر فیصلے کرتی ہے۔ نئے صدرنشین نے کہاکہ یہ ایک انفرادی نکتہ نظر ہے اور پریس کونسل ایک کثیر رکنی ادارہ ہے۔ انھوں نے کہاکہ پریس کونسل میں لوگوں کی کثیر تعداد کافی قابل ہے

اور ان کے نقاط نظر وزن بھی رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ آزادی صحافت کے بغیر آپ کچھ بھی نہیں جان سکتے۔ ان کا بنیادی اصول صحافت کی آزادی ہوگا۔ پرساد جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے جانشین ہیں جو بحیثیت جج سپریم کورٹ 14 جولائی 2014 ء کو عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے انھیں پریس کونسل آف انڈیا کا صدرنشین مقرر کیا گیا تھا۔ قبل ازیں نائب صدر محمد حامد انصاری، اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن اور پریس کونسل کے نامزد رکن برائے کمیٹی ایس این سنہا پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد کی گئی تھی۔ پرساد کو 8 فروری 2010 ء کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی اور وہ مختلف ہائیکورٹس میں نومبر 1994 ء سے جج یا چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کونسل آزادیٔ صحافت کے تحفظ کی تمام تر کوششیں کرے گی اور دستوری اصولوں کی رہنمائی میں ایسی جدوجہد کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT