Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / ذرائع ابلاغ کو خود احتسابی کا مشورہ، متوازی مقدمات پر اعتراض

ذرائع ابلاغ کو خود احتسابی کا مشورہ، متوازی مقدمات پر اعتراض

نئی دہلی۔ 18؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ ذرائع ابلاغ کے خلاف مقدمات پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ارون جیٹلی نے آج کہا کہ عدالتیں اعلیٰ سطحی مقدمات میں ’زبردست دباؤ کے تحت‘ آجاتی ہیں اور ذرائع ابلاغ سے خواہش کی کہ وہ مخالف ماحول کے باوجود متوازی مقدمات سے گریز کرنے کے لئے خود احتسابی اختیار کریں۔ سنندا پشکر کی

نئی دہلی۔ 18؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ ذرائع ابلاغ کے خلاف مقدمات پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ارون جیٹلی نے آج کہا کہ عدالتیں اعلیٰ سطحی مقدمات میں ’زبردست دباؤ کے تحت‘ آجاتی ہیں اور ذرائع ابلاغ سے خواہش کی کہ وہ مخالف ماحول کے باوجود متوازی مقدمات سے گریز کرنے کے لئے خود احتسابی اختیار کریں۔ سنندا پشکر کی پُراسرار موت اور ان کے شوہر ششی تھرور کے ذرائع ابلاغ کی سخت جانچ کے تحت آجانے کا حوالہ دیتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ خبر کی اشاعت سے پہلے خود احتسابی کرنی چاہئے، کیونکہ لوگوں کی خانگی زندگی اس سے متعلق ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شوہر اور بیوی کے تعلقات یا ان کی بات چیت پوشیدہ رکھنے کے حق کا احترام کیا جانا چاہئے، کیونکہ یہ عوامی مفاد کی باتیں نہیں ہیں، صرف خبر میں مسالہ شامل کرنے کے مقصد سے ذرائع ابلاغ کو ترمیم و اضافہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ سنجیدگی سے خود احتسابی کرنی چاہئے۔ وہ جسٹس جے ایس ورما یادگاری لکچر دے رہے تھے جس کا موضوع ’’صحافت کی آزادی اور ذمہ داری‘‘ تھا جس کا اہتمام خبریں نشر کرنے والوں کی اسوسی ایشن نے کیا تھا۔ انھوں نے ذرائع ابلاغ کی جانب سے متوازی مقدمات کے انعقاد کو نامنظور کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، عدالت میں مقدمات زیر دوران ہونے کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کو اپنے طور پر مقدمات منعقد کرکے کسی کو قصوروار اور کسی کو بے قصور قرار نہیں دینا چاہئے،

تاہم انھوں نے واضح کردیا کہ صرف مقدمہ عدالت میں ہونے کا مطلب ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کرنا نہیں ہوتا، لیکن یہ انفرادی آزادی کا بھی معاملہ ہے، حالانکہ متوازی مقدمہ کا تصور فیصلہ سنانا نہیں ہے، لیکن اس سے کسی شخص کے حصول اِنصاف پر اثر ضرور مرتب ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ خبر رساں چیانلس کو نظم و ضبط کا پابند بنائے۔ ایک اپنی آپ نگرانی کا نظام قائم کیا جانا چاہئے۔ جیٹلی نے کہا کہ وہ ناظرین یا سامعین پر مشتمل نظام کے قیام کو ترجیح دیں گے، کیونکہ انھیں یہ کام بہت مشکل محسوس ہوتا ہے اور اگر حکومت ذرائع ابلاغ کو ڈسپلن کا پابند بنانے کی کوشش کرے تو کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر ناظرین یا سامعین ایسا کرنے کا فیصلہ کریں تو وہ اس کو ترجیح دیں گے۔ انھوں نے دہشت گردی سے متعلق خبروں کی اشاعت پر صیانتی محکموں کے اندیشوں کا بھی تذکرہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT