Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / ذرا سوچیئے نابالغ و نوجوان کیوں بن رہے ہیں قاتل

ذرا سوچیئے نابالغ و نوجوان کیوں بن رہے ہیں قاتل

 

محمد مصطفیٰ علی سروری
11 ستمبر کو بنگلور پولیس کو اطلاع ملتی ہے کہ ا یک 20 برس کی لڑکی نے خودکشی کرلی ہے ۔ پولیس نعش کو دواخانہ منتقل کرتی ہے ، وہاں ڈاکٹرس پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد رپورٹ دیتے ہیںکہ لڑکی کی موت خودکشی کے سبب نہیں ہوئی بلکہ اس کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے ۔ پولیس کے حوالے سے اخبار دکن کرانیکل نے 19 ستمبر کو اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہندو پور سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیاں جو آپس میں رشتہ دار بھی ہیں ، بنگلور میں گھریلو خادمہ کا کام کر رہی تھی ۔17 برس اور 20 برس کی ان دو لڑکیوں میں سے جب بڑی والی لڑکی کو پتہ چلا کہ اس کی چھوٹی بہن ایک لڑکے ساتھ قربت اختیار کر رہی ہے تو اس موضوع پر ہونے والے جھگڑے میں 17 سال کی لڑکی نے اپنی ہی بڑی بہن جس کی عمر 20 برس بتائی گئی ہے کا قتل کردیا اور پھر بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس قتل کو خودکشی کا رنگ دے ڈالا ۔ چونکہ دونوں بہنیں ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں رہتی تھی تو ایک بہن نے جو بھی کہا سب نے اس کو سچ مان لیا ۔ مگر پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد پولیس کو دوسری بہن سے پوچھ تاچھ کرنا پڑا تب کہیں جاکر پتہ چلا کہ چھوٹی بہن نے اپنی ہی بڑی بہن کو جان سے مار ڈالا کیونکہ وہ اپنی بہن کو لڑکے سے ملنے سے منع کر رہی ہے ۔ بنگلور پولیس نے 17 سالہ نابالغ لڑکی کو حراست میں لیکر بچوں کی جیل میں بھیج دیا ۔ (بحوالہ دکن کرانیکل 19 ستمبر 2017 ء)
یہ تو حالیہ عرصہ کی ایک خبر تھی جس میں ایک نابالغ لڑکی نے اپنی ہی بڑی بہن کا قتل کردیا ۔ کیسی کیسی باتوں پر قتل ہورہا ہے اور قتل کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہے ۔ 9 ستمبر 2017 ء کو میاں پور کی رہنے والی 17 سال کی لڑکی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو ملتی ہے ۔ بارھویں جماعت کی اس طالبہ کی 12 ستمبر کو نعش ملتی ہے ۔ پولیس تحقیقات کے مطابق اس 17 سالہ لڑکی کا قتل کر کے اس کی نعش کو مدینہ گو ڑہ میں جھاڑیوں میں چھوڑ دیا گیا تھا ۔ سی سی ٹی وی کے فوٹیج کی مدد سے پولیس نے تقریباً 17 برس کے ہی ایک نابالغ لڑکے کو گرفتار کرلیا اور تفتیش کے دوران اس لڑکے نے پولیس کو بتلایا کہ مقتولہ 17 سالہ لڑکی کے ساتھ وہ پہلے ایک ہی اسکول میں پڑھا کرتا تھا اور محبت میں گرفتار تھے لیکن اب لڑکا لڑکی کے ساتھ تعلقات رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی شادی کرنا چاہتا تھا سو اس 17 سالہ لڑکے نے لڑکی کو قتل کر کے اپنے راستے سے صاف کردیا اور پھر آخر کار پولیس کے ہتھے ہی چڑھ گیا (بحوالہ ٹائمز آف انڈیا 14 ستمبر 2017 ء)

ایس آر سرینواس راؤ کی عمر صرف 20 برس ہے اور وہ بی ایس ای (BSc) بائیو ٹکنالوجی کا طالب علم ہے ۔ بنگلور پولیس نے 17 ستمبر کو میڈیا کو بتلایا کہ سرینواس راؤ دوستوں کے ساتھ ا پنی سالگرہ کی تقریب بڑی دھوم دھام سے منانا چاہتا تھا لیکن برتھ ڈے کے لئے اس کے ہاں پیسے نہیں تھے ، سو اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک وائین کی دکان (شراب کی دکان) کو لوٹا اور 12 ہزار روپئے لیکر چلتے بنے اور آخر ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب سرینواس اور اس کے دوستوں کو پولیس نے پکڑلیا۔ (بحوالہ دکن کرانیکل 17 ستمبر 2017 ء)
جرائم کی ہر دوسری خبر ایک بہت خطرناک رجحان کی نشاندہی کر رہی ہے کہ اب بچوں میں غصہ کی کیفیت بہت بڑھ گئی ۔ اب نوجوان کسی بات پر کسی کو پسند نہ کریں تو اس کو مرنے مارنے کیلئے آمادہ ہیں۔ اس طرح کی خبریں دراصل اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سماج میں نت نئے چیالنجس پیدا ہوچکے ہیں اور اگر ان نئے ابھرتے ہوئے مسائل کے حل کی جانب جلد اقدامات نہ کئے جائیں تو حالات اور بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ لڑ کے ہی نہیں لڑکیاں بھی اب قتل کرنے تیار ہیں اور قتل کی وجوہات بڑی معمولی معمولی بات بن رہی ہیں۔
19 ستمبر 2017 ء کو اخبار انڈین اکسپریس نے تھانے سے اطلاع دی کہ سواروپا نامی خاتون اپنے گھر میں پکوان میں مصروف تھی ، دوران پکوان اس کا اپنے شوہر کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوگیا پھر کیا تھا سواروپا نے اپنے ہاتھ میں موجود ترکاری کاٹنے کی چھری سے ہی ا پنے شوہر پر حملہ کردیا ۔ پولیس کے مطابق سواروپا کے شوہر کو جب دواخانہ لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا۔
بچے اور نوجوان ہی نہیں شوہر اور بیوی کے درمیان ہی نہیں اب تو نااتفاقیاں اور لڑائی جھگڑے ماں بیٹوں کے درمیان بھی بڑھتے جارہے ہیں، وجوہات چاہے الگ الگ ہوں لیکن ممبئی سے ہی ایک ایسی دل دہلا دینے والی خبر آئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق واسوی ممبئی کی رہنے والی رجنی دیویدی نامی خاتون کو پولیس نے اپنے ہی بیٹے کے قتل کے کیس میں گرفتار کرلیا ۔ پولیس کے مطابق 22 سالہ رام چرن دیویدی کی نعش 21 اگست کو ملتی ہے اور نعش کے ہاتھوں پر کندہ نام کی مدد سے پولیس رجنی دیویدی تک پہونچ جاتی ہے مگر رجنی دیویدی اپنے ہی لڑکے کی نعش پہچاننے سے انکار کردیتی ہے ۔ پولیس کے شبہ کو خاتون کے مشتبہ حرکات سے مزید تقویت ملتی ہے اور پھر پوچھ تاچھ کے بعد پولیس کو پتہ لگتا ہے کہ رجنی دیویدی نامی خاتون نے ہی اپنے 22 سالہ بیٹے کے قتل کیلئے 50 ہزار روپئے قاتلوں کو دیئے ہیں کیونکہ ماں یہ سمجھنے لگی تھی کہ اس کا لڑ کا اپنی حرکات اور اپنے کاموں سے اس کی بدنامی کا سامان کر رہا ہے ۔ سو ماں نے اپنے ہی بیٹے کے قتل کے لئے سازش رچی اور قاتلوں نے جب لڑکے کا گلہ کاٹ کر قتل کردیا تو اس کی نعش کو پہچاننے سے صاف انکار کردیا ۔ (بحوالہ ٹائمز آف انڈیا 19 ستمبر 2017 ء)

کسی کو پسند نہ کرنے پر اس کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی بات اب آئے دن کا معمول بن چکی ہے ، اس طرح کی قتل کی وارداتیں دراصل اس بڑھتے ہوئے نفسیاتی دباؤ اور مرض کی نشاندہی ہے جو آج کے سماج میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
یہ کیسی نفسیات ہے اور عدم برداشت کا ماحول ہے ، ذرا اندازہ لگایئے اگر کوئی ہماری گاڑی کے آگے نکل جائے تو گوارا نہیں لائین میں ہم سے آگے اگر کوئی ٹھہر جائے تو ہمارا غصہ قابل دید ہوجاتا ہے ۔ اب تو ہمارے بچے اور بڑے اس بات کو لیکر جھگڑا کرنے لگتے ہیں کہ سامنے والا ان کو گھور کر دیکھ رہا تھا ۔ بچے تو اس بات پر بھی لڑائی کرنے لگے ہیں کہ دوسرا لڑکا کیسے اس سے اچھے مارکس لاسکتا ہے ۔ لڑکیاں اچھے کپڑے پہننے کیلئے اور لوگوں سے داد وصول کرنے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کوشاں ہے اور لڑ ائی کیلئے آمادہ ہیں۔
19 ستمبر 2017 ء کو ہی اخبار انڈین اکسپریس نے ناگول حیدرآباد کے ایک ایسے شخص کے بارے میں خبر دی جو اپنی بیوی سے اسلئے لڑائی کر رہا تھا کہ اس کی بیوی نے ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئے صحیح محنت نہیں کی اور میڈیسن میں اچھا رینک نہ ملنے کے سبب اس کو (BDS) میں داخلہ پر اکتفاء کرنا پڑا ۔ کے رشی کمار نامی اس شخص نے اپنی 20 برس کی بیوی کو صرف جان سے مارنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کی نعش کو جلا ڈالنے کی بھی کوشش کی ۔ اس قاتل کی عمر بھی تقریباً 20 سال بتلائی گئی ہے۔ نابالغ اور نوجوان قاتلوں کے متعلق جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے شعبہ نفسیات کے ا سسٹنٹ کلینکل پروفیسر ڈاکٹر این بی زینٹ اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی آف لاء کے پروفیسر ایلسی ایچ زینب نے اپنی ایک تحقیق میں کم عمر نابالغ بچوں کے جرائم میں ملوث ہونے اور خاص کر نابالغ قاتلوں کو دو بڑے زمروں میں تقسیم کیا ہے اور ہمارے معاشرہ کے والدین کیلئے بھی یہ بہت بڑا چیالنج ہے ۔ ایک زمرہ ایسے نابالغ قاتلوں کا ہے جن کو None Pathic Murderers کہا گیا ہے ۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کے ہاں دوسروں کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ہے ۔ یہ لوگ ہمیشہ دوسروں کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے ہاں پڑھائی کی صلاحیتیں محدود ہوتی ہے ۔ یہ کسی طرح کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے اور خاص طور پر ان بچوں کی ابتدائی تعلیم ایسے اداروں میں ہوئی جہاں ان کی نفسیات پر کسی نے توجہ نہیں دی یا ان بچوں کی ماؤں نے اپنے بچوں کی نفسیات کا بالکل خیال نہیں رکھا ۔ ان پروفیسرس نے اپنی تحقیق میں ایک 15 برس کے لڑکے کا ذکر کیا ہے جوا یک معمر خاتون اور 6 سال کی لڑکی کا قتل کرچکا تھا ، اس قاتل لڑکے سے پوچھا گیا کہ تمہیں ایک 6 سال کی لڑکی کو قتل کرتے ہوئے ترس نہیں آیا تو قاتل نے جواب دیا کہ جب میں لڑکی کو جانتا ہی نہیں تو اس سے ہمدردی کا اظہار کیوں کروں۔ ریسرچ اسکالرس نے کم عمر قاتلوں کی دوسری درجہ بندی “Sexual identity conflict Murderers کے طور پر کی ۔ اس زمرہ کے قاتل زیادہ تر ایسے بچے تھے جو جسمانی طور پر خود اعتمادی سے محروم تھے اور جنہیں لڑکی ہونے یا نسوانی عادتوں کا طعنہ دیا جاتا تھا اور یہ بچے ایسے گھروں سے خاندانوں تعلق رکھتے تھے جہاں باپ کے مقابل ماں حاوی رہتی تھی اور باپ خاموش رہتا تھا ۔
یونیورسٹی آف ساؤتھرن کیلی فورنیا کے نفسیات کے پروفیسر سارنف اے میڈنک کے مطابق کم عمر بچوں میں جرائم اور قتل کی طرف رغبت کے لئے کسی دوسرے کے مقابل خاندان کے عوامل زیادہ کارگر ہوتے ہیں۔ جن گھروں میں والد شراب نوشی کر کے اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں وہ بچے بھی تشدد ، جرائم اور قتل و غارت گیری کیلئے جلد آمادہ ہوجاتے ہیں اور جن خاندانوں میں بچوں کی صحیح نگہداشت کا نظم نہیں ہوتا یا والدین کو اپنی دمہ داری کا احساس نہیں ہوتا ۔ وہاں پر بچے جلد جرائم کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بدلتے ہوئے حالات میں بچوں کی صحیح تربیت اور ان کی تربیت کے مراحل میں درپیش چیالنجس سے نہ صرف آگاہ رہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی ہوتے ہی اس کے سدباب کیلئے اقدامات کریں۔ میڈیا کی یہ اکا دکا خبریں بہت بڑے طوفان کی پیش قیاس کر رہی ہیں۔ کیا ہم اس طرح کے طوفان کا سامنا کرنے تیار ہے ۔ ذرا سوچئے گا۔ اے رب العالمین تو ہم سب کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کا سامان کرنے والا بنا ۔ آمین ۔
دیکھئے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنا
مجھ کو طوفان کی خبر دیدہ تردیتے ہیں
sarwari829yahoo.com

TOPPOPULARRECENT