Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی… لکھنو یونیورسٹی کی مسلم طالبہ سامعہ احمد نے بنائی تاریخ

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی… لکھنو یونیورسٹی کی مسلم طالبہ سامعہ احمد نے بنائی تاریخ

 

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں عوام کی اکثریت فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ میں یقین رکھتی ہے لیکن جس طرح ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے اسی طرح مٹھی بھر فرقہ پرست جماعتیں اور تنظیمیں ہمارے ملک میں مذہب کی بنیاد پر عوام کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کررہی ہیں۔ مختلف بہانوں سے فسادات برپا کرتے ہوئے وہ اپنے سیاسی سماجی اور مذہبی مفادات حاصل کرلیتے ہیں۔ آج کل مرکز میں نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے کی حکومت ہے۔ مودی نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں بشمول بی جے پی (آر ایس ایس کا سیاسی ونگ) وشواہندو پریشد، بجرنگ دل، رام سینا کے علاوہ شیوسینا وغیرہ وغیرہ ہندوتوا کے نام پر فرقہ وارانہ صورتحال کو بگاڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔ تبدیلی مذہب، گھرواپسی، لوجہاد اور ذبیجہ گائو کے بہانوں سے یہ تنظیمیں فرقہ پرستی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ ان کا اصل نشانہ مسلمان اور عیسائی ہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں امتیازی سلوک اور تعصب برتے جانے کی شکایات عام ہیں۔ ملک میں آزادی سے قبل سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب کافی بہتر تھا لیکن آج سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب گھٹ کر 2 تا 4 فیصد ہی رہ گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان اس نا انصافی اور فرقہ پرستی کا مقابلہ کیسے کریں؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ مسلمان حصول علم کے ذریعہ ہی نہ صرف فرقہ پرستی بلکہ غربت ، بیروزگاری اور تعلیمی پسماندگی کا کامیاب مقابلہ کرسکتے ہیں۔ تعلیم ہی ایک ایسا شعبہ ہے جو تعصب و جانبداری کے علاوہ فرقہ پرستی و ناانصافی اور علاقائی عصبیت کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہے اگر مسلمان تعلیم کو اپنا ہتھیار بنائیں تو فرقہ پرست خود اپنے ہاتھوں سے ان کے گلے میں میڈلس ڈالنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ جیساکہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے کہ تعلیم فرقہ پرستی کے خلاف موثر ہتھیار ہے اور وہ ہر قسم کی برائی کا خاتمہ کرتی ہے۔ چنانچہ اس ہتھیار کو اپناتے ہوئے لکھنو یونیورسٹی کی ایک مسلم طالبہ سامعہ احمد نے ایم ایس سی (ریاضی) میں 12میڈلس حاصل کرتے ہوئے جہاں اپنے والدین اور ملت کا نام روشن کیا وہیں فرقہ پرستوں کو بھی اس کی تعریف و ستائش کرنے پر مجبور کردیا ۔ ساتھ ہی سامعہ نے ہندوستانی خواتین و طالبات کو یہ پیام بھی دیا ہے کہ طالبات ٹھان لیں تو کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ انہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لکھنو یونیورسٹی کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد (کانوکیشن) میں غیر معمولی  تعلیمی مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات میں تقریباً 192 میڈلس تقسیم کئے گئے۔ ان میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں، ایم ایس سی (میاتھمیٹکس)میں 12 میڈلس (11 گولڈ اور ایک برانز میڈل) حاصل کرتے ہوئے مسلم طالبہ سامعہ احمد ساری یونیورسٹی کی ٹاپر رہیں۔

جلسہ تقسیم اسناد میں بار بار سامعہ احمد کا نام پکارے جانے پر حاضرین حیران رہ گئے جن میں مرکزی وزیر مسٹر ہرش وردھن اور الہ آباد یونیورسٹی کے چانسلر گورنرمسٹر رام نائک بھی شامل ہیں ۔ یہ دونوں آر ایس ایس کے ارکان ہیں جو مسلمانوں کی شدید مخالفت کیلئے اقطاع عالم میں بدنام ہے تاہم سر پر اسکارف اوڑھے سامعہ بار بار ڈائس پر پہنچتی اور ان کے ہاتھوں میڈلس پہنتی تو نہ صرف رام نائک بلکہ ہرش وردھن کے چہروں پر مسکراہٹ کھل اٹھتی اور ان کی مسکراہٹوں میں شاید یہ سوال ہوگا کہ آیا مسلم لڑکیاں اتنی ہونہار  ہوتی ہیں ؟ سامعہ نے یہ ثابت کردیا کہ مسلمانوں میں ذہین طلبہ کی کمی نہیں ہے ۔ جنوری کے اوائل میں لکھنو یونیورسٹی نے میڈلس جیتنے والے طلباء و طالبات کے ناموں کی فہرست جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ان میں 72 فیصد طالبات ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندوستان کی اس سب سے بڑی اور سیاسی لحاظ سے کافی اہم ریاست میں لڑکیاں تعلیمی لحاظ سے لڑکوں کی بہ نسبت بہت آگے ہیں۔ جہاں تک سامعہ کا سوال ہے اس ہونہار طالبہ نے 85.5 نمبرات حاصل کرتے ہوئے 12 میڈلس حاصل کئے۔ میڈلس حاصل کرنے کے معاملہ میں دوسرے مقام پر قدیم تاریخ کے مضمون سے ایم فل کرنے والے ارون کمار رہے۔ انہوں نے 71.9 فیصد نمبرات حاصل کئے۔

اس ذہین طالبعلم کو 9 میڈلس عطا کئے گئے۔ ایم ایس سی فزکس کے ٹاپر اجیندر سنگھ نے 77.2 فیصد نمبرات حاصل کئے ۔ انہیں 7 میڈلس ملے۔ قانون کی طالبہ امبیکا مہرو ترہ کے گلے میں 6 میڈلس ڈالے گئے۔ اس طالبہ نے قانون کے امتحانات میں 70 فیصد نشانات حاصل کرتے ہوئے ٹاپر کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ملک کے مسلمانوں میں ایک تعلیمی انقلاب برپا ہوا ہے۔ 1990ء کے بعد سے مختلف دیاستوں میں جہاں مسلمانوں نے اہم تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا وہیں نئی نسل حصول علم کی طرف راغب ہوئی ہے۔ خاص طور پر مسلم لڑکیاں لڑکوں کی بہ نسبت تعلیمی شعبہ میں غیر معمولی مظاہرہ کررہی ہیں۔ جس طرح سامعہ احمد نے ایم ایس سی (میاتھس) میں 12 میڈلس حاصل کرتے ہوئے لکھنو یونیورسٹی میں ایک تاریخ رقم کی اسی طرح 2007-8 میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایک باحجاب طالبہ ثمیہ نے ایم بی بی ایس میں 12 میڈلس حاصل کرتے ہوئے ملک کی باوقار یونیورسٹی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک نئی تاریخ بنائی تھی۔ برقعہ پوش ثمیہ جلسہ تقسیم اسناد میں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور وپرو کے صدرنشین عظیم پریم جی کے علاوہ دیگر مہمانوں و ماہرین تعلیم کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی۔ اس وقت ڈاکٹر ثمیہ نے پرزور انداز میں کہا تھا کہ حجاب کبھی بھی ان کے حصول علم اور کامیابی کے درمیان حائل نہیں ہوا۔ وہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی گرلز ہائی اسکول کی جماعت پنجم میں داخلہ لیا تھا اور پھر اس یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔ ایم بی بی ایس فائنل امتحانات کی تیاری کے دوران وہ ماں بھی بنی لیکن کوئی بھی چیز ان کی تعلیمی تیاری میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ بہرحال سامعہ احمد اور ثمیہ جیسی ذہین طالبات نے اپنے شاندار تعلیمی مظاہرہ کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ مسلم بچوں میں ذہانت اور صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ صرف انہیں صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے۔ سامعہ احمد نے لکھنو یونیورسٹی میں ایک نئی تاریخ رقم کرکے علامہ اقبال کے اس شعر
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
کی حقیقی تصویر پیش کی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT