Wednesday , August 22 2018
Home / شہر کی خبریں / ذیابیطس کی پانچ اقسام ہوتی ہیں، سائنس دانوں کا بیان

ذیابیطس کی پانچ اقسام ہوتی ہیں، سائنس دانوں کا بیان

حیدرآباد 4 مارچ (ایجنسیز) سائنس دانوں نے کہاکہ ذیابیطس کی پانچ اقسام ہوتی ہیں۔ انھوں نے ذیابیطس سے متاثرہ اشخاص کی ازسرنو درجہ بندی کی ایک میڈیکل جرنل ’’دی لانسیٹ ڈئیبیٹس اینڈ اکرینولوجی‘‘ میں شائع ایک رپورٹ میں یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہاکہ پرسنلائزڈ علاج اور پیچیدگیوں کے تدارک کے لئے صحیح تشخیص پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ فی الوقت اس مرض کودو ذیلی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں ٹائپ کا پتہ عام طور پر بچپن میں چلتا ہے اور اس کے کیسیس تقریباً 10 فیصد ہوتے ہیں۔ ٹائپ 2 ذیابیطس سے موٹاپے سے متاثرہ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ایسے اشخاص کو اندھے پن، گردہ کے ناکارہ ہونے اور امراض قلب کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں کی گئی اسٹڈی میں ریسرچرس نے 18 تا 97 سال عمر کے ذیابیطس سے متاثرہ 13,270 مریضوں کی تفصیلات حاصل کیں۔ انھوں نے ذیابیطس کی پانچ اقسام کی نشاندہی کی جن میں تین شدید اور دو ہلکے قسم کی ہوتی ہیں۔ شدید قسم کی ذیابیطس سے متاثرہ افراد میں انسولین مزاحم ایک گروپ کو جس میں خلیات مؤثر طور پر انسولین کا استعمال نہیں کرپاتے ہیں گردہ کے مرض کا بہت جوکھم ہوتا ہے۔ اس گروپ کو نئے ڈائگناسٹک سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ ایک اور گروپ جو اس مرض کی پیچیدگیوں سے متاثر ہوتا ہے نسبتاً نوجوان ہوتا ہے اسی طرح ایک اور گروپ ہوتا ہے جو اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے اور مرض شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔ دیگر دو گروپس میں لوگ ذیابیطس کی ہلکی قسم سے متاثر ہوتے ہیں اور اس طرح کے مریضوں کا جلد علاج کرنے سے وہ اس کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT