Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / رئیل اسٹیٹ بل سے عوام کو فائدہ ممکن اور شفافیت کا بھی امکان

رئیل اسٹیٹ بل سے عوام کو فائدہ ممکن اور شفافیت کا بھی امکان

مرکزی وزارت شہری ترقیات سے نئی قانون سازی، خرید و فروخت پر چیک کا تبادلہ یقینی
حیدرآباد 11 مارچ (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے روشناس کروائے گئے رئیل اسٹیٹ بِل سے عوام کو فائدہ حاصل ہوگا اور رئیل اسٹیٹ شعبہ میں شفافیت پیدا ہونے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ رئیل اسٹیٹ بِل 2015 ء کو گزشتہ یوم راجیہ سبھا میں منظوری حاصل ہونے کے بعد رئیل اسٹیٹ شعبہ میں پائی جانے والی دھاندلیوں اور عدم شفافیت کا خاتمہ ممکن ہوگا اور انہی بنیادوں پر مرکزی حکومت کو اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ مرکزی وزارت شہری ترقیات کی جانب سے کی گئی اِس نئی قانون سازی کے مطابق مقررہ وقت میں تعمیرات مکمل نہ کرنے والی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اِس بِل میں خرید و فروخت کے مکمل رقومات کا بذریعہ چیک تبادلہ کو یقینی بنانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ اسی طرح شعبہ میں جو بے نامی سرمایہ کاری ہوا کرتی تھی اُسے روکنے کے بھی متعدد اقدامات کئے گئے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ فی الحال رئیل اسٹیٹ شعبہ میں 70 فیصد ایسی سرمایہ کاری موجود ہے۔ لیکن اب اِس شعبہ میں بے نامی سرمایہ کاری یا بغیر بینک کے لین دین کی گنجائش باقی نہیں رہے گی اور مرکزی حکومت کی جانب سے اِس قانون کو بہتر انداز میں نافذ کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے جائیں گے۔ اِس قانون کے نفاذ میں مرکزی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا اور مذہب، ذات پات اور خطہ، جنس سے بالاتر ہوکر کارروائی کی جائے گی اور ہر کسی پر اِس قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا۔ مسٹر وینکیا نائیڈو مرکزی وزیر شہری ترقیات نے اس سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ رئیل اسٹیٹ شعبہ کو فروغ دینے کے علاوہ اس میں محفوظ سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لئے تمام اجازت ناموں کے حصول کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور اِن اجازت ناموں کے حصول کے لئے سنگل ونڈو سسٹم شروع کیا جائے گا۔ بِل کی خلاف ورزیوں کی صورت میں 3 سال تک قید کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور خریداروں کی جانب سے اگر کوئی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ایک سال تک کی قید کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھاریٹی کے آغاز کے ذریعہ تمام رقمی لین دین پر خصوصی نگاہ رکھی جائے گی اور رہائشی و تجارتی پراجکٹس کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اسی طرح ٹریبونل کے قیام کے ذریعہ مقدمات کی یکسوئی اندرون 60 یوم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی شکایات کا اندرون 60 یوم جائزہ لیتے ہوئے اُن کی یکسوئی کی جاسکے۔ سابق میں اِس مسئلہ کے حل کیلئے 90 دن کی گنجائش فراہم کی گئی تھی جس میں 30 دن کی تخفیف کردی گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا بِل شعبہ میں شفافیت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT