Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / رئیل اسٹیٹ تجارت میں انحطاط ، آئندہ چند برسوں تک صورتحال میں تبدیلی کا امکان نہیں

رئیل اسٹیٹ تجارت میں انحطاط ، آئندہ چند برسوں تک صورتحال میں تبدیلی کا امکان نہیں

سرمایہ داروں کا سرمایہ کاری سے گریز ، معاشی ابتر صورتحال سے منفی اثرات
حیدرآباد۔11اکٹوبر (سیاست نیوز) رئیل اسٹیٹ شعبہ میں جاری انحطاط کے سبب مکانات کی خرید وفروخت پر کافی منفی اثر دیکھا جانے لگا ہے اور آئندہ چند برسوں کے دوران صورتحال میں کوئی تبدیلی کے آثار نہیں ہیں اسی وجہ سے رئیل اسٹیٹ شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی دلچسپی میں کمی دیکھی جانے لگی ہے جو کہ شعبہ کی تیز رفتار ترقی میں گراوٹ کا سبب بن رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ گذشتہ 6تا 8 برسوں سے رئیل اسٹیٹ میں تنزلی کا شکار رہا ہے لیکن اس کے باوجود غیر مقیم ہندستانی شہری اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے ذریعہ اس شعبہ کو مستحکم کئے ہوئے تھے اور مقامی افراد اور رئیل اسٹیٹ تاجرین علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد رئیل اسٹیٹ شعبہ کی حالت میں سدھار کی توقع کر رہے تھے اور ان توقعات کے مطابق 2014 کے بعد رئیل اسٹیٹ شعبہ میں ایک سال تک زبردست اچھال دیکھا گیا لیکن اس کے بعد سے بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی لیکن اس مرتبہ صرف ریاست تلنگانہ یا آندھرا پردیش میں رئیل اسٹیٹ شعبہ متاثر نہیں ہے بلکہ ملک بھر کی تمام ریاستوں میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہوتا جا رہا ہے اور تاجرین کے علاوہ مکانات کی فروخت کے خواہشمندوں کو بھی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر کے اہم شہروں کا جائزہ لینے پریہ بات سامنے آئی ہے کہ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد ملک میں معاشی ابتری کی جو صورتحال پیدا ہوئی اس کے سبب رئیل اسٹیٹ شعبہ متاثر ہونے لگا ہے اور کمپنیو ں میں ملازمین کی تخفیف کے اثرات بھی اس شعبہ پر نظر آنے لگے ہیںکیونکہ ملازمتوں سے اخراج کے خوف میں مبتلاء خانگی ملازمین جائیدادیں خرید نہیں رہے ہیں اور جو ملازمین ملازمت سے محروم ہو چکے ہیں انہوں نے جو جائیدادیں خریدی ہیں ان جائیدادوں کے اقساط ادا کرنے کے موقف میںنہیں ہیں۔ نئی جائیدادوں کی فروخت کے سلسلہ میں بتایا جاتاہے کہ جائیدادوں کی قیمتوں میں آئے اچھال کے سبب متوسط تجارتی طبقہ جائیدادیں خریدنے کے موقف میں نہیں ہے جبکہ ملازم طبقہ جائیداد کی خریدی سے خائف ہے۔ اس کے علاوہ بینک سے قرضہ جات کے حصول کے ذریعہ جائیداد خریدنے کی کوشش کرنے والے بھاری ڈاؤن پے منٹ کے سبب قرض کے حصول سے اجتناب کرنے لگے ہیں اور یکساں اقساط کے نام پر ابتداء میں صرف سود وصول کئے جانے کے نتیجہ میں اصل رقومات کی ادائیگی میں ہونے والی مشکلات سے پریشان بینک کے ذریعہ جائیداد خریدنے سے کترا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جائیدادوں کی قیمت میں تیزی سے اضافہ نہ ہونے کے سبب جائیدادوں کی خریدی میں دلچسپی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔ ماہرین رئیل اسٹیٹ کا ماننا ہے کہ ہندستان کے 10شہروں میں گذشتہ 6تا7 برسوں سے نئے مکانات کی تعمیر و فروخت میںسست رفتاری دیکھی جا رہی ہے اور اس رفتار میں بہتری کی توقعات میں بتدریج ہونے والی گراوٹ شعبہ کو پریشان کئے ہوئے ہے ۔ اس کے منفی اثرات نہ صرف رئیل اسٹیٹ شعبہ کے تاجرین کے علاوہ اپنے مکانات کی فروخت کرنے والے مالکین کو بھی اپنی جائیدادوں کی فروخت میں دشواریاں پیش آنے لگی ہیں۔ ہندستانی شہرو ںاحمدآباد ‘ بنگلورو‘ چندی گڑھ‘ چینائی‘ حیدرآباد‘ کولکتہ‘ ممبئی میٹرو پولیٹین ریجن‘ دہلی نیشنل کیپیٹل ریجن‘ اور پونے میں کئے گئے اس سروے کے انکشافات سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ جائیدادوں کی خریدی ٹھپ ہوچکی ہے اور جائیداد کے خریداروں نے کرایہ کے ذریعہ ہونے والی کم آمدنی کے سبب بھی جائیدادوں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ ترک کرنا شروع کردیا ہے جس کے سبب جائیدادوں کی قیمتوں میں کمی آنے لگی ہے۔

TOPPOPULARRECENT