Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی دائرہ میں لانے پر غور

رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی دائرہ میں لانے پر غور

آئندہ ماہ نومبر میں جی ایس ٹی اجلاس میں فیصلہ کا امکان
حیدرآباد۔15اکٹوبر (سیاست نیوز) حکومت ہند رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں لانے کے سلسلہ میں آئندہ ماہ کے اوائل میں منعقد ہونے والے جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں مذاکرات کا آغاز کرے گی اور اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں لایا جانا چاہئے یا نہیں؟ ہندستان میں رئیل اسٹیٹ شعبہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سب سے زیادہ خطیر رقم کے تبادلہ ہوتے ہیں لیکن اس شعبہ کو جی ایس ٹی میں شامل نہ رکھے جانے کے سبب کئی سوالات اٹھائے جانے لگے تھے ان سوالات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ آئندہ جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس یعنی 9نومبر کو گوہاٹی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور صورتحال پر تبادلہ خیال و تمام ریاستوں کی رائے سے آگہی حاصل کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ کو ٹیکس سے بچانے کے لئے کی جانے والی سرمایہ کاری سر فہرست شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس شعبہ کو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر رکھے جانے پر ہونے والے اعتراضات کے خاتمہ کیلئے حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور کہا جا رہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں لانے سے رئیل اسٹیٹ میں کی جانے والی سرمایہ کاری بھی ٹیکس کے دائرہ میں شامل ہوگی اور اخراجات و آمدنی کے حساب میسر آئیں گے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بلڈر برادری کی جانب سے رئیل اسٹیٹ شعبہ کو اس زمرہ میں شامل کیا جانا شعبہ کی حالت کو مزید ابتر کرنے کے مترادف ثابت ہوگا کیونکہ اس شعبہ میں کی جانے والی سرمایہ کاری گذشتہ ایک برس سے ٹھپ ہے اور اگر جی ایس ٹی کے دائرہ میں رئیل اسٹیٹ کو لایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں خریدار اور بیچنے واہلے پر اضافی بوجھ عائد ہوگا۔محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے فی الحال اس مسئلہ کا جائزہ لیا جائے گا کہ جی ایس ٹی میں رئیل اسٹیٹ کو کس طرح سے شامل کیا جائے اگر اس مسئلہ کی یکسوئی ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں قیمت اور ٹیکس کی حد مقرر کی جائے گی ۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت نے رئیل اسٹیٹ تجارت اور تعمیراتی اشیاء و دیگر پر جی ایس ٹی کے علحدہ علحدہ زمرے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور مجموعی قیمت یعنی تیار سیکنڈ ہینڈ جائیدادوں کی فروخت کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی اور ان کے استعمال کے امور پر بھی جی ایس ٹی کے نفاذ کا ذہن تیار کرلیا ہے۔جی ایس ٹی کے گزشتہ اجلاس کے دوران حکومت نے کئی اشیاء پر جی ایس ٹی شرح میں کمی کردی تھی۔ جن اشیاء پر قبل ازیں 28% جی ایس ٹی نافذ کیا گیا تھا ، اسے گھٹا کر 12% کردیا اور جہاں 12% ٹیکس نافذ کیا گیا تھا ، اس میں تخفیف کرتے ہوئے 5% کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT