Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / رئیل اسٹیٹ شعبہ کی جی ایس ٹی دائرہ میں شمولیت

رئیل اسٹیٹ شعبہ کی جی ایس ٹی دائرہ میں شمولیت

جائیدادوں کی خرید و فروخت شدید متاثر، مستقبل قریب میں صورتحال مزید خطرناک ہونے کے خدشات

حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں شامل کئے جانے کے بعد جائیدادوں کی خرید و فروخت زبردست متاثر ہوگی اور رئیل اسٹیٹ شعبہ مزید گراوٹ کا شکار بنتا چلا جائے گا۔شہر حیدرآباد کے علاوہ ملک کے تیزی سے ترقی پذیر شہروں میں بھی رئیل اسٹیٹ گذشتہ ایک برس کے دوران شدید متاثر ہوا ہے اور اب جبکہ حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں شامل کئے جانے کا منصوبہ تیا ر کیا جا رہا ہے تو ایسی صورت میں حالات اور خراب ہوں گے ۔رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد جو کہ شہر ی علاقوں میں سرمایہ کاری کئے ہوئے جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کا انتظار کر رہے تھے ان کیلئے جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد مزید ابتر حالات کا سامنا رہے گا کیونکہ جی ایس ٹی میں رئیل اسٹیٹ کو شامل کئے جانے کے بعد خریدار اور مالک جائیداد دونوں کی آمدنی کے افشاء کے علاوہ ذرائع آمدنی بتانے کا عمل شروع ہوگااور جی ایس ٹی ادا شدنی ہوگا اسی لئے اب ضرورتمندوں کی جانب سے بھی جائیدادوں کی خریداری کے رجحان میں کمی دیکھی جائے گی اور سرمایہ کاری کی غرض سے جائیدادیں خریدنے والوں کی تعداد میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جا چکی ہے ۔رئیل اسٹیٹ شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران جائیدادوں کی قیمتو ںمیں ایک مرتبہ پھر سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگے گی اور یہ سلسلہ طویل مدت تک جاری رہ سکتا ہے کیونکہ گذشتہ 4ماہ کے دوران جن تجارتی شعبہ جات کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے ان کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے اور ابھی کوئی امکان بھی نہیں ہے کہ وہ شعبہ جات میں کوئی سدھار آئے گا اور اگر اب رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی دائرہ کا ر میں لایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پہلے سے ہی جائیدادوں کی قیمتوں میں گراوٹ کے سبب پریشانی کا شکار رئیل اسٹیٹ شعبہ مزید گراوٹ کا شکار ہوجائے گا اس کے اثرات انفرادی جائیدادوں کی خرید و فروخت پر بھی مرتب ہونے لگیں گے۔بتایاجاتاہے کہ ریاست تلنگانہ کی جانب سے جی ایس ٹی کونسل میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں شامل کرنے کے سلسلہ میں مشروط آمادگی ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ریاست کو اسٹامپ ڈیوٹی سے ہونے والی آمدنی میں کمی نہ ہونے پائے۔

TOPPOPULARRECENT