Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / رئیل اسٹیٹ شعبہ کی دوڑ میں آندھرا پردیش نے تلنگانہ کو پیچھے چھوڑ دیا

رئیل اسٹیٹ شعبہ کی دوڑ میں آندھرا پردیش نے تلنگانہ کو پیچھے چھوڑ دیا

تلنگانہ میں صرف رنگا ریڈی اور حیدرآباد میں اچھی سرگرمیاں۔ آندھرا میں تقریبا تمام اضلاع میں رجسٹریشن مالیہ وصولی میں بہتری

حیدرآباد 27 اگسٹ ( سیاست نیوز ) تقسیم ریاست کے ایک سال کے بعد دونوں ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں رئیل اسٹیٹ مارکٹ میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور اسٹامپس و رجسٹریشن محکمہ کے مالکیہ میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ تلنگانہ ریاست میں حالات قدرے بہتر ہوئے ہیں جبکہ یہاں علیحدہ ریاست کیلئے احتجاج کے دوران سیاسی غیر یقینی کیفیت کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ٹھپ ہوگیا ہے ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حالات میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور برانڈ حیدرآباد کا اثر برقرار ہے ۔ تاہم حیرت انگیز طور پر آندھرا پردیش ریاست اس معاملہ میں تلنگانہ سے بہت آگے نکل گئی ہے ۔ آندھرا پردیش ریاست میں بے طرح مسائل ہیں جہاں معاشی بحران ہے ‘ اس کا اپنا کوئی دارالحکومت نہیں ہے ‘ یہاں انفرا اسٹرکچر کا فقدان ہے جبکہ حیدرآباد میں بہترین انفرا اسٹرکچر ہے اور یہاں جائیداد کی اہمیت بھی بہت ہے اس کے باوجود جتنی جائیدادوں اور اراضیات کی رجسٹریشن آندھرا پردیش میں ہوئی ہے وہ تلنگانہ سے کہیں زیادہ ہے ۔ آندھرا پردیش میں رئیل اسٹیٹ مارکٹ تلنگانہ کی رئیل اسٹیٹ مارکٹ سے بہت آگے دکھائی دے رہی ہے ۔ آندھرا پردیش میں جملہ 1,239.29 کروڑ روپئے کا مالیہ حاصل ہوا ہے جبکہ جولائی 2015 تک کیلئے یہ نشانہ 1,172 کروڑ روپئے مقرر کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں اراضیات و جائیدادوں کے رجسٹریشن سے جملہ 1,008.45 کروڑ روپئے کا مالیہ حاصل ہوا ہے ۔ جغرافیائی اور اربن ٹاؤنس کے اعتبار سے تلنگانہ سے آندھرا پردیش بہت آگے ہے ۔ آندھرا پردیش کو حالانکہ بحیثیت مجموعی 3,000 کروڑ روپئے مالیہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن سال 2015 – 16 کے پہلے سہ ماہی میں اسٹامپس اور رجسٹریشن محکمہ سے ہونے والی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم تلنگانہ کے اضلاع میں صرف رنگا ریڈی اور حیدرآباد کو چھوڑ کر دوسرے اضلاع میں اس محکمہ کی آمدنی بہت کم رہی ہے ۔ رنگا ریڈی میں 408 کروڑ روپئے اور حیدرآباد میں 215 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ اس کے برخلاف آندھرا پردیش میں اس کے تمام اضلاع میں رجسٹریشن میں بہترین آمدنی ہو رہی ہے ۔ وشاکھا پٹنم کو آندھرا کا آئندہ آئی ٹی مرکز سمجھا جارہا ہے اور وہاں رجسٹریشن سے سب سے زیادہ 204 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے جو ریاست کی جملہ آمدنی کا 17 فیصد ہے ۔ کرشنا ضلع میں 171.6 کروڑ اور گنٹور میں 161 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ شمالی آندھرا کے اضلاع سریکا کلم اور وجیا نگرم میں بھی اس محکمہ کو زبردست آمدنی ہو رہی ہے ۔ یہاں گرین فیلڈ ائرپورٹ کے قیام کا منصوبہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT