Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / رائلسیما عوام کے حقوق کیلئے ایک اور تحریک

رائلسیما عوام کے حقوق کیلئے ایک اور تحریک

سابق وزیر اور تلگودیشم لیڈر ٹی جی وینکٹیش کا انتباہ

سابق وزیر اور تلگودیشم لیڈر ٹی جی وینکٹیش کا انتباہ

حیدرآباد 5 فبروری (سیاست نیوز)سابق وزیر مسٹر ٹی جی وینکٹیش نے جنہوں نے تقسیم آندھرا پردیش کے بعد کانگریس سے نکل کر تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرلی ہے حیدرآباد میں قیام پذیر آندھریائی باشندوں کے بارے میں متنازعہ بیان دے کر پھر ایک بار سنسنی پیدا کردی ہے ۔ کرنول ٹاون سے وابستہ چرب زبان سیاستداں مسٹر وینکٹیش نے آج وجئے واڑہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ چندرا شیکھر راو کے خلاف یہ ریمارک کیا کہ ممکن ہیکہ وہ حیدرآباد میں مقیم آندھریائی باشندوں کو ہراسان کرنے کی مدافعت کریں گے لیکن ہراسانی سے خوفزدہ ہوکر آندھریائی باشندے حیدرآباد نہیں چھوڑیں گے متنازعہ سیاستداں نے دو قدم آگے بڑھ کر چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کو بھی گھیرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وجئے واڑہ میں دارالحکومت کے قیام کی کوششوں پر ساحلی علاقہ کے عوام ناراض ہیں ۔ آندھرا پردیش کے نئے دارالحکومت کے کرنول میں قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پر 30,000 ایکڑ اراضیات حکومت کیلئے دستیاب ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ رائلسیما عوام کے حقوق کی حفاظت کیلئے تحریک چلانے سے پس و پیش نہیں کریں گے اور جب اہوں نے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کی تھی اس وقت چندرا بابو نائیڈو کو مطلع کردیا تھا ۔ حیدرآباد میں سرکاری عمارتوں کو منہدم کرکے جدید تعمیرات کیلئے چیف منسٹر کے سی آر کے منصوبہ پر تلگودیشم لیڈر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تلنگانہ حکومت کے پاس اضافی بجٹ موجود ہے جس کے باعث یہ’ توڑ پھوڑ‘کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تلنگانہ کے پاس اس قدر دولت ہیکہ اسے ہضم نہیں ہورہا ہے دوسری طرف آندھرا پردیش کے پاس فنڈس کی قلت سے فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے ۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ آندھرا پردیش کوقرض دینے کی پیشکش کرے ۔

TOPPOPULARRECENT