Wednesday , September 19 2018
Home / سیاسیات / رائے دہندوں کو راغب کرنے پارٹیاں سوشیل میڈیا کی جانب متوجہ

رائے دہندوں کو راغب کرنے پارٹیاں سوشیل میڈیا کی جانب متوجہ

ممبئی ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات کیلئے آن لائن مہم چلا کر جو زبردست کامیابی حاصل کی تھی، دیگر پارٹیوں کو بھی اس سے تحریک ملی ہے اور وہ بھی اسمبلی انتخابات کیلئے سوشیل میڈیا کے ذریعہ مہم کو مؤثر بنانے کوشاں ہیں جن میں سب سے آگے این سی پی ہے جو سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنی 15 سالہ خدمات اور ترقیاتی کاموں سے عوام

ممبئی ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات کیلئے آن لائن مہم چلا کر جو زبردست کامیابی حاصل کی تھی، دیگر پارٹیوں کو بھی اس سے تحریک ملی ہے اور وہ بھی اسمبلی انتخابات کیلئے سوشیل میڈیا کے ذریعہ مہم کو مؤثر بنانے کوشاں ہیں جن میں سب سے آگے این سی پی ہے جو سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنی 15 سالہ خدمات اور ترقیاتی کاموں سے عوام کو واقف کروانا چاہتی ہے۔ دریں اثناء پارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر روی کانت ورپے نے کہا کہ وہ اب یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ نوجوان ووٹرس تک رسائی کیلئے سوشیل میڈیا سے اچھا کوئی اور متبادل نہیں۔ آج ہندوستان کی آبادی کا 55 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے لہٰذا این سی پی نوجوانوں تک رسائی حاصل کرنے سوشیل میڈیا کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرے گی۔ ٹی وی کے ذریعہ جو تشہیر ہورہی ہے وہ پارٹی کے جھوٹے پروپگنڈے ہیں۔ کئی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتی ہیں کہ فلاں فلاں پارٹی کے دورحکومت میں ترقیاتی کام نہیں کئے گئے

اور فلاں فلاں ریاست معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ ہیں لیکن حقیقت صرف عوام ہی جانتے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ کس نے کیا کیا۔ مسٹر ورپے نے کہا کہ ہمارے اشتہارات کے ذریعہ ہم یہی بتائیں گے کہ مہاراشٹرا میں گذشتہ 10 سالوں کے دوران کتنی ترقی ہوئی۔ دوسری طرف بی جے پی سوشیل میڈیا حکمت عملی کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتی ہے جہاں ایک الیکشن کمیٹی ’’وار روم‘‘ (جنگی کمرہ) بھی تیار کیا گیا ہے جو ہفتہ کے ہر روز 24 گھنٹوں تک کارکرد رہتا ہے اور پارٹی میں پائی جانے والی نت نئی تبدیلیوں کو اپنے ووٹرس کو بذریعہ ایس ایم ایس بھیجنے کے کام میں مصروف رہتا ہے۔ لہٰذا فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ کا استعمال ان دنوں بی جے پی امیدوار بڑے زوروشور سے کررہے ہیں۔ بی جے پی ترجمان اتل شاہ نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہیکہ ہم سوشیل میڈیا کا استعمال اس سے بھی زیادہ مؤثر انداز میں کریں جتنا ہم نے لوک سبھا انتخابات کے دوران کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT