Tuesday , January 23 2018
Home / Top Stories / رائے دہندے بیوقوف نہیں ہیں، راہول گاندھی کے تبصرے پر ردعمل

رائے دہندے بیوقوف نہیں ہیں، راہول گاندھی کے تبصرے پر ردعمل

امرتسر 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) راہول گاندھی کی نریندر مودی سے عوام کو ’’بیوقوف بنانے‘‘ کی کوشش ترک کردینے کی خواہش پر برہم بی جے پی نے آج کہاکہ اگر رائے دہندے کانگریس کے خلاف ووٹ دیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ’’اُلّو‘‘ ہیں۔ بی جے پی کے سینئر قائد ارون جیٹلی نے جنھیں امرتسر میں سخت مقابلہ کا سامنا ہے، کہاکہ راہول گاندھی کو تسل

امرتسر 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) راہول گاندھی کی نریندر مودی سے عوام کو ’’بیوقوف بنانے‘‘ کی کوشش ترک کردینے کی خواہش پر برہم بی جے پی نے آج کہاکہ اگر رائے دہندے کانگریس کے خلاف ووٹ دیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ’’اُلّو‘‘ ہیں۔ بی جے پی کے سینئر قائد ارون جیٹلی نے جنھیں امرتسر میں سخت مقابلہ کا سامنا ہے، کہاکہ راہول گاندھی کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ عوام کانگریس پر برہم ہیں۔ 121 پارلیمانی حلقوں میں آج رائے دہی ہورہی ہے۔ ہندوستان کا تقریباً نصف حصہ 2014 ء کے عام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرے گا۔ اُن کے رجحان کیا ہیں؟ تیسرا محاذ یا وفاقی محاذ اپنا آغاز بھی نہیں کرسکا۔ کانگریس بہت پیچھے ہے۔ ارون جیٹلی نے کہاکہ راہول گاندھی کو عوام کی کانگریس سے برہمی تسلیم کرلینا چاہئے۔ وہ اُلّو نہیں ہیں صرف اِس لئے کہ وہ کانگریس کے خلاف ووٹ استعمال کررہے ہیں، اُنھیں اُلّو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہاکہ ناکامی کے امکانات کی وجہ سے کانگریسی قائد اپنے اخلاق کھوچکے ہیں اور جو لوگ کانگریس کے خلاف اپنا ووٹ استعمال کررہے ہیں اُن کے پاس اِس کی اہم وجوہات ہیں۔ برہم رائے دہندہ راہول گاندھی کے تبصرے کی تعریف میں نہیں آتا۔ کل ایک انتخابی جلسہ میں راہول گاندھی نے کہا تھا کہ مودی جی ہندوستان کو اُلّو بنانا چھوڑ دیجئے۔ ارون جیٹلی نے دعویٰ کیاکہ این ڈی اے واحد اتحاد ہے جس کے حکومت تشکیل دینے کے امکانات ہیں۔ علاوہ ازیں مخالف حکومت رجحانات جو یو پی اے کے خلاف ہیں، عوامی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جو نریندر مودی کی تائید میں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عام ہندوستانی کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ ایک مستحکم حکومت کا قیام ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس کا واضح جواب یہ ہے کہ بی جے پی اور این ڈی اے کی مدد کرکے ہی رائے دہندے مستحکم حکومت یقینی بناسکتے ہیں۔ جیٹلی نے کہاکہ اِس تبصرہ کا خیرمقدم کیاکہ مرکز کی آئندہ حکومت مثبت ایجنڈے پر عمل آوری کرے گی۔ انتقامی سیاست پر نہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان تبدیل ہورہا ہے، لوگ بے چین ہیں۔

مختلف طبقات کے درمیان خلیج گہری ہوتی جارہی ہے۔ لوگ ایسے نظام میں جینے کی اُمید رکھتے ہیں جو اُن کی زندگی کے معیار میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ نئی نسل تعلیم، ملازمت، مکان، حفظان صحت اور صفائی کے انتظامات چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ سیاست ایک ایسا نظام قائم کرے جو مختلف فریقین کے درمیان فرق و امتیاز کے بغیر یہ تمام سہولتیں فراہم کرے۔ بی جے پی کی ترجمان میناکشی لیکھی نے کہاکہ وہ راہول گاندھی کو یاد دلانا چاہتی ہیں کہ اقتدار کھو دینے کا خوف اُن کے اخلاق کو بگاڑنے کی وجہ نہیں ہونا چاہئے۔ بی جے پی کے تمام کارکنوں کو ملک کے رائے دہندوں کی دانشمندی پر یقین ہے۔ انھوں نے کہاکہ بی جے پی واقف ہے کہ ملک کے برہم رائیدہندے تبدیلی چاہتے اور تبدیلی کا راستہ کنول کا پھول ہے۔ آج کی رائے دہی سے ملک کے رائے دہندوں کے رجحان کا پتہ چل جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT