Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / راتوں میں غیر مجاز سوئمنگ پولس سے نوجوانوں میں بگاڑ

راتوں میں غیر مجاز سوئمنگ پولس سے نوجوانوں میں بگاڑ

بعض مقامات پر حقہ سنٹرس بھی قائم ، والدین سرپرستوں کو تشویش لاحق
حیدرآباد۔19اپریل (سیاست نیوز) پولیس نے شہر حیدرآباد کے نوجوانوں کے سدھار اور ان میں راتوں کو جاگتے ہوئے آوارہ گردی سے روکنے کے لئے چند ماہ قبل چبوترہ مشن کے نام سے کامیاب مہم چلائی تھی۔ ساؤتھ زون پولیس کی اس مہم کے مثبت نتائج بھی برآمد ہو رہے تھے اور والدین و سرپرستوں کی جانب سے اس مہم کی سراہنا بھی کی جا رہی تھی لیکن اچانک پولیس کی جانب سے چبوترہ مشن روک دیئے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر حالات جوں کے توں ہو چکے ہیں۔ شہر و نواحی علاقوں میں چلائے جانے والے سوئمنگ پول موسم گرما کے سبب ان نوجوانوں کے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ ان سوئمنگ پولس کو پو لیس یا بلدیہ کے جانب سے اجازت نامہ حاصل نہیں ہے اس کے باوجود ان شوئمنگ پولس میں نوجوانوں کا اژدھام رہنے لگا ہے۔ رات بھر یہ سوئمنگ پول کھلے رہنے کے سبب نوجوانوں کی سرگرمیاں سوئمنگ پولس میں کافی بڑھ چکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کی گہما گہمی سے دور یہ سوئمنگ پول نہ صرف نوجوانوں کی تفریح کے مراکز بنے ہوئے ہیں بلکہ ان مقامات پر حقہ سنٹرس بھی چلائے جا رہے ہیں۔گزشتہ ماہ آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم کی سوئمنگ پول میں تیراکی کے دوران موت واقع ہونے کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ محکمہ پولیس کے جانب سے غیر مجاز سوئمنگ پولس کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیاجس کے سبب والدین و سرپرستوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کے بموجب شہر میں بلدیہ کی جانب سے چلائے جانے والے سوئمنگ پول میں نہ صرف ماہر پیراک موجود ہوتے ہیں بلکہ ہنگامی حالات میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے غوطہ زنی سے واقف ماہرین کو بھی متعین کیا جاتا ہے جو بچوں کو تربیت دینے کے ساتھ ان کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح خانگی سوئمنگ پول چلانے کیلئے بھی جو شرائط ہیں ان میں غوطہ زن کی تعیناتی اور ماہر پیراکوں کی خدمات کا حصول شامل ہے۔ خانگی سوئمنگ پول چلانے والوںکا کہنا ہے کہ شہر میں تفریحی مقامات کی ضرورت کو وہ پورا کر رہے ہیں۔جبکہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو یہ سہولتیں فراہم کرے۔ نوجوان بھی سوئمنگ پول چلانے والے ذمہ داروں کی حمایت کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے سوئمنگ پول میں داخلہ نہ ملنے کے سبب وہ ان سوئمنگ پول میں پیراکی کے ذریعہ شوق پورا کرتے ہوئے تفریح حاصل کر رہے ہیں۔ بعض شہری ان سوئمنگ پول کو بہتر بھی تصور کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہیکہ اگر یہ سوئمنگ پول نہ ہوتے تو نوجوان تالابوں کا رخ کرتے اسی لئے ان سوئمنگ پولس کے خلاف کاروائی کے بجائے انہیں باقاعدہ بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہیئے اور انہیں مراعات فراہم کرتے ہوئے ترقی دی جانی چاہیئے ۔ سوئمنگ پول کے ذمہ دار بھی اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ رات کے اوقات میںصبح کی اولین ساعتوں تک سوئمنگ پول کھلا رکھنا درست نہیں ہے لیکن رات کے اوقات میں ہجوم زیادہ ہونے کے سبب وہ بھی مجبور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT