راتوں میں ٹھیلہ بنڈیوں کے کاروبار میں اضافہ بے تحاشہ

حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں سڑک کے کنارے فروخت ہونے والی اشیائے خورد و نوش پر کنٹرول کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی غیر واضح پالیسی کے سبب دونوں شہروں کی اہم سڑکوں پر رات دیر گئے تک بھی اشیائے خورد و نوش فروخت کئے جارہے ہیں اور پولیس کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے فائدہ اٹھاتے

حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں سڑک کے کنارے فروخت ہونے والی اشیائے خورد و نوش پر کنٹرول کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی غیر واضح پالیسی کے سبب دونوں شہروں کی اہم سڑکوں پر رات دیر گئے تک بھی اشیائے خورد و نوش فروخت کئے جارہے ہیں اور پولیس کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھیلہ بنڈیوں پر اڈلی ، دوسہ وغیرہ فروخت کرنے کے اس کاروبار سے اب دولت مند با اثر طبقہ بھی وابستہ ہونے لگا ہے جو کہ ملازمین کو رکھتے ہوئے اس کاروبار کے دریعہ خوب دولت بٹور رہے ہیں ۔ ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار ہونے کے باعث مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے فوڈ انسپکٹرس ان تجارتی مراکز پر توجہ نہیں دے رہے ہیں لیکن شہر کے بیشتر علاقوں میں تیز رفتاری کے ساتھ ان ٹھیلہ بنڈیوں کا اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اب تک غریب عوام ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرتے ہوئے اسے ذریعہ معاش بنایا کرتے تھے لیکن اب شہر میں بااثر افراد جن کے پولیس و دیگر محکمہ جات میں رسوخات ہیں ان ٹھیلہ بنڈیوں پر فروخت کی جانے والی اشیاء خورد و نوش کے مراکز میں زبردست سرمایہ کاری کرتے ہوئے خود دولت بٹورنے لگے ہیں

چونکہ ان ٹھیلہ بنڈیوں پر ہونے والی کسی آمدنی پر کوئی محصولات عائد کیا جانا دشوار ہوتا ہے ۔ اور نہ ہی کوئی سرکاری اخراجات ان پر عائد ہوتے ہیں مگر ان ٹھیلہ بنڈی پر فروخت کئے جانے والے اشیاء خورد و نوش کے مراکز پر ایک غیر قانونی بوجھ ہوتا ہے اور اس بوجھ تلے یہ تجارتی ادارے خود نہیں دبتے بلکہ رات کے اوقات میں اضافی قیمت کی وصولی کے ذریعہ گاہک پر بوجھ عائد کرتے ہیں محکمہ پولیس کے اہلکاروں کے بموجب اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے نئے شہر میں موجود ان خورد و نوش کے مراکز کو فراہم کردہ راحت کی بنیاد پر ہر کوئی شہر کے ہر حصہ میں اسی طرح کے تجارتی ادارے راحت کے اوقات میں چلانے کی کوشش کررہا ہے ۔ اسی طرح مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب رات دیر گئے ان تجارتی سرگرمیوں پر پولیس خود خاموش ہے تو پھر بلدیہ کیا کرسکتی ہے اور ہاں جہاں تک معیاری تغذیہ کا معاملہ ہے اس مسئلہ پر شکایت موصول ہونے پر کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ان دو محکمہ جات کے علاوہ ان ٹھیلہ بنڈیوں پر کاروبار کرنے والوں کی جانب سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے محکمہ اوزان و پیمائش کو بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے چونکہ فٹ پاتھ و ٹھیلہ بنڈیوں پر چلائے جانے والے ان اڈلی ، دوسے کے علاوہ چائنیز فوڈ کارنرس پر قیمتیں بھی من مانی وصول کی جاتی ہیں ۔ جس سے گاہک کے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT