Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / رات کے وقت نوجوانوں کی بائیک ریسنگ ، والدین و سرپرست روکنے پر توجہ دیں

رات کے وقت نوجوانوں کی بائیک ریسنگ ، والدین و سرپرست روکنے پر توجہ دیں

خطرناک حادثات ممکن ، راہگیروں کے لیے بھی خطرہ ، پولیس کی دلچسپی میں کمی سے نوجوانوں کے حوصلے بلند
حیدرآباد۔6اپریل (سیاست نیوز) رات کے اوقات میں نوجوانو ںکو بائیک ریس سے روکنے کے لئے والدین کو ہی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے کیونکہ سڑکوں پر نوجوانوں کی رفتار بے ڈھنگی کوروکنا پولیس یا ذمہ دار شہریوں کے اختیار کی بات نہیں ہے اور اس طرح کی کوئی کوشش انہیں انتہائی خطرناک حادثہ کا شکار بنا سکتی ہے اسی لئے پولیس اہلکار یا ذمہ دار شہری بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے جبکہ یہ اوباش نوجوان جو راتوں کے وقت اپنی بائیک کو 80تا120کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شہر کی سڑکو ں پر دوڑاتے ہیں انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کتنے بڑے خطرہ سے کھیل رہے ہیں۔ دونوں شہرو ںمیں رات کے وقت بائیک ریس کے رجحان میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ دیکھا جانے لگا ہے اورایسے معصوم نوجوان اس بائیک کا ریس کا حصہ بنے ہوئے ہیں جو جوانی کے جوش میں یہ فراموش کردیتے ہیں کہ انہیں گھر واپس بھی جانا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر رات کے وقت پیش آنے والے حادثات میں موٹر سائیکل سوار ہی حادثہ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور خواہ غلطی کسی کی ہو نقصان موٹر سیکل سوار کا ہی ہوتا ہے اسی لئے نوجوانوں کو ایسی موٹر سائیکل دلانے سے گریز کرنا چاہئے جو نہ صرف ان کیلئے بلکہ دوسرے راہگیروں کے لئے خطرہ کا باعث بنتی ہیں اور جن نوجوانوں کے پاس ایسی موٹر سیکلیں ہیں انہیں احتیاط اور سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کی نادانی نہ صرف انہیں بلکہ دوسرے سڑک پر چلنے والوں کے لئے بھاری نقصان کا سبب بن سکتی ہے ۔ رات کے اوقات میں پرانے شہر کے علاوہ شہرکی کئی سنسان سڑکوں اور مصروف ترین سڑکوں پر بھی بائیک ریس کی جانے لگی ہے جو کہ انتہائی خطرناک کھیل ہے تاہم اس کھیل کو روکنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ نوجوان نسل کو ان کے والدین ہی اس لعنت سے بچانے کے اقدامات کرسکتے ہیں۔ محکمہ پولیس کی جانب سے آؤٹر رنگ روڈ پر بائیک ریس کرنے والے نوجوانو ںکو حراست میں لئے جانے کے واقعات کے بعد ریس کا یہ مشغلہ جوبلی ہلز اور مادھاپور پہنچ گیا تھا لیکن جوبلی ہلز چوراہے پر پولیس کی جانب سے سخت چوکسی اختیار کئے جانے کے بعد کچھ وقت کے لئے یہ سرگرمیاں مسدود ہوگئیں تھیں لیکن اب بائیک ریس کی یہ سرگرمیاں شہر کے مختلف علاقوں تک وسعت حاصل کرگئی ہیںاو ران سرگرمیوں کو روکنے کے کئے فی الفور محکمہ جاتی اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ رات کے اوقات میں کی جانے والی یہ بائیک ریس صرف ان نوجوانوں کے لئے خطرناک ثابت نہیں ہو رہی ہے بلکہ سڑک سے گذرنے والے بھی ان کی اس ریس کے سبب حادثات کا شکار ہونے لگے ہیں۔ذرائع کے بموجب بندلہ گوڑہ‘ شمس آباد‘ پہاڑی شریف‘ سنتوش نگر ‘ مدھانی ‘ اور چارمینار کی مصروف ترین سڑک پر بھی رات دیر گئے ریس کی جانے لگی ہیں اور اس کے لئے مخصوص گروپس کے درمیان مقابلہ منعقد ہورہے ہیں اور جب کوئی نوجوانوں کا گروپ تیز رفتار گاڑیاں دوڑاتے ہوئے نکلتا ہے تو انہیں روکنے کی کوشش اس لئے بھی نہیں کی جاتی کہ کہیں روکنے کی کوشش کے دوران یہ حادثہ کا شکار نہیں ہوجائے۔ محکمہ پولیس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک ذمہ داران اور والدین و سرپرست ان بچوں کو نہیں روکتے یہ نوجوان نہ صرف خود کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں بلکہ دوسروں کیلئے بھی خطرہ بننے لگے ہیں۔اسی لئے حکام سے قبل والدین اپنے اس فریضہ کو ادا کرتے ہوئے نوجوانو ںکو اس بات کا پابند بنانے کی کوشش کریں کہ وہ دوسروں کیلئے تکلیف کا سبب نہ بنیں۔

TOPPOPULARRECENT