Thursday , June 21 2018
Home / ادبی ڈائری / راجا وینکٹ راما ریڈی ، کوتوال بلدہ عمدہ کارگزاری کا اعتراف

راجا وینکٹ راما ریڈی ، کوتوال بلدہ عمدہ کارگزاری کا اعتراف

آرکائیوز کے ریکارڈ سے ڈاکٹر سید داؤد اشرف

آرکائیوز کے ریکارڈ سے ڈاکٹر سید داؤد اشرف
راجا بہادر وینکٹ راما ریڈی کو توال بلدہ، ریاست حیدرآباد کے ان گنے چنے عہدیداروں میں سے ایک تھے جن کی ملازمت میں عمدہ کارکزاری کی وجہ سے ریاست حیدرآباد کے آخری حکمران نواب میر عثمان علی خان آصف سابع نے طویل مدت کے لئے توسیع دی تھی۔ وینکٹ راما ریڈی مستعد، فرض شناس اور ڈسپلن کے پابند تھے۔ انہیں اچھے اور کامیاب ایڈمنسٹریٹر کے طور پر نیز نمایاں سماجی و فلاحی خدمات کی انجام دہی کی وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔

وینکٹ راما ریڈی 16 اردی بہشت 1279 ف م، 27 مارچ 1870ء کو دیہات راین پیٹھ، سمستان ونپرتی، ضلع محبوب نگر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کی تکمیل پر انہوں نے امین (سب انسپکٹر) کی خدمت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔ انہوں نے محکمہ جات پولیس، مال اور عدلیہ کے امتحانات امتیاز سے کامیاب کئے اور سخت محنت و اچھی کارکردگی کے باعث اعلیٰ عہدوں پر ترقیاں پائیں۔ عماد جنگ ثانی کوتوال بلدہ (سرنظامت بہادر کے چچازاد بھائی) کی سفارش پر وینکٹ راما ریڈی ان کے اول مددگار مقرر کئے گئے۔ جب عماد جنگ کا انتقال ہوا تو آصف سابع نے اس اہم منصب پر ان کا انتخاب کیا اور وہ 19 اردی بہشت 1329ء ف م، 23 مارچ 1920 ء کو رجوع بہ خدمت ہوئے۔ وہ اس عہدے پر زائد از 14 برس کارگزار رہے۔ وینکٹ راما ریڈی کو 55 سال کی عمر کی تکمیل پر ملازمت سے سبکدوش نہیں کیا گیا۔ آصف سابع نے انہیں کوتوال بلدہ کی حیثیت سے 9 سال 3 ماہ کی توسیع دی۔ ان کے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہونے پر آصف سابع نے انہیں صرف خاص میں اسپیشل آفیسر مقرر کیا۔

وینکٹ راما ریڈی ان عہدیداروں میں سے ایک تھے جن پر آصف سابع کو مکمل اعتماد تھا۔ آصف سابع نے متعدد بار ان کی اچھی کارگزاری پر خوشنودی کا اظہار کیا۔ ان کی اہم ترین خدمات کے اعتراف میں آصف سابع نے اپنی سالگرہ رجب 1348ء کے موقع پر انہیں راجا بہادر کا خطاب دیا۔ انہیں حکومت برطانوی ہند کی جانب سے بھی او بی ای (آرڈر آف برٹش) ایمپائر) کا خطاب ملا۔ شہر میں امن و ضبط کے اچھے انتظامات کی وجہ سے حکمران اور عوام راجا بہادر سے خوش تھے۔ ان کے کام کرنے کے انداز کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ تنازعات کو خواہ وہ حکومت اور عوام کے مابین ہوں یا عوام کے آپسی تنازعات ہوں، قانونی کارروائیوں کی بجائے افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کرنا چاہتے تھے۔

جہاں تک امن وضبط کی برقراری اور قانون کی حکمرانی کا تعلق ہے۔ اس زمانے میں ریاست حیدرآباد میں وزیراعظم (صدراعظم) کے بعد سب سے زیادہ اختیارات کوتوال بلدہ کو حاصل تھے۔ اس عہدے کا تعلق انسپکٹر جنرل پولیس یا کسی وزیر (صدر المہام) سے نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا تعلق ریاست حکمران سے ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وینکٹ راما ریڈی کو کوتوال بلدیہ کی حیثیت سے ہر روز آصف سابع کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنی پڑتی تھی۔ ان کی کوتوالی کے دور میں شہر میں خفیہ پولیس کا انتظام (جاسوسی نظام) بہت موثر اور کارکرد تھا۔ جوش ملیح آبادی دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ میں ملازمت کے سلسلے میں 1924ء تا 1934ء حیدرآباد میں مقیم تھے۔ انہوں نے اپنی خود نوشت ’’یادوں کی برأت‘‘ میں حیدرآباد سے اخراج کے تحت لکھا ہے کہ حیدرآباد میں جاسوسی نظام بڑا سخت تھا۔ حیدرآباد میں جوش کے قیام کی دس سالہ مدت کے دوران وینکٹ راما ریڈی ہی کوتوال بلدہ تھے۔
پرنس آف ویلز، لارڈ ہارڈنگ، لارڈ ریڈنگ اور لارڈ ارون کے دورۂ حیدرآباد کے موقع پر راجا بہادر سکیورٹی انتظامات کے انچارج تھے۔ ان کے انتظامات کی بڑی ستائش ہوئی اور بیرونی مہمانوں نے ان کے انتظامات سے خوش ہوکر انہیں قیمتی تحائف دیئے۔

ان میں ہمدردی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ جب شہر میں انفلوانزا اور طاعون کی وباء پھیلی تھی تو انہوں نے نہ صرف مریضوں کے علاج کیلئے اپنی جیب سے پیسہ خرچ کیا بلکہ جان کو خطرہ میں ڈال کر تیمار داری بھی کی جس کی وجہ سے عوام کے دلوں میں ان کے لئے احترام اور محبت کا جذبہ پیدا ہوا۔
انہوں نے اپنی کمیونٹی کی فلاح اور تعلیمی ترقی کے لئے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اس راہ میں سارا مال و متاع خرچ کرڈالا۔ ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ زندگی کے آخر دنوں میں ان کے پاس علاج کیلئے اور انتقال پر آخری رسومات کی انجام دہی کیلئے پیسہ نہیں تھا۔

آصف سابع نے ابتداء میں ایک سے زیادہ بار وینکٹ راما ریڈی کی ملازمت میں توسیع منظور کی۔ اس بارے میں انہوں نے ایک موقع پر اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ بار بار ان کی ملازمت میں توسیع دینے سے دوسروں کے حقوق پر اثر پڑ رہا ہے، لٰہذا توسیع شدہ مدت کے ختم پر انہیں سبکدوش ہونا پڑے گا لیکن وہ اپنے اس فیصلے پر قائم نہیں رہے۔ تنظیم جدید کوتوالی بلدیہ کی اسکیم کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ھی۔ دوبار وائسرے ہند، شہر حیدرآباد کا دورہ کرنے والے تھے۔ ان موقعوں پر عمدہ سکیورٹی انتظامات درکار تھے۔ نیز ملک میں انتشار اور گڑبڑ کا دور دورہ تھا جس کے اثرات ریاست حیدرآباد پر بھی پڑ رہے تھے۔ اس موقع پر شہر میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو یقینی بنانا تھا۔ ان حالات میں آصف سابع، وینکٹ راما ریڈی جیسے نہایت کارکرد اور وسیع تجربہ رکھنے والے عہدیدار کو ملازمت میں برقرار رکھنا ضروری سمجھتے تھے چنانچہ آصف سابع نے ان حالات کا خیال کرتے ہوئے اپنی تحریری رائے کے برخلاف راجا بہادر کی مدت ملازمت میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھا۔

آندھرا پردیش اسٹیٹ آرکائیوز کی ایک مسل سے اخذ کردہ مواد کی بنیاد پر ذیل میں راجا وینکٹ راما ریڈی کی ملازمت میں توسیع کی سرکاری کارروائی کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے جس سے اس بارے میں تفصیلات کا علم ہوتا ہے۔
راجا بہادر وینکٹ راما ریڈی 27 مارچ 1925ء کو پچپن سال کے ہوچکے تھے لیکن انہیں سبکدوش کرنے کی بجائے ان کی ملازمت میں توسیع دی گئی۔ راجا بہادر توسیع شدہ مدت کے ختم ہونے پر اپریل 1928ء میں وظیفے پر سبکدوش ہونے والے تھے کہ صدر المہام (وزیر) پولیس (کرنل ٹرنچ) نے فروری 1928ء میں ان کی ملازمت میں ایک سالہ توسیع کی سفارش کی تحریک کی۔ انہوں نے یہ سفارش اس وجہ سے کی تھی کہ اس وقت کوتوالی بلدہ کی تنظیم جدید کی جو اسکیم زیرغور تھی، راجا بہادر ہی اس کے لئے موزوں تھے۔ ان کی اس تحریک کی باب حکومت (کابینہ) نے تائید کی۔ باب حکومت کی جانب سے اس بارے میں ایک عرضداشت آصف سابع کی خدمت میں روانہ کی گئی جس پر آصف سابع نے فرمان مورخہ 7 رمضان 1346ھ م 29 فروری 1928ء کے ذریعہ ان کی ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع منظور کی۔ اس فرمان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی ملازمت میں بار بار توسیع دینے سے دوسروں کے حقوق پر اثر پڑتا ہے، اس لئے اس توسیع کی مدت ختم ہونے پر انہیں اپنی خدمت سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔

چونکہ صدر المہام کوتوالی رخصت پر جانے والے تھے اور ان کی واپسی سے قبل راجا بہادر کی توسیع شدہ مدت ختم ہونے والی تھی، اس لئے ان سے قبل ان کے جانشین کے تقرر کا مسئلہ طئے پاجانا مناسب تھا، چنانچہ اس سلسلے میں باب حکومت کی جانب سے ایک عرضداشت آصف سابع کی خدمت میں روانہ کی گئی جس پر آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 15 ذی قعدہ 1346ھ م 6 مئی 1928ء یہ حکم جاری کیا کہ صدر المہام کوتوالی کے رخصت سے واپس ہونے تک وینکٹ راما ریڈی کوتوال بلدہ کا کام کرتے رہیں۔ صدر المہام کوتوالی کی رخصت سے واپسی کے بعد باب حکومت نے یہ قرارداد منظور کی کہ راجا بہادر کے جانشین کے طور پر سیکنڈ حیدرآباد ایمپیریل سرویس لانسرس کے کرنل عظمت اللہ اللہ نہایت موزوں شخص ہیں لیکن اس بارے میں آصف سابع کی خدمت میں عرضداشت روانہ کرنے سے قبل ہی ان کا فرمان مورخہ 15 جمادی الثانی 1347ھ م 28 نومبر 1928ء جاری ہوا کہ وہ راجا بہادر کی جانشینی کے مسئلہ پر غور کررہے ہیں، اس بارے میں تصفیہ ہونے تک وہی حسب حال کام کرتے رہے۔ بعدازاں جب باب حکومت نے راجا بہادر کی جگہ کرنل عظمت اللہ کے تقرر کی منظوری کے لئے عرضداشت پیش کی تو آصف سابع نے کرنل عظمت اللہ کے تقرر کی منظوری دینے کی بجائے فرمان مورخہ 7 رمضان 1347ء م 18 فروری 1929ء کے ذریعہ راجا بہادر کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع منظور کی۔ یہ توسیع تنظیم جدید کوتوالی بلدہ کی اسکیم کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت نیز وائسرے ہند لارڈ ارون کے دورۂ حیدرآباد کے پیش نظر دی گئی تھی۔ راجا بہادر کی ملازمت میں فروری 1930ء تک توسیع مل چکی تھی۔ اس دوران کرنل عظمت اللہ کا انتقال ہوگیا۔ اس لئے باب حکومت نے اس مسئلہ پر غور کیا کہ راجا بہادر کی سبکدوشی کے بعد ان کا جانشین کون ہوگا۔ باب حکومت نے مارچ 1930ء میں آصف سابع کی خدمت میں ایک عرضداشت پیش کی جس میں کہا گیا کہ کوئی موزوں مقامی عہدیدار دستیاب نہیں ہے اور بیرون ریاست سے کسی شخص کی خدمات حاصل کرنا مناسب نہ ہوگا۔ اس لئے آصف سابع اس مسئلہ سے متعلق پالیسی کے بارے میں احکام صادر کریں۔ آصف سابع نے اس مسئلہ کو اس طرح حل کیا کہ فرمان مورخہ 10 شوال 1348ھ م، 12 مارچ 1930ء کے ذریعہ راجا بہادر کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع مرحمت کی جس کی رو سے انہیں فروری 1932ء تک توسیع ملی۔ راجہ بہادر کی اس دو سالہ توسیع کے ختم ہونے سے تقریباً آٹھ ماہ قبل باب حکومت نے یہ عرضداشت پیش کی کہ رحمت اللہ پولیس کی ٹریننگ حاصل کریں تاکہ وہ راجا بہادر کے وظیفے پر سبکدوش ہونے پر ان کے جانشین ہوں۔ آصف سابع نے فرمان مورخہ 25 صفر 1350ء م، 12 جولائی 1931ء کے ذریعہ عرضداشت کو منظوری دی۔ اس فرمان میں یہ کہا گیا کہ راجہ بہادر کی توسیع ختم ہونے پر رحمت اللہ کے تقرر سے متعلق غور کیا جائے گا۔

باب حکومت نے عرضداشت مورخہ 5 رمضان 1350ھ م 14 جنوری 1932ء کے ذریعہ رحمت اللہ کے بارے میں اپنی سابقہ سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا اعادہ کیا۔ اس پر آصف سابع نے فرمان مورخہ 7 رمضان، 1350ھ م 16 جنوری 1932ء کے ذریعہ اس بنیاد پر کہ ہندوستان میں چاروں طرف خلفشار مچا ہوا ہے ، جس کا اثر ہندوستانی ریاستوں پر پڑ رہا ہے اور عنقریب ریزیڈنسی علاقہ بھی ریاست کے علاقے میں آنے والا ہے۔ راجا بہادر کی ملازمت میں ختم دسمبر 1932ء تک توسیع منظور کی۔ اس کے علاوہ رحمت اللہ کو شریک کوتوال کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس توسیع شدہ مدت کے ختم ہونے سے قبل ہی آصف سابع نے فرمان مورخہ 14 جمادی الثانی 1351ھ، 15 اکتوبر 1932ء کے ذریعہ راجا بہادر کی ملازمت میں مزید ایک سال کی توسیع عطا کی۔ اس وقت چاروں طرف انتشار کا دور دورہ تھا اور موسم سرما میں وائسرے ہند کا دورۂ حیدرآباد طئے تھا۔ اس لئے راجا وینکٹ راما ریڈی کی سبکدوشی نامناسب سمجھی گئی۔ اسی فرمان میں یہ بھی کہا گیا کہ راجا بہادر دسمبر 1933ء تک خدمت سے ہٹ نہیں سکتے، البتہ اس کے بعد اس مسئلہ پر پھر غور کیا جائے گا۔
بعدازاں آصف سابع نے فرمان مورخہ 20 جمادی الاول 1352ء م،11 ڈسمبر 1933ء کے ذریعہ احکام جاری کئے کہ وائسرے کے دورے کے بعد راجہ بہادر اپنی خدمت کوتوالی بلدہ سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوجائیں گے۔ راجا بہادر کے سبکدوش ہونے سے ایک ہفتہ قبل باب حکومت نے ایک عرضداشت بطور اطلاع آصف سابع کی خدمت میں پیش کی جس میں کہا گیا کہ آصف سابع کے احکام کی تعمیل میں نواب رحمت یار جنگ (رحمت اللہ) راجا بہادر سے جائزہ حاصل کریں گے۔ اس عرضداشت پر آصف سابع کا جو فرمان مورحہ 12 رمضان 1352ھ م، 30 دسمبر 1933ء جاری ہوا، اس کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

’’گو ان کو اواخر دسمبر میں توسیع ختم کرکے جنوری میں ریٹائرڈ ہونا تھا تاہم بعض امورات کے مدنظر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ چھ ماہ مزید توسیع دی جائے جو جون 1934ء میں ختم ہوگی۔ اس کے بعد ان کے جانشین کے تقرر سے متعلق فرمان جاری ہوگا‘‘۔
بالآخر آصف سابع کے فرمان مورخہ 5 ربیع الاول 1353ھ م، 18 جون 1934ء کے ذریعہ راجا بہادر وینکٹ راما ریڈی یکم جولائی 1934ء کوتوال کے عہدے سے سبکدوش ہوئے اور رحمت یار جنگ نے ان سے خدمت کوتوالی کا جائزہ حاصل کیا۔
راجا بہادر کی خدمات کو آصف سابع بڑی پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آصف سابع نے ان کی ملازمت میں طویل مدت تک توسیع دینے کے علاوہ وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہونے پر انہیں صرفخاص میں اسپیشل آفیسر مقرر کیا تھا۔ اس ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد راجا بہادر کی ساری توجہ سماجی اور فلاحی خدمات پر مرکوز رہیں۔

ریاست حیدرآباد کی اس نامور شخصیت کا 83 برس کی عمر میں انتقال ہوا جسے بہت سی خوبیوں کے باعث مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ رہنمائے دکن مورخہ 4 مئی 1953ء کے مطابق وینکٹ راما ریڈی کا انتقال 3 مئی 1953ء کو ہوا۔ جلوس جنازہ میں چیف منسٹر، وزراء و ممتاز سرکاری اور غیرسرکاری افراد کی کثیر تعداد شریک تھی۔ آصف سابع نے راجا بہادر کے انتقال پر تعزیتی پیام روانہ کیا۔
ایم وانی نے عثمانیہ یونیورسٹی سے وینکٹ راما ریڈی پر ایم فل کیا ہے۔ وہ اپنے مقالے “Raja Bahadur Venkat Rama Reddy: A Study” میں لکھتے ہیں ’’وینکٹ راما ریڈی نے اپنے ذاتی فائدے کے لئے کبھی سرکاری عہدے کا استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں رکھا۔ جب وہ بیمار پڑے تو علاج کیلئے ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی تمام جائیداد کا ایک ٹرسٹ بنا دیا تھا جس کی آمدنی ان اداروں کو ملتی تھی جن کی انہوں نے زندگی بھر دیکھ بھال کی تھی اور جنہیں انہوں نے پروان چڑھایا تھا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو آخری رسومات کی انجام دہی کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے پڑے۔

TOPPOPULARRECENT