Wednesday , September 26 2018
Home / ہندوستان / راجسامند آشرم سے 67 لڑکیاں برآمد، ہومیوپیتھک دوائیں دینے کا انکشاف

راجسامند آشرم سے 67 لڑکیاں برآمد، ہومیوپیتھک دوائیں دینے کا انکشاف

جئے پور۔11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) غیر قانونی راجسامند آشرم سے برآمد کی گئیں 67 کمسن لڑکیوں کو تقریباً ایک ہفتہ بعد ریاست کی حقوق اطفال پیانل نے منگل کو کہا کہ مذکورہ بالا لڑکیوں کو روزانہ ہومیوپیتھک دوائیں اور چاکلیس آشرم کے عہدیدار دے رہے ہیں۔ راجستھان اسٹیٹ کمیشن برائے صیانت حقوق اطفال چیرپرسن منان چترویدی نے کہا کہ کچھ دوائیں اور چاکلیٹس ان سے ضبط کیے گئے جسے لیاب کو ٹسٹ کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ ان لڑکیوں کی عمریں 5 تا 16 سال کے درمیان ہے جن کا 16 ریاستوں اور نیپال سے تعلق ہے۔ یہ لڑکیاں راجسامند کیسے پہنچیں، یہ تحقیقات میں سب سے اہم ہے۔ ایک مضبوط، غیر قانونی نیٹ ورک ان لڑکیوں کو یہاں لانے اور پہنچانے میں ضرور ملوث ہے۔ منان چترویدی نے یہ باتیں بتائیں۔ حکام نے لڑکیوں کو مارنے کی اطلاعات کی بھی تردید کی جبکہ انہیں پیر کو ادئے پور منتقل کیا جارہا تھا۔ منفی رپورٹس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب ان لڑکیوں نے منتقلی پر خوشی دکھانے پر پولیس نے انہیں تھپڑ مارے، راجسامند کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منوج کمار نے کہا کہ لڑکیوں کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی گئی۔ بلکہ رکن چائلڈ ویلفیر کمیٹی بھاونا پالی وال نے کہا کہ وہ دراصل یہاں سے دوسرے مقام پر منتقل نہیں ہونا چاہتی تھیں اس لیے کچھ لڑکیوں کے غصہ میں پولیس ٹیم کو نہ دانتوں سے کاٹ دیا بلکہ حملہ بھی کیا۔ مزید برآں، انہوں نے لڑکیوں پر زور زبردستی کے الزام کا بھی ردکیا۔ چائلڈ ویلفیر کمیٹی (سی ڈبلیو سی۹ ممبر گجیندرا سنگھ نے کہا کہ اس کیس کے مزید حقائق سامنے آئیں گے جبکہ ان کی کونسلنگ کی جارہی ہے۔ تقریباً 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر باخبر ذرائع نے کہا کہ ’’خود ساختہ گوڈ مین ویریندرا دیوڈکشٹ کے ساتھ تعلقات کی بتاء پر ان لڑکیوں کو یہاں رکھا گیا تھا اس جنس کا آشرم میں دہلی میں چند ماہ قبل مہربند کیا گیا تھا۔ چترویدی نے کہا کہ حکام کی ترجیح لڑکیوں کو ان کے مقام پر واپس بھیجنا تھا۔

TOPPOPULARRECENT