Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / راجستھان ، جموں و کشمیر اور احمد آباد میں بھی گوشت کی فروخت پر امتناع

راجستھان ، جموں و کشمیر اور احمد آباد میں بھی گوشت کی فروخت پر امتناع

ممبئی جیسے شہر میں امتناع ناقابل عمل :ہائیکورٹ ، مودی گجراتی ہونے سے جین طبقہ کے حوصلے بلند:راج ٹھاکرے

جئے پور /  ممبئی / احمد آباد /  جموں /10  ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بڑے اور چھوٹے جانور کے گوشت پر امتناع کی لہر دیگر کئی ریاستوں تک پہونچ گئی ہے اور راجستھان ، جموں و کشمیر و گجرات میں بھی اسی طرح کی ہدایات جاری کی ہیں ۔ جبکہ ممبئی میں ہائیکورٹ نے یہ رولنگ دی ہے کہ میٹ کی فروخت پر امتناع ناقابل عمل ہے ۔ حکومت راجستھان نے /17 ، /18 اور /27 ستمبر کو تہواروں بشمول جین طبقہ کے تہوار کے پیش نظر میٹ (چھوٹے جانور کے گوشت) اور مچھلی کی فروخت پر امتناع کے احکامات جاری کئے ہیں ۔ تمام بلدی اداروں کے ذریعہ جاری کردہ سرکیولر میں ریاستی حکومت نے میٹ شاپس مالکین کو ہدایت دی ہے کہ وہ مذکورہ تین تواریخ کو اپنی دوکانات بند رکھیں ۔ ان احکامات کا اطلاق مسالخ پر بھی ہوگا ۔ جموں و کشمیر میں ہائیکورٹ نے بیف (بڑے جانور کے گوشت) کی فروخت پر امتناع کے احکامات جاری کئے جس پر مقامی افراد اور تنظیموں جیسے جماعت اسلامی و علحدگی پسند حریت کانفرنس میں شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن نے کہا کہ وہ اس حکم کو چیالنج کرے گا ۔

اسی طرح احمد آباد میں پولیس کمشنر شیو آنند جھا نے شہر میں آج سے شروع ہورہے جین طبقہ کے تہوار کے دوران ایک ہفتہ کیلئے مویشیوں جیسے گائے اور بکریوں کے کاٹنے پر امتناع کے احکامات جاری کئے ۔ انہوں نے عوامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مویشیوں بشمول گائے ، بھینس ، بیل ، نر گائے اور بکریوں کو کھلے علاقوں میں کاٹنے سے پرامن ماحول متاثر ہوگا اور جین طبقہ کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے ۔ یہ تہوار /10 سے /17 ستمبر تک منایا جارہا ہے ۔ تاہم اس اعلامیہ میں مسالخ میں جانوروں کے کاٹنے پر امتناع نہیں ہے ۔ اس دوران ممبئی میں سیاسی جماعتوں بشمول بی جے پی کی حلیف شیوسینا اور اپوزیشن ایم این ایس نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے ۔ ممبئی ہائیکورٹ نے بھی کہا کہ چار دن کیلئے جانوروں کے ذبیحہ اور گوشت کی فروخت پر امتناع ممبئی جیسے میٹروپولیٹین سٹی میں ناقابل عمل ہے ۔ جسٹس انوپ موہتا کی زیرقیادت ڈیویژن بنچ نے بمبئی مٹن ڈیلر اسوسی ایشن کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران یہ بات کہی جس میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی جانب سے چار دن /10 ، /13 ، /17  اور /18 ستمبر کو میٹ کی فروخت پر امتناع کے فیصلہ کو چیالنج کیا گیا ۔ ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے کہا کہ گجراتی وزیراعظم کی وجہ سے جین طبقہ خود کو حوصلہ مند محسوس کررہا ہے ۔ ٹھاکرے نے میٹ شاپ مالکین سے کہا ہے کہ وہ اپنی دوکانیں کھلیں رکھیں اور انہوں نے پارٹی کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کا تیقن دیا ۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ کیا اب جین یہ فیصلہ کریں گے کہ کیا کھانا چاہئیے اور نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے ۔ کیوں ایک مخصوص فرقہ اس طرح کے قواعد دوسروں پر مسلط کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کا تعلق گجرات سے ہے ۔ جین طبقہ میں ایک نئی ہمت آگئی ہے وہ دوسروں کے کھانے کے عادات و اطوار پر کنٹرول کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر دیویندر فرنویس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو صرف بیرونی ممالک کے دوروں سے دلچسپی ہے ۔

 

 

ممبئی میں بکرے کے گوشت کیخلاف پابندی پر تنازعہ میں شدت
شیوسینا نے نوٹسیں پھاڑ دیئے، نونرمان سرینا نے بطور احتجاج چکن اور میٹ فروخت کیا
ممبئی ۔ 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جین مت کی رسومات کی ادائیگی (پریوشن) کے دوران بکرے کے گوشت کی فروخت کے خلاف پابندی پر اختلافات شدت اختیار کر گئی ہیں جبکہ شیوسینا اور مہاراشٹرا نونرمان سینا نے پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا ہے۔ دوسری طرف بمبئی ہائیکورٹ نے بھی حکومت کے اقدامات کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ میٹرو پالیٹن شہر میں اس طرح کی پابندی قابل عمل نہیں ہوسکتی۔ راج ٹھاکرے کی زیرقیادت ایم این ایس نے مصروف ترین علاقہ دادر میں علامتی احتجاج کے طور پر ایک اسٹال پر چکن اور میٹ فروخت کیا جبکہ شیوسینا کارکنوں نے میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی کی چسپاں نوٹسوں کو پھاڑ دیا جس میں 18 ، 17، 13، 10 ستمبر کو 4 یوم کیلئے میٹ (بکرے کے گوشت) پر امتناع کا اعلان کیا گیا ہے۔ مذکورہ ایام میں جین برادری اشیائے خوردونوش کے استعمال سے پرہیز کرتی ہے۔ اس طرح کا امتناع متصل شہر میرا بھینڈر اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے حدود میں عائد کردیا گیا ہے۔ اگرچیکہ بی جے پی نے امتناعی احکامات کی مدافعت کی ہے لیکن اس کی حلیف شیوسینا کے علاوہ اس کی حریف ایم این ایس، کانگریس اور این سی پی نے مخالفت کی ہے اور یہ الزام عائد کیا کہ سال 2017ء کے اوائل میں منعقد ہونے والے MCGM انتخابات سے قبل بی جے پی، ایک مخصوص فرقہ کی دلجوئی کرتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔ شیوسینا سربراہ اودھو ٹھاکرے نے بتایا کہ ان کی پارٹی میٹ کی فروخت پر پابندی کو ناکام بنادے گی جبکہ مہاراشٹرا نونرمان سینا لیڈر راج ٹھاکرے نے کہاکہ پابندی کے ایام میں شہر ممبئی میں ان کی پارٹی خصوصی اسٹالس قائم کرکے بطور احتجاج گوشت فروخت کرے گی۔ تاہم بی جے پی لیڈروں نے امتناع کی مدافعت کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کیا کہ مخصوص ایام میں میٹ کی فروخت پر پابندی کی قدیم روایت ہے جس کیلئے پارٹی کی زیرقیادت حکومت کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ممبئی میٹ ڈیلرس اسوسی ایشن کی ایک عرضی پر ریاستی حکومت اور میونسپل کارپوریشن سے جواب طلب کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے ڈیویژن بنچ نے کہا کہ ممبئی جیسے متنوع شہر میں 4 دنوں کیلئے جانوروں کے ذبیحہ اور گوشت کے فروخت پر امتناع قابل عمل نہیں ہوسکتا۔ جسٹس انوپ کی زیرصدارت بنچ نے یہ سوال اٹھایا کہ چونکہ ممبئی ایک میٹرو پالیٹن شہر ہے اور میٹ پر مکمل پابندی عملاً ناممکن ہے اگر جانوروں کے ذبیحہ اور گوشت کی فروخت پر امتناع عائد کردیا جائے تو متبادل ذرائع کیا ہیں؟ اور مارکٹ میں دستیاب ڈبہ بند گوشت کا کیا ہوگا۔ عدالت نے اس معاملہ پر سماعت کو کل تک ملتوی کردیا اور یہ تجویز پیش کی کہ اگر جین برادری کو کھلے عام ذبیحہ اور دکانات پر فروخت سے مسئلہ ہے تو اس کے خلاف ہدایات جاری کی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT