Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / راجستھان : عوامی خدمت گذاروں کے تحفظ کیلئے متنازعہ بِل متعارف

راجستھان : عوامی خدمت گذاروں کے تحفظ کیلئے متنازعہ بِل متعارف

اپوزیشن کے اعتراض کے بعد اسمبلی سیشن دن بھر کیلئے ملتوی۔ گورنر سے نمائندگی کیلئے صدر پردیش کانگریس سچن پائلیٹ و دیگر کی کوشش ناکام بنادی گئی
جئے پور 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر راجستھان کانگریس سچن پائلیٹ اور کئی پارٹی قائدین کو پولیس نے آج یہاں کچھ دیر کے لئے حراست میں لیا جبکہ وہ ریاستی حکومت کے فوجداری قوانین ترمیمی بل کے خلاف جلوس نکالے ہی تھے۔ جب راجستھان اسمبلی کا سیشن دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا، کانگریس ارکان اسمبلی اور قائدین شہر کے جیوتی نگر ٹی پوائنٹ پر جمع ہوئے اور وہاں سے پائلیٹ راج بھون تک مارچ کی قیادت کرتے ہوئے فوجداری قوانین (راجستھان ترمیم) بِل 2017 ء کے خلاف نمائندگی گورنر کے حوالے کرنے والے تھے۔ جیسے ہی مارچ شروع ہوا ، پولیس نے پائلیٹ اور دیگر کانگریس قائدین کو روک لیا اور اُنھیں بجاج نگر پولیس اسٹیشن لے گئے۔ اُنھیں بعد میں رہا کردیا گیا۔ پائلیٹ نے رہائی کے بعد میڈیا والوں کو بتایا کہ ہم حکومت کو یہ بِل منظور کرنے نہیں دیں گے۔ ہم اِس کے پرزور مخالف ہیں۔ اگر حکومت ایوان میں اپنی اکثریت کو بروئے کار لاتے ہوئے اِس بل کو منظور کرالیتی ہے تو کانگریس اس کی تنسیخ کردے گی جب اُسے اقتدار حاصل ہوگا۔ کانگریس نے آج اسمبلی میں پیش کردہ اِس بل کی مخالفت شروع سے کی ہے، جو 7 ستمبر کو نافذ کردہ فوجداری قوانین (راجستھان ترمیم) آرڈیننس کی جگہ لینے والا ہے۔ یہ آرڈیننس ریاست میں برسر خدمت اور سابق ججوں، مجسٹریٹس اور عوامی خدمت گذاروں کے خلاف اُن کی ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران کسی کارروائی کے خلاف تحقیقات پیشگی منظوری کے بغیر نہ کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ یہ آرڈیننس میڈیا کو اس طرح کے الزامات کی رپورٹنگ سے بھی روکتا ہے تاوقتیکہ حکومت کی جانب سے تحقیقات کی منظوری نہ مل جائے۔ تاہم یہ آرڈیننس اور ریاستی حکومت کا آج اسمبلی میں متعارف کردہ بل صرف اپوزیشن کانگریس کے لئے ناقابل قبول نہیں بلکہ خود برسر اقتدار بی جے پی کے سینئر ایم ایل اے گھنشام تیواری نے بھی متعلقہ آرڈیننس کی مخالفت کی ہے۔ سچن پائلیٹ کا کہنا ہے کہ آرڈیننس محض اس لئے لاگو کیا گیا کیوں کہ چیف منسٹر وسندھرا راجے کو خدشہ رہا کہ وہ کرپشن کے سبب مشکل میں پڑسکتی ہیں۔ 200 رکنی راجستھان اسمبلی میں بی جے پی کے 160 ارکان ہیں، کانگریس کی عددی طاقت 24 جبکہ نیشنل پیپلز پارٹی کی 4 ، آزاد ارکان کی سات، بی ایس پی کی 2 اور نیشنل یونینسٹ زمیندار پارٹی کی دو ہے۔ ایک نشست خالی ہے۔ بی جے پی لیڈر تیواری نے بِل کی مخالفت میں کہاکہ یہ کالا قانون ہے اور میں اِس کے خلاف ہوں۔ یہ غیر جمہوری اور غیر دستوری ہے۔ لیکن مرکز نے اِس بل کی مدافعت کی ہے جیسا کہ مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف پی پی چودھری نے کہا ہے کہ ہر کسی کے مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا گیا یہ ’’متوازن‘‘ اقدام ہے۔ ریاستی حکومت نے بل کی مدافعت میں کہا ہے کہ ایسا کرنا ضروری ہوگیا تاکہ عوامی خدمت گذاروں کے خلاف غیر ضروری اور بیجا مقدمات کے سلسلے کو روکا جاسکے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس آرڈیننس کا واحد مقصد یہ ہے کہ لوگ سی آر پی سی کے سیکشن 156(3) کا بیجا استعمال نہ کرنے پائیں جو دیانت داری عہدیداروں کی ساکھ متاثر کرنے کے لئے ہوسکتا ہے۔ 2013 ء سے 2017 ء تک 73 فیصد افراد جن کے خلاف ضابطہ فوجداری کے دفعہ 156(3) کے تحت تحقیقات کی گئی، اُنھیں ذہنی اذیت کا سامنا ہوا حالانکہ وہ بے قصور ثابت ہوئے۔ تاہم جہدکار بھگوت گوڑ نے ہائیکورٹ کی جئے پور بنچ میں ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے اِس آرڈیننس کے جواز کو چیلنج کیا اور اِسے من مانی اقدام قرار دیا ہے۔ سیکشن 156 پولیس حکام کو قابل توجہ معاملے کی تحقیقات کا اختیار دیتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT