Saturday , December 15 2018

راجستھان میں اقتدار پر اندرون دس یوم کسان قرض معاف :راہول

پنجاب اور کرناٹک کی مثالوں کا حوالہ ۔ کانگریس ورکرس کو مودی یا وسندھرا کیخلاف
غلط زبان سے گریز کرنے کی تاکید ۔ گالی گلوج آر ایس ایس، بی جے پی کا شیوہ

جئے پور ، 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چناؤ والی ریاست راجستھان میں کسانوں اور نوجوانوں کو راغب کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج وعدہ کیا کہ اس ریاست میں اگر انھیں ووٹ دے کر برسراقتدار لایا جائے تو وہ دس یوم میں کسانوں کے قرض معاف کردیں گے اور کہا کہ کانگریس چیف منسٹرس روزانہ 18 گھنٹے کام کرتے ہوئے نوجوانوں کو نوکریاں حاصل کرنے میں مدد کریں گے۔ ضلع جیسلمیر کے اسمبلی حلقہ پوکھرن میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کانگریس ورکرس کو ’شیر‘ اور ’ببر شیر‘ قرار دیا اور کہا کہ انھیں بوتھس پر جدوجہد کرنا ہوگا مگر شائستگی سے جو آر ایس ایس اور بی جے پی ورکرس کا عمل نہیں ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ (لوگ) اس ریاست میں کانگریس پارٹی کی حکومت بنانے جارہے ہو۔ تشکیل حکومت کے اندرون دس یوم کانگریس ریاست کے کسانوں کے قرض معاف کردے گی۔ راہول نے کہا کہ انھوں نے یہی وعدہ پنجاب اور کرناٹک انتخابات میں بھی کیا تھا اور وہاں کانگریس کی حکومتوں نے کسانوں کے قرض معاف کئے ہیں۔ آپ پنجاب اور کرناٹک میں کسی بھی کسان کو فون کریں اور پوچھیں اور تصدیق کرلیں کہ آیا اُن کے قرضے کانگریس پارٹی نے معاف کئے ہیں یا نہیں۔ میں جھوٹے وعدے نہیں کرتا ہوں۔ جو کچھ میں، سچن پائلٹ یا اشوک گہلوٹ اس اسٹیج سے کہہ رہے ہیں، ہم وہ کام کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کا چیف منسٹر 18 گھنٹے فی یوم کام کرے گا اور نوجوانوں کو روزگار دلانے میں مدد کرے گا۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ مودی نے سرکردہ 15 صنعت کاروں کے 3.5 لاکھ کروڑ روپئے معاف کردیئے، انھوں نے کہا کہ ہم کروڑہا نوجوانوں کو لاکھوں میں قرض دیں گے۔ ہم نوجوانوں کو بینک لون دیں گے تاکہ وہ چھوٹے کاروبار، فیکٹریاں قائم کرسکیں اور ان سے دیگر کو نوکریاں دینے کیلئے کہیں گے۔ ان الزامات کی مرکز نے تردید کی ہے کہ وزیراعظم نے صنعت کاروں کے قرضے معاف کردیئے۔ راہول نے کہا کہ وہ صرف سچ کہیں گے اور ایسا وعدہ نہیں کریں گے جسے پوراہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے اور میرے درمیان رشتہ شفافیت کا ہونا چاہئے۔ سچائی سے کئی چیزیں کی جاسکتی ہیں۔ سچائی سے ہی کسانوں کا قرض معاف کیا جاسکتا ہے اور منریگا جیسی اسکیمات متعارف کرائی جاسکتی ہیں۔ انھوں نے وزیراعظم کو رافیل معاملت اور دیگر مسائل پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیف منسٹر وسندھرا راجے کو نشانہ بناتے ہوئے راہول نے کہا کہ انھوں نے ایک اشتہار میں بھرت پور کے ایک اسکول کے تعلق سے بات کی اور کہا کہ اسکول میں پنکھے، فرنیچر، پینے کا پانی، پلے گراؤنڈ وغیرہ ہیں لیکن جرنلسٹ وہاں گئے تو پایا کہ اسکول میں کچھ بھی نہیں، نہ پنکھا، نا پینے کا پانی۔ راہول نے کانگریس ورکرس کو یہ بھی کہا کہ وزیراعظم یا چیف منسٹر کے تعلق سے غلط زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کانگریس کے سپاہی ہو، نہ کہ آر ایس ایس یا بی جے پی ورکر۔ اخلاق کے ساتھ لڑئیے۔ کسی کے بھی لئے کوئی غلط لفظ استعمال نہ کیجئے، چاہے وہ پی ایم ہو یا سی ایم۔ گالی دینا اُن کا کام ہے، ہمارا نہیں۔ ہم اُن سے اچھی بات کریں گے۔ قبل ازیں دن میں راہول انتخابی ریالیوں کو مخاطب کرنے سے قبل درگاہ اجمیر شریف اور پشکر گئے ۔

TOPPOPULARRECENT