Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / راجستھان میں انسانیت پر پھرحملہ

راجستھان میں انسانیت پر پھرحملہ

مسلم مزدور جھوٹے الزام میں ہجوم کی وحشیانہ مارپیٹ میں جاں بحق
متاثرہ بچی کے والد کی متوفی فیصل صدیقی پر عائد الزامات کی تردید
ملزمین نشانت مودی اور مہندر گرفتارکرلینے پولیس کا دعویٰ

جے پور22 فروری(سیاست ڈاٹ کام )راجستھان کے جے پور میں وشوکرما انڈسٹریل ایریا میں کام کرنے والے ایک مزدور کو بچہ چوری کرنے اور ایک چھوٹی بچی کے ساتھ چھیڑ خانی کے شبہ میں بھیڑ نے وحشیانہ انداز میں پٹائی کر دی جس سے 25 سالہ شخص کی چہارشنبہ کے روز یعنی 21 فروری کو موت ہو گئی۔ متوفی محمد فیصل صدیقی بنیادی طور پر اتر پردیش کے کانپور کا رہنے والا تھا۔ خبرساں رساں ایجنسی ای این ایس کے مطابق بچی کے والد اسلم انصاری نے متوفی محمد فیصل صدیقی پر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔بچی کے والد نے کہا’’وہ اکثر میری بچی کے ساتھ رہتا تھا، ہم نے کبھی اس کی جانب سے کسی ناخوشگوار رویے کو نہیں دیکھا، اگر کچھ بھی غلط ہوتا تو میری بچی مجھے بتا چکی ہوتی۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس کا ارادہ میری بچی سے چھیڑ خانی کرنے کا تھا‘‘۔ پولیس نے بتایا کہ اس معاملہ میں دو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں۔ گزشتہ 3 فروری کو ہونے والے اس واقعہ کے بعد کو صدیقی کا چھوٹا بھائی سیف کانپور سے جے پور پہنچا۔ اس نے الزام لگایا کہ جے پور کے سوامی مان سنگھ اسپتال کے ڈاکٹروں نے منگل (20 فروری) کو اس کے بھائی کی نازک حالت میں ہی اسے ڈسچارج کر دیا تھا۔ اسپتال نے اس کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔وشوکرما پولیس تھانے کے سب انسپکٹر مکٹ بہاری نے بتایا کہ دفعہ 308 کے تحت رپورٹ درج کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ’’ہم نے دو افراد کو اس معاملہ میں گرفتار کیا ہے- نشانت مودی اور مہندر۔ مہندر کا ماضی میں بھی مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے‘‘۔ پولیس نے بتایا کہ ایک خاتون کی جانب سے صدیقی کے خلاف دفعہ 354 میں رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ صدیقی کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ 3 فروری کی صبح جو چھوٹی بچی اس کے ساتھ تھی، وہ اس سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔ چومو کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر دنیش شرما نے خاتون کی طرف سے ایف آئی آر درج کرانے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا’’جب عورت کا اس سے (صدیقی سے) سامنا ہوا تو اس نے اس (عورت کو) دھکیل دیا اور بچی کے ساتھ خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ اس کے بعد بھیڑ جمع ہو گئی‘‘۔بچی کے والد مسٹر انصاری نے بتایا کہ وہ اور صدیقی چپل بنانے والے ٹھیکیداروں کے لئے کام کرتے تھے۔ وہ (صدیقی) اکثر ان کی ڈھائی سال کی بچی کو گھمانے لے جاتا تھا۔ مسٹر انصاری نے بتایا کہ اس صبح بھی وہ پاس کی دکان میں بچی کو ساتھ لے گیا تھا۔ اسے پتہ چلا کہ صدیقی نے اس کی بچی کو سڑک پر چھوڑ دیا ہے اور بھیڑ اسے مار رہی ہے۔مسٹر انصاری نے بتایاکہ ’’میں فوری طور پر وہاں بھاگا اور دیکھا کہ بھیڑ صدیقی کو بجلی کے کھمبے سے باندھ کر پیٹ رہی تھی۔ میں نے اپنی بچی کو لیا اور پولیس کو بلایا، جس نے صدیقی کو چھڑایا۔ وہ بری طرح زخمی ہو چکا تھا۔

TOPPOPULARRECENT