Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / راجستھان میں مسلمانوں کو دھمکیاں

راجستھان میں مسلمانوں کو دھمکیاں

نورخدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
راجستھان میں مسلمانوں کو دھمکیاں
اب ایک تازہ ترین واقعہ میں راجستھان کے جیسلمیر گاوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کی مہم شروع کردی گئی ہے ۔ تفصیلات کے بموجب بی جے پی اقتدار والی دوسری ریاستوں کی طرح راجستھان میں بھی فرقہ پرستی کا ننگا ناچ شروع کردیا گیا ہے ۔ جئے پور میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد اب جیسلمیر میں فرقہ پرستوں کی سرگرمیاں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ یہاں گاوں سے مسلمانوں کا تخلیہ کروانے کیلئے دھمکیوں کا راستہ اختیار کیا گیا ہے ۔ جیسلمیر گاوں سے 200 مسلمانوں پر مشتمل تقریبا 20 سے زائد مسلم خاندانوں کو گاوں چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا ہے اور اب یہ لوگ کسی اور گاوں میں اپنے ایک رشتہ دار کے پاس پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ راجستھان کی پولیس کی جانب سے آنکھ مچولی کا کھیل بھی چل رہا ہے ۔ پولیس ان مسلمانوں کو دھمکانے اور انہیں گاوں چھوڑنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں اور صرف مسلمانوں سے رسمی طور پر اتنا کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو گاوں واپس ہوسکتے ہیں اور پولیس انہیں تحفظ فراہم کرے گی ۔ پولیس نے انہیں دھمکا کر گاوں چھوڑنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے جبکہ یہ لوگ کھلے عام مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اصل واقعہ تو یہ ہے کہ ایک اعلی ذات کے ہندو نے ایک مسلمان کا قتل بھی کردیا اور اس کے رشتہ داروں کو دھمکایا گیا کہ وہ پولیس میں شکایت کرنے سے گریز کریں ورنہ انہیں بھی سنگین عواقب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ غریب موسیقار مسلم نوجوان کے رشتہ داروں نے کسی شکایت کے بغیر خاموشی سے اس کی تدفین کردی تھی تاہم ان کے رشتہ داروں کی جانب سے حوصلہ دئے جانے پر کچھ دن بعد انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی ۔ ان کے خوف کا عالم یہ ہے کہ اس شکایت میں بھی انہوں نے گھر سے انکے بھائی کا اغوا کرنے اور پھر نعش لا کر گھر کے باہر پھینک دینے والے رمیش سوتھر کا نام بھی شکایت میں درج نہیں کیا ۔ تاہم پولیس نے بالآخر اس کو گرفتار کرلیا ہے اور اس کے ساتھی تاہم ابھی تک فرار ہیں۔ پولیس نے قتل کے معاملہ میں تو گرفتاری کی ہے لیکن دھمکانے کے معاملہ پر خاموش ہے ۔
جب مسلمانوں نے اس قتل کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تو پولیس کے حرکت میں آنے سے قبل گاوں کے اعلی ذات کے ہندووں نے مسلمانوں کو دھمکانا شروع کیا اور انہیںقتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس کے بعد خوف کے عالم میںمسلمانوں نے گاوں چھوڑ دیا اور وہ کسی اور مقام پر پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ یہ بی جے پی اقتداروالی ریاست ہے اور یہاں وسندھرا راجے سندھیا چیف منسٹر ہیں۔ بی جے پی کے اقتدار کی دوسری ریاستوں کے طرح یہاںبھی اب فرقہ پرستوںا ور سنگھ پریوار کے غنڈہ عناصر کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے ۔ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں گاوں دیہاتوں میں مسلمانوں کامختلف طریقوں سے عرصہ حیات تنگ کیا جانا تو عام ہوگیا ہے اب یہ لوگ مفلوک الحال مسلمانوں کا وجود تک برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت اور اس کے ذمہ داران اس طرح کے واقعات پر لب کشائی کیلئے بھی تیار نہیں ہیں کسی طرح کی کارروائی کرنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ راجستھان میں وسندھرا راجے کی حکومت بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے بلکہ وہ اپنی خاموشی اور کارروائی سے گریز کرتے ہوئے حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مصروف ہے ۔ فرقہ پرستوںاور غنڈہ عناصر کے خلاف کارروائی کی ایک بھی مثال بی جے پی اقتدار والی ریاستوںمیں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ یہ سارا کچھ ایسا لگتا ہے کہ حکومتوں کی ایما پر ہی ہو رہا ہے یا پھر انہیں فرقہ پرست تنظیموں کو کھلی چھوٹ دینے کی ہدایات باضابطہ ملی ہوئی ہیں۔ اسی لئے یہ لوگ دھڑلے سے من مانی کرنے لگے ہیں اور مسلمانوں کو ان کے گاووں اور گھروںسے تک نکال باہر کیا جانے لگا ہے ۔
حکومتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کریںا ور انہیں سکون سے زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کی حکومتیں ایسا لگتا ہے کہ اپنے اس فریضہ سے پوری طرح بری کردی گئی ہیں اور وہ صرف سنگھ پریوار اور دوسرے فرقہ پرست عناصر کے اشاروں پر ان کے ہی عزائم کی تکمیل کیلئے کام کر رہی ہیں۔ وہ اپنی دستوری ذمہ داریوں کو فراموش کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنی ہوئی ہیں اور انہیں اپنے ناپاک ایجنڈہ اور عزائم کی تکمیل کا موقع فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ اس طرح کی صورتحال پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے ۔ اگر حکومتیں اپنی اس ذمہ داری سے فرار کو ہی ترجیح دیتی رہیں گی تو فرقہ پرستوں کے عزائم اسی طرح بلند ہوتے رہیں گے اور صورتحال قابو سے باہر ہوجائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT