Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / راجستھان میں پہلو خاں کے بعد ایک اور مسلم کی ہلاکت ، ہولناک واقعہ : کانگریس

راجستھان میں پہلو خاں کے بعد ایک اور مسلم کی ہلاکت ، ہولناک واقعہ : کانگریس

نئی دہلی ۔ 21 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اپوزیشن کانگریس نے اس کو ایک ہولناک واقعہ قرار دیا جو ایک سال قبل پیش آئے ایسے ہی واقعہ میں دوسرے مسلم شخص پہلو خاں کی ہلاکت کے بعد پیش آیا ہے ۔ پہلو خان کو بھی گاؤ دہشت گردوں نے ہلاک کردیا تھا ۔ اکبر خاں نے اس مقام پر پہونچنے والی پولیس سے سارا واقعہ بیان کیا لیکن دواخانہ کو منتقلی کے دوران جلد اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اکبر خاں کے والد سلیمان خاں نے کہا کہ ہم انصاف چاہتے ہیں اور خاطیوں کو جلد گرفتار کیا جائے ۔ پولیس نے قتل کا ایک مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ جئے پور رینج کے انسپکٹر جنرل ہیمنت پریہ درشی نے کہا کہ دو ملزمین دھرمیندر یادو اور پرمجیت سردار کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اس جرم میں ملوث دیگر ملزمین کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا ۔ پریہ درشی نے کہا کہ اکبر کا دوست اسلم ہجومی تشدد سے بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ یہ دونوں راجستھان کے لدر پور گاؤں سے گائے خریدے تھے جنہیں ہریانہ میں ضلع نوح کے موضع کولگاؤں سے جارہے تھے کہ گاؤ دہشت گردوں نے انہیں وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا ۔ اسلم کا بیان ہنوز قلم بند نہیں کیا گیا ۔ پریہ درشی نے کہا کہ بادی النظر میں اکبر جسم کے اندرونی زخموں کے سبب فوت ہوگیا ۔ پولیس اس بات کی تحقیقات میں مصروف ہے کہ آیا یہ دونوں ماضی میں گائیوں کی اسملنگ میں ملوث تھے ۔ چیف منسٹر وسندھرا راجے سندھیا نے ہجومی تشدد میں اس شخص کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں نے ان کی حکومت پر اس قسم کے ہجوم تشدد اور حملوں کو روکنے میں ناکام ہوجانے کا الزام عائد کیا ہے ۔ راجستھان کانگریس کمیٹی کے صدر سچن پائیلٹ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی طرف سے گذشتہ روز پارلیمنٹ میں دیا گیا ۔ یہ بیان اب مزید کھوکھلا لگتا ہے کہ ہجومی تشدد کے واقعات کو روکنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے ۔ مرکزی وزیر ارجن رام میکھوال نے ہجومی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی اکادکا واقعہ نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی جنونی ہجوم کے اس قسم کے وحشیانہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایسے ہجوموں کو ارض وطن کا قانون پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ان واقعات کو روکنے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی ۔۔

TOPPOPULARRECENT