Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / راجستھان میں گاؤ رکھشا دلم کے مظالم

راجستھان میں گاؤ رکھشا دلم کے مظالم

بیف کے تاجرین کو برہنہ کرکے زدوکوب کیا گیا
چتور گڑھ۔/2 جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) راجستھان میں کل گائے منتقل کرنے کے الزام میں 4مسلمانوں کو زدوکوب کرکے انہیں معذور بنادیا گیا جبکہ50 بڑے جانوروں ( گائے ) کو لیکر لاریاں 31مئی کو چھوٹی صدر پرتاپ گڑھ ضلع کے چتورگڑھ سے گذررہی تھیں کہ ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں نے تعاقب کرکے پکڑ لیا اور گاڑیوں کو آگ لگادی اور پولیس کی موجودگی میں ڈرائیور اور دیگر 3ساتھیوں کو برہنہ کرکے بے رحمانہ طریقہ سے مار پیٹ کی گئی ۔ 4افراد کے خلاف ایک کیس درج کرلیا گیا۔بی جے پی کے زیر اقتدار راجستھان کے مختلف علاقوںمیں گاؤ رکھشا دلم سرگرم ہیں اور بیف کے تاجرین کو سزا دینے پر جشن منارہے ہیں اور بڑے جانوروں کی منتقلی کو ناکام بنانے اور مسلمانوں پر حملے کی فلمبندی کرکے سوشیل میڈیا پر پیش کیا گیا اورگاؤ ماتا کے تحفظ کو عظیم کارنامہ قرار دینے کیلئے میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے۔ چھوٹی صدری کے واقعہ کی اطلاع ملنے پر ملی گزٹ کی چھان بین پر پتہ چلا ہے کہ بیف کے تاجرین پر جان لیوا حملہ کیا گیا اگرچیکہ وہ زندہ بچ گئے ہیں لیکن گپت ماروں کی وجہ سے چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پولیس نے پریس نوٹ میں 4ٹرانسپورٹرس کے نام اور رہائشی پتے کا تذکرہ نہیں کیا ہے لیکن ان کے مذہب کو مسلم بتایا گیا ہے۔ سرکاری مشنری کی جانب سے اکثریتی فرقہ کے جرم کو کس طرح منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ملی گزٹ نے بتایا کہ تصاویرمیں یہ واضح نظر آرہا ہے کہ حملہ کے وقت پولیس تماشہ دیکھ رہی ہے لیکن حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس طرح کے بہیمانہ حملے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سے مرکز میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساتھ دلتوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT