Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / راجستھان یونیورسٹی میں بیف پکانے کی افواہیں

راجستھان یونیورسٹی میں بیف پکانے کی افواہیں

چار کشمیری طلبہ کو زدوکوب، بیف نہ ہونے کی توثیق کے باوجود گرفتاری
جئے پور ۔ 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے ضلع چتوڑ گڑھ کی ایک خانگی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں بیف پکائے جانے کی افواہوں پر کشمیر کے چار طلبہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ افواہیں پھیلنے کے بعد ہاسٹل کے دیگر چند طلبہ اور مقامی افراد نے ان کشمیری طلبہ کو زدوکوب کیا۔ اگرچہ ابتدائی تحقیقات سے بادی النظر میں پتہ چلا ہے کہ انہوں نے بیف نہیں پکایا تھا۔ یہ واقعہ پیر کی شب پیش آیا جب یہ افواہ پھیل گئی کہ کشمیری طلبہ اپنے ہاسٹل روم میں بیف پکارہے ہیں، جس کے فوری بعد میوار یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر دیگر طلبہ اور مقامی افراد جمع ہوگئے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعدازاں پولیس اس مقام پر پہنچ گئی۔ قابل سزاء جرائم کوروکنے احتیاطی گرفتاری سے متعلق تعزیری ضابطہ کی دفعہ 151 کے تحت ان طلبہ کو منگل کو گرفتار کرلیا گیا۔ گنگرار پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤز آفیسر لبھورام نے کہا کہ ’’ہاسٹل میں گوشت لانے اور اس کے پکانے میں ان کے رول کی تحقیقات کی جارہی ہیں‘‘۔ گرفتار شدہ چار طلبہ کی 21 تا 27 سال کی درمیانی عمر کے شیخ اشرف، ہلال فرخ، محمد مقبول اور شوکت علی کی حیثیت سے شناخت ظاہر کی گئی ہے۔ لبھورام نے کہا کہ گوشت کے نمونے حاصل کرلئے گئے ہیں اور بادی النظر میں وہ بیف نہیں ہے لیکن مزید جانچ کیلئے فارنسک لیباریٹری کو یہ نمونے بھیجے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کے پی آر او نے کہا ہیکہ کیمپس میں گوشت لانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ یہاں گوشت پکانا ہماری پالیسی کے خلاف ہے۔

TOPPOPULARRECENT