راجناتھ سنگھ قانون انسداد تبدیلی مذہب کے حامی

لکھنؤ۔ 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ قانون انسداد تبدیلی مذہب کو وضع کرنا چاہئے تاکہ مذہب کی تبدیلی کے واقعات کا تدارک ہوسکے اور تمام سیاسی جماعتوں سے اس بارے میں ’سنجیدگی‘ سے غور کرنے کی اپیل کی۔ ’ میرے خیال میں تبدیلی مذہب کو روکنے قانون انسداد تبدیلی مذہب کی تدوین ہونا ضروری ہے۔ تمام سیاسی پارٹ

لکھنؤ۔ 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ قانون انسداد تبدیلی مذہب کو وضع کرنا چاہئے تاکہ مذہب کی تبدیلی کے واقعات کا تدارک ہوسکے اور تمام سیاسی جماعتوں سے اس بارے میں ’سنجیدگی‘ سے غور کرنے کی اپیل کی۔ ’ میرے خیال میں تبدیلی مذہب کو روکنے قانون انسداد تبدیلی مذہب کی تدوین ہونا ضروری ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس تعلق سے غوروفکر کرنا چاہئے‘۔ تبدیلی مذہب پر پارلیمنٹ میں تعطل پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے بیان کا مطالبہ درست نہیں۔
تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبہ کے بارے میں راجناتھ سنگھ نے کہا کہ انہیں سمجھنا چاہئے کہ کسی بھی وزیر کا بیان حکومت کی طرف سے ہوتا ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور ایم پی جیوتر ادتیہ سندھیا نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیراعظم کو بعض تنظیموں کی جانب سے منعقد کی جانے والی تبدیلی مذہب تقاریب کے مسئلہ پر اپنی حکومت کے موقف کے تعلق سے پارلیمنٹ میں بیان دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مودی کوئی مخصوص سیاسی پارٹی کے وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ ساری قوم اور پورا سماج ان کی ذمہ داری ہے ۔
بی جے پی نے ترقیاتی ایجنڈہ چھوڑ دیا :عام آدمی پارٹی
لکھنؤ۔ 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) افراط زر پر کنٹرول، انسداد کرپشن اور خواتین کے خلاف جرائم کو روکنا اب بی جے پی حکومت کی ترجیحات نہیں رہیں کیونکہ اس نے ’لو جہاد‘ اور ملک کو ’تقسیم‘ کرنے کیلئے تبدیلی مذہب جیسے مسائل اپنالئے ہیں ، عام آدمی پارٹی نے یہ الزام عائد کیا۔ سینئر پارٹی لیڈر سنجے سنگھ نے یہاں کہا کہ مودی حکومت کے بارے میں رائے قائم کرنے کیلئے یہی حقیقت کافی ہے کہ وہ 2000 کروڑ روپئے کا مجسمہ نصب کررہی ہے اور وی آئی پی سکیورٹی کیلئے 600 کروڑ روپئے مختص کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT