Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / راجناتھ سنگھ کی پاکستان میں ہتک ‘ حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار

راجناتھ سنگھ کی پاکستان میں ہتک ‘ حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار

وزیر داخلہ کے دورہ کے موقع پر وزارت خارجہ کے بیانات بھی نا مناسب ۔ کانگریس ترجمان سنگھوی کا رد عمل
نئی دہلی 5 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی پاکستان میں ابھی ختم ہوئے سارک اجلاس کے دوران ہتک کی گئی ہے ۔ پارٹی نے نریندر مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایسی ہتک کرنے کا موقع دیا ہے ۔ پارٹی ترجمان ابھیشیک مانو سنگھوی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ہتک کسی بھی ہندوستانی وزیر داخلہ سے کسی بھی باہمی یا بین الاقوامی فورم میں نہیں کی گئی تھی ۔ یہ سب کچھ پاکستان کے تعلق سے ہندوستان کی فلپ ۔ فلاپ ‘ یو ٹرن والی اور تیڑھی میڑھی پالیسی کا نتیجہ ہے جو گذشتہ 70 سال میں کبھی نہیں رہی تھی ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ جس انداز سے ہندوستانی وزیر داخلہ کے ساتھ پاکستان میں رویہ رکھا گیا اس پر کانگریس پارٹی برہم اور افسردہ ہے انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور خاص طور پر پاکستان پالیسی کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جانا چاہئے اور حکومت کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔

سنگھوی نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی دھجیاں اڑ رہی ہیں ۔ ہم کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے کہ ہم ایسی حالت میں آجائیں اور الجھن و ہزیمت محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ حیرت اس بات پر ہے کہ ہندوستان نے ایسی کوئی ضمانت وزیر داخلہ کی پاکستان روانگی سے قبل اس سے طلب نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے اجلاس میں کہا کہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے ۔ سنگھوی کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان نے کبھی اتنے دلیرانہ انداز میں بات نہیں کی تھی ۔ حکومت کی پاکستان پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل ہندوستان کی ہتک کرتا جا رہا ہے اور مودی حکومت نے پہلے تو وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کا سرخ قالین استقبال کیا اور پھر پٹھان کوٹ حملہ کے بعد آئی ایس آئی کا بھی ہندوستان میں استقبال کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کبھی بھی وزیر داخلہ کی ایسی ہتک نہیں کی گئی تھی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسی بدسلوکی کی اجازت کیوں دی گئی ۔

انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ ملک کے وزیر داخلہ پاکستان میں تھے اور وہاں کے دہشت گرد و عسکری گروپس ہندوستان کا مضحکہ اڑا رہے تھے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ مودی حکومت کیوں نہیں ساڑی ۔ شال ڈپلومیسی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ سنگھوی نے واضح کیا کہ جب پاکستان کے وزیر اعظم مودی کی تقریب حلف برداری میں آئے اس وقت کے ظاہری تعلقات اور سارک اجلاس میں پیش آئے حالات میں بہت بڑا فرق ہے ۔ سنگھوی نے وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزارت خارجہ کی جانب سے دئے گئے بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اسے خاموش رہناچ اہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سارے معاملہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس حکومت میں سیدھا ہاتھ کیا کر رہا ہے اس کی دائیں ہاتھ کو کوئی خبر نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جب راجناتھ سنگھ پاکستان گئے تو ڈائرکٹر جنرل سارک نے ان کا استقبال کیا جو پروٹوکول کے خلاف ہے ۔ جب چدمبرم بحیثیت وزیر داخلہ وہاں گئے تھے اس وقت کے وزیر داخلہ پاکستان عبدالرحمن ملک نے ان کا استقبال کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT