Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / راجناتھ سنگھ کے دورہ کے خلاف علحدگی پسند قائدین کی ہڑتال

راجناتھ سنگھ کے دورہ کے خلاف علحدگی پسند قائدین کی ہڑتال

وادی میں معمولات زندگی معطل ‘ سڑکیں سنسان‘ کاروباری ادارے بند رہے‘ کئی علاقوں میں تحدیدات
سرینگر۔10ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میںمعمولات زندگی علحدگی پسند گروپس کی مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی وجہ سے معطل ہوگئیں ‘ جب کہ عہدیداروں نے آج شہر کے بعض علاقوں میں مسلسل دوسرے دن بھی احتیاطی اقدام کے طور پر تحدیدات جاری رکھیں ۔ بیشتر سرکاری ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔ چند گاڑیاں سڑکوں پر سیول لائنس کے علاقہ میں چلتی ہوئی دکھائی دیں ۔ دکانیں اور کاروباری ادارے ہڑتال کی وجہ سے بند رہے ۔ علحدگی پسند قائدین سید علی شاہ گیلانی ‘ میر واعظ عمر فاروق اور محمد یسین ملک نے عوام سے ہڑتال کی اپیل کی تھی ‘ تاکہ کشمیر دنیا کے سامنے اور ہندوستانی قیادت کے سامنے ثابت کردے کہ عوام کے خلاف فوجی طاقت استعمال کی جارہی ہے یا ان کی قیادت کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔ وادی کشمیر میں عوامی تحریک کو کچلا نہیں جاسکتا ۔ علحدگی پسندوں نے اپنا ایک بیان ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے جاری کیا ۔ دریں اثناء دفعہ 144کے تحت تحدیدات 6پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں شہر سرینگر میں آج بھی جاری رہیں ۔ نوہٹا ‘ مہاراج گنج ‘ صفاکدل ‘ خان یار ‘ میسورمہ اور رائنا واری پولیس اسٹیشنوں کے دائرہ کار میں سرینگر میں تحدیدات نافذ کی گئیں۔ یہ نظم و قانون کی صورتحال گڑبڑھ کی وجہ سے ابتر ہوجانے کے اندیشے کے خلاف بطور احتیاطی اقدام نافذ کی گئی تھیں ۔

ایک اور اطلاع کے بموجب ایک عسکریت پسند نے فوج کے ساتھ ایک انکاؤنٹر کے دوران جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میںکل شام خودسپردگی کردی۔ ذرائع کے بموجب عسکریت پسند جس کی شناخت عادل کی حیثیت سے کی گئی ہے جو جاریہ سال ماہ مئی میں عسکریت پسند تحریک سے وابستہ ہوگیا تھا ۔ تمام جانب سے گرفت میں آجانے کے بعد خودسپردگی کرنے پر مجبور ہوگیاتھا ۔ جموں و کشمیر پولیس عہدیداروں نے اسے تیقن دیا کہ اُسے ہلاک نہیں کیا جائے گا ۔ اس کے بعداس نے ایک مکان کے ملبہ سے باہر آکر اپنی AK-47 رائفل پولیس عہدیداروں کے سامنے پھینک دیں ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب کہ حالیہ مہینوں میں کسی عسکریت پسند نے انکاؤنٹر کے دوران ہتھیار ڈالیں ہیں ۔ عادل چیلی پورہ شوپیان کا متوطن ہے‘ اسے فوراً تفتیش کیلئے منتقل کردیا گیا ۔ ایک اور عسکریت پسند تاریخ احمد ڈار کی نعش انکاؤنٹر کے مقام سے برآمد ہوئیں ۔ ڈار دہشت گردی سے متعلق کئی واقعات میں ملوث تھا۔ جموں و کشمیر کے ڈی جی پی ایس پی وید قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ جن لڑکوں نے ہتھیار حاصل کئے تھے ‘ ہتھیار ڈال سکتے ہیں ۔ حکومت ان کے مقدمات پر غور کرے گی ۔ فوج نے اس علاقہ کا محاصرہ کر کے بارگاہ امام صاحب علاقہ شوپیان میں تلاشی مہم شروع کردی ہے ۔ جب کہ اسے وہاں پر عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ عسکریت پسندوں نے تلاش پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں انکاؤنٹر کا آغاز ہوگیا ۔

TOPPOPULARRECENT