Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / راجندرنگر : عدم کارکردگی پر سوال کرنے عوام تیار ، جماعت کے امیدوار سے سوالات کی بوچھار کا اندیشہ

راجندرنگر : عدم کارکردگی پر سوال کرنے عوام تیار ، جماعت کے امیدوار سے سوالات کی بوچھار کا اندیشہ

حیدرآباد ۔ 20 جنوری ۔ ( سیاست نیوز) حیدرآباد بلدی انتخابات تیزی کے ساتھ کافی اہمیت حاصل کرتے جارہے ہیں چونکہ سیاسی صف بندیوں کے ساتھ ساتھ مقامی مسائل تیزی سے اُجاگر ہونے لگے ہیں اور عوام اپنے مسائل پر گفتگو کرنے میں جھجک محسوس نہیں کررہے ہیں بعض مقامات پر تو منتخبہ نمائندوں کو عوامی برہمی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ عوام ان انتخابات میں پوری طرح سے تیار اپنے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرتے نظر آنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے ۔ شہر کے نواحی علاقے راجندر نگر حلقہ اسمبلی کے کئی بلدی حلقہ جات میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے راجندر نگر کے عوام متحدہ طورپر کسی ایک سیاسی جماعت کی تائید و حمایت کے متعلق غور کررہے ہیں لیکن وہ اب تک کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری کے متعلق سوال بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ راجندرنگر اسمبلی حلقہ جس میں شیورام پلی ، شکتی پورم ، میلاردیوپلی ، راجندر نگر اور عطاپور بلدی حلقہ جات شامل ہیں ان بلدی حلقہ جات کے مسائل کا جائزہ لینا اگر شروع کیا جائے اور بیک وقت تمام مسائل پیش کئے جائیں تو ایسی صورت میں علاقہ کی صورتحال کی ابتری پر کمیشن کی تشکیل عمل میں لانی پڑے گی کیونکہ تقریباً تمام علاقے بلدی مسائل بالخصوص سڑکوں ، آبرسانی اور صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ حلقہ اسمبلی راجندر نگر کا بیشتر حصہ جوکہ پرانے شہر کا ہی کہلاتا ہے ان علاقوں میں بنیادی مسائل کی فراہمی کے سلسلے میں کی جانے والی لاپرواہی سے عوام بے انتہاء برہم نظر آرہے ہیں ۔ اس حلقہ کے بعض علاقوں میں تیز رفتار خانگی ترقیاتی کام و تعمیراتی سرگرمیوں کے سبب علاقوں کی اہمیت میں کچھ اضافہ ہوا ہے لیکن بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے باعث جائیدادوں کی قیمتیں جوں کی توں برقرار ہیں۔ اس حلقہ میں صفائی کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جارہاہے چونکہ بیشتر علاقوں میں جہاں کھلی اراضیات موجود ہیں اُنھیں مخصوص گروہ کی جانب سے ڈمپنگ یارڈ میں تبدیل کیا جانے لگا ہے جس کی وجہ سے علاقہ کے اطراف و اکناف بدبو و تعفن پھیلنے لگا ہے ۔ جن مقاصد کے تحت کھلی اراضیات کو ڈمپنگ یارڈ میں تبدیل کیا جارہا ہے اُس سے واقف ہونے کے باوجود بھی سرکاری عہدیداروں کی خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری عہدیدار خود ان منتخبہ نمائندوں کے آگے بے بس ہیں یا پھر اُن کی ان سرگرمیوں میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ حلقہ اسمبلی راجندرنگر میں ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں متعدد بار کی جانے والی نمائندگیوں کو عموماً خارج کیا جاتا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ سیاسی اختلافات بتائی جارہی ہیںلیکن عوام کا کہنا ہے کہ منتخبہ عوامی نمائندوں میں موثر نمائندگی کی جرأت نہ ہونے کے سبب یہ حالات پیدا ہورہے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کیلئے فوری طورپر مکمل نہ سہی کم از کم معمولی تبدیلی لائی جانی چاہئے ۔ علاقہ کے عوام کے رجحانات کا جائزہ لینے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان بلدی حلقہ جات پر برسراقتدار جماعت کے امیدواروں کو سبقت حاصل رہے گی ۔

TOPPOPULARRECENT