Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / راجن نے مودی کو ’نوٹ بندی‘ کیخلاف متنبہ کیا تھا!

راجن نے مودی کو ’نوٹ بندی‘ کیخلاف متنبہ کیا تھا!

 

عرفان جابری
گزشتہ نومبر کی نوٹ بندی کے تعلق سے یہ بات مختلف زاویوں سے عیاں ہوچکی ہے کہ معیشت میں بھونچال لانے والا یہ اقدام غلط نیت اور غیرحقیقی مقاصد کے ساتھ کیا گیا۔ 8 نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان تو کردیا کہ قوم تھوڑا صبر سے کام لے تو کالادھن آشکار کرنے اور کرپشن پر روک لگانے میں اُن کی حکومت کامیاب ہوجائے گی۔ انھوں نے عوام و خواص سے 50 روزہ تحمل برتنے کی بات کہی تھی لیکن دس ماہ گزر چکے اور قوم کو نوٹ بندی کا شاید ہی کوئی مثبت نتیجہ دیکھنے کا موقع نصیب ہوا ہے۔
مودی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا نے گورنر ارجیت پٹیل کی قیادت میں نوٹ بندی کے عمل سے اس قدر بے ڈھنگے پن سے نمٹا ہے کہ پورے ملک میں چند مخصوص گوشوں کے سواء ہر کوئی متاثر ہوا ہے، ملکی معیشت پر منفی اثر پڑا ہے، شرح ترقی میں گراوٹ آئی ہے، مجموعی دیسی پیداوار (جی ڈی پی) میں کمی ہوگئی، بینکوں کا سسٹم خراب ہوگیا، بڑی تعداد میں اے ٹی ایمس اپنی افادیت کھوچکے ہیں … اتنا سب کچھ شاید کم تھا۔ چنانچہ مودی حکومت نے ایک اور (منفی) کارنامہ درج کراتے ہوئے یکم جولائی سے نیا ٹیکس سسٹم جی ایس ٹی (گڈز اینڈ سرویسیس ٹیکس) لاگو کردیا؛ جو بلاشبہ سابقہ یو پی اے حکومت کی تجویز کو آگے بڑھاتے ہوئے عمل میں لایا گیا لیکن نوٹ بندی کی طرح اس معاملے میں بھی حکومتی حکام نے معقول تیاری نہیں کی اور خامیوں و نقائص کے ساتھ جی ایس ٹی مسلط کردیا۔
قارئین کرام! جی ایس ٹی تو بعد والا اقدام ہے اور یہ علحدہ بحث کا متقاضی ہے۔ زیرنظر سطور میں نوٹ بندی اور سابق گورنر آر بی آئی رگھورام راجن کے انکشافات ملاحظہ کیجئے۔ جب مئی 2014ء میں نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا، تب راجن آر بی آئی گورنر تھے اور نوٹ بندی کے اعلان سے چند ماہ قبل بی جے پی نے جب اُن کی خدمات میں متوقع توسیع کے خلاف سبرامنیم سوامی کی سرکردگی میں مہم چلائی تو انھوں نے بھی اپنا ارادہ ظاہر کردیا کہ وہ اپنی میعاد کے اختتام پر توسیع نہیں چاہتے اور سبکدوش ہوگئے۔ موجودہ طور پر یونیورسٹی آف شکاگو میں فینانس کے پروفیسر رگھورام راجن نے چند روز قبل اپنی کتاب کی اجرائی سے قبل ’نوٹ بندی‘ سے پہلے اور بعد کے حالات کے بارے میں اپنی خاموشی توڑی اور ہندوستانی معیشت سے متعلق کئی نکات پر روشنی ڈالی ہے۔
سابق گورنر آر بی آئی راجن کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مالی ترقی میں سست روی سرکاری زیرانتظام بینکوں کی اپنے بہت زیادہ غیرکارکرد اثاثہ جات (این پی ایز) یا مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کا شاخسانہ نہیں، بلکہ یہ بینکوں کی اپنے بیالنس شیٹس کو ٹھیک ٹھاک کرلینے کی حالیہ کوششوں کو پیشگی بناتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو متنبہ کرچکے تھے کہ اونچی قدر والی کرنسی نوٹوں پر امتناع والے سخت اقدام کے مختصر مدتی نتائج طویل مدتی فوائد پر بھاری پڑجائیں گے۔
سابق آر بی آئی گورنر راجن نے اپنی کتاب ’’I Do What I Do: On Reforms, Rhetoric and Resolve‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ پھر ایک بار بعض نام نہاد نقادوں کا گروپ دعویٰ کررہا ہے کہ ناقص قرض کے مسئلہ سے چھٹکارہ پانے کے نتیجے میں پبلک سیکٹر بینکوں کے پاس رقم کی دستیابی میں سستی آگئی۔ راجن نے جون 2016ء میں بنگلورو میں تقریر کرتے ہوئے ناقص قرض کا مسئلہ دور کرلینے کی تائید و حمایت کے ساتھ ان نقادوں سے کہا تھا کہ ڈاٹا پر فی الواقعی نظر ڈالیں، جو بتاتا ہے کہ سست روی ناقص قرضوں کی صفائی سے قبل شروع ہوئی، شاید اُس وقت جب بینکوں کو اس مسئلہ کی سنگینی کا علم ہوگیا۔
راجن نے صراحت کی ہے کہ کس طرح آر بی آئی کی بدحال اثاثہ جات کے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی بار بار کوششیں بینکروں کی طرف سے جوش و خروش سے عاری ردعمل کا شکار ہوگئیں۔ انھوں نے تحریر کیا ہے، ’’جب ہم نے بینکوں کو مسائل تسلیم کرنے میں پس و پیش کرتے دیکھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ نہ صرف تحمل ختم کردیا جائے، بلکہ انھیں اپنی بیالنس شیٹس کو ٹھیک ٹھاک کرنے پر مجبور بھی کیا جائے۔ اس سلسلہ میں اثاثہ جات کے معیار کا جائزہ لینے کی مہم 2015ء میں شروع کی گئی جو ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی بڑی مساعی ہوئی‘‘۔
افراط زر اور طلب ماند پڑنے پر آر بی آئی نے گزشتہ ماہ اپنی کلیدی شرح بہ متعلق قرض میں اکٹوبر 2016ء سے پہلی مرتبہ گھٹاتے ہوئے اسے 25 اساسی پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 6 فیصد کیا؛ پھر بھی بزنس کے رجحانات میں جوش و خروش پیدا نہ ہوا۔ سنٹرل بینک نے اپنی مالیاتی پالیسی کے جائزے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دوہرے بیالنس شیٹ کے مسئلہ سے نمٹنا بدستور آر بی آئی کی اولین ترجیح ہے۔ آر بی آئی کے مطابق بینکوں اور کمپنیوں کو اقتصادی تناؤ کی کیفیت درپیش ہے۔ ماہرین کا احساس ہے کہ خانگی سرمایہ کاریاں شرح سود میں کٹوتی کرنے پر بڑھنے والی نہیں ہیں کیونکہ قرض کی لاگت اصل وجہ نہیں کہ ہندوستان میں سرمایہ مشغول نہیں ہورہا ہے۔ خاصا عرصہ ہوگیا کہ کریڈٹ کی کمزور بڑھوتری اور کمتر نجی سرمایہ مسلسل مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ انڈسٹری لابی اسوچم کے ایک جائزہ میں کہا گیا کہ خانگی سرمایہ کاریوں میں اُچھال کا کمتر گنجائش پر استفادے اور کمزور بیالنس شیٹس کے سبب 2019ء سے قبل امکان نہیں ہے۔
کارپوریٹ انڈیا موجودہ طور پر اپنے حصص کی ملکیت کے اعتبار سے کچھ مستحکم موقف میں نہیں ہے جو 2008-09ء کے امریکی اقتصادی بحران کے سبب عالمی معاشی سست روی سے قبل کی تابناک مدت میں کی گئی سرمایہ کاریوں کی بھرمار کا نتیجہ ہے۔ چونکہ ہندوستان اس اقتصادی بحران کے بدترین اثر سے محفوظ رہا، اس لئے سرمایہ کاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ خانگی شعبہ نے جو قرضے لئے وہ سرکاری زیرانتظام بینکوں میں این پی ایز کے انبار کا قابل لحاظ حصہ ہوتے ہیں۔
غیرنفع بخش اثاثہ جات بڑھ کر 9 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ چکے ہیں اور گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کے منظورہ بینکنگ ریگولیشن (ترمیمی) بل کے ذریعہ آر بی آئی کو اس طرح کے معاملے اُمور دیوالیہ پن سے نمٹنے والے بورڈ سے رجوع کردینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ نئے قانون میں ایسی گنجائشیں بھی ہیں جو آر بی آئی کو بااختیار بناتی ہیں کہ بینکوں کو پریشان کن اثاثوں کی یکسوئی کیلئے ہدایات جاری کرے۔ این پی ایز کا انبار لگادینے کے سب سے زیادہ ذمہ دار شعبے اسٹیل (فولاد)، پاور (برقی)، ٹکسٹائلز (پارچہ جات) اور انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) ہیں ۔ آر بی آئی نے قرض واپس نہ کرنے والے 12 بڑے اشخاص؍ اداروں ؍ کمپنیوں کی نشاندہی کی ہے جو جملہ این پی ایز میں 25 فیصد حصہ ہوتے ہیں۔ ’اِنسالونسی اینڈ بینکرپسی کوڈ‘ کے تحت بعض عہدشکن کمپنیوں کے خلاف کارروائی شروع ہوچکی، جن میں ایسار اسٹیل، بھوشن اسٹیل اور بھوشن پاور شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT