Thursday , November 15 2018
Home / شہر کی خبریں / راجہ سنگھ کی اشتعال انگیزی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

راجہ سنگھ کی اشتعال انگیزی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

مجلس بچاؤ تحریک کے رکن محمد اقبال کی پولیس سے شکایت
حیدرآباد۔27مارچ(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کی اشتعال انگیزی کے خلاف مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے پولیس میں شکایات درج کروائی گئی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے ان شکایات کے سلسلہ میں قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد مقدمات درج کئے جائیں گے۔ تحریک کے کارکن مسٹر محمد اقبال ساکن یاقوت پورہ نے رین بازار پولیس اسٹیشن میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے راجہ سنگھ کے بیان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے اپنی شکایت میں بتایا کہ رکن اسمبلی گوشہ محل کی جانب سے اشتعال انگیزی سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور وہ اس طرح کے بیانات کے ذریعہ فرقہ وارنہ کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والے رکن اسمبلی کے خلاف کاروائی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے محکمہ پولیس سے خواہش کی کہ وہ راجہ سنگھ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے بیان کا سخت نوٹ لے اور ان کے خلاف فرقہ واریت کے فروغ اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے پر مقدمات درج کرتے ہوئے کاروائی کرے۔ راجہ سنگھ نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں وہ نہ صرف مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا مرتکب ہوا ہے بلکہ رکن اسمبلی نے محکمہ پولیس اور حکومت تلنگانہ کو بھی چیلنج کیا ہے اسی لئے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے کیونکہ ان کے خلاف عدم کاروائی کی صورت میں شہر میں حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ رام نومی سے قبل جاری کئے گئے اس بیان میں انہوں نے جو باتیں کہی تھیں اس پر قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسرا ویڈیو بیان بھی جاری کیا ہے لیکن اس کے باوجود اب تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہا جا رہاہے کہ اس شکایت پر قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی کاروائی کی جائے گی۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ راجہ سنگھ کے بیانات شہر کی پر امن فضاء کو بگاڑنے کا موجب بن سکتے ہیں اور جس طرح اشتعال انگیزی کی جا رہی ہے وہ ریاست اور ملک کے حق میں بہتر نہیں ہے اسی لئے اس پرروک لگایا جانا چاہئے اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق اب تک بھی اس شکایت پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے بلکہ قانونی رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ویڈیو کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی رکن اسمبلی کے خلاف شکایت درج کی جائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT