Saturday , December 15 2018

راجیوگاندھی قتل کیس، 3 مجرمین کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

نئی دہلی 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) راجیو گاندھی قتل کیس کے تین مجرمین کو آج زبردست راحت حاصل ہوگئی جب سپریم کورٹ نے ان کی درخواست رحم پر فیصلہ کیلئے مرکز کی جانب سے 11 سال کی تاخیر کئے جانے کی بنیاد پر ان کی سزاء موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ چیف جسٹس ستھا سیوم نے مرکز کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ درخواست رحم پر فیصلہ میں کوئی غیر و

نئی دہلی 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) راجیو گاندھی قتل کیس کے تین مجرمین کو آج زبردست راحت حاصل ہوگئی جب سپریم کورٹ نے ان کی درخواست رحم پر فیصلہ کیلئے مرکز کی جانب سے 11 سال کی تاخیر کئے جانے کی بنیاد پر ان کی سزاء موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ چیف جسٹس ستھا سیوم نے مرکز کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ درخواست رحم پر فیصلہ میں کوئی غیر واجبی تاخیر نہیں ہوئی اور یہ کہ مجرمین کو کرب و اضطراب کے لمحات سے اس لئے بھی گزرنا نہیں پڑا کہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پُرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس رنجن گوگوئی اور ایس کے سنگھ بھی شامل تھے کہاکہ وہ مرکز کے نظریہ کو قبول نہیں کرسکتے چنانچہ راجیو گاندھی قتل کیس کے تین مجرمین سانتھن، مروگن اور پیرا ریویلن کو دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

بنچ نے مرکز کو ہدایت کی کہ وہ صدرجمہوریہ کو بروقت مشورہ دیں تاکہ وہ رحم کی درخواستوں پر ناواجبی تاخیر کے بغیر فیصلہ کرسکیں۔ بنچ نے کہاکہ مرکز کو چاہئے کہ وہ رحم کی درخواستوں سے مزید مؤثر و منظم انداز میں نمٹے۔ بنچ نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ رحم کی درخواستوں پر موجودہ رفتار سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ فیصلہ کیا جاسکتا ہے‘‘۔ راجیو گاندھی کو 21 مئی 1991 ء کو ٹاملناڈو کے سری پیرمبدور میں کانگریس کے ایک انتخابی جلسہ کے اختتام پر قتل کیا گیا تھا۔

راجیو گاندھی قتل مقدمہ کے فیصلہ کا
کروناندھی کا خیرمقدم
چینائی۔/18فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ کی جانب سے راجیو گاندھی کے قتل مقدمہ کے تین مجرموں کی سزائے موت کو سزائے عمر قید میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کاصدر ڈی ایم کے ایم کروناندھی نے خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں یہ جان کر بیحد خوشی ہوئی کہ انہیں زندگی کا حق مل گیا ہے ۔ انہوں نے تینوں مجرموں کی سزائے موت کو سزائے عمر قید میں تبدیل کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ چونکہ وہ قید میں کئی سال گذار چکے ہیں اس لئے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو انہیں فوراً رہا کردینا چاہیئے۔ ان کی رہائی سے میری خوشی دوگنی ہوجائے گی۔ ڈی ایم کے کے 90سالہ صدر سزائے موت کی برخواستگی کے زبردست حامی ہیں، فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT