Thursday , December 14 2017
Home / سیاسیات / راجیو گاندھی نے پرنب مکرجی کو نظر انداز کرکے چندر شیکھر کو وزیر اعظم بنایا

راجیو گاندھی نے پرنب مکرجی کو نظر انداز کرکے چندر شیکھر کو وزیر اعظم بنایا

اس وقت کے صدر جمہوریہ آر وینکٹ رامن پرنب مکرجی کے حامی تھے ۔ ایم ایل فوتیدار کی کتاب میں انکشاف

نئی دہلی 22 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) 1990 میں اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند آر وینکٹ رامن نے وزارت عظمی کیلئے پرنب مکرجی کی حمایت کی تھی تاہم راجیو گاندھی نے اس کے برخلاف رائے دی تھی ۔ گاندھی خاندان کے ایک قریبی رفیق سمجھے جانے والے سینئر کانگریس لیڈر ایم ایل فوتیدار نے ایک کتاب ’’ چنار کے پتے ‘‘ میں یہ انکشاف کیا ہے ۔ فوتیدار نے ادعا کیا ہے جب انہوں نے 1990 میں وی پی سنگھ کے استعفے کے بعد پیدا ہوئی صورتحال کے تعلق سے صدر جمہوریہ وینکٹ رامن سے ملاقات کی تو انہوں نے پرنب مکرجی کو وزیر اعظم بنانے کی رائے دی تھی اور کہا تھا کہ راجیو گاندھی کو پرنب مکرجی کی حمایت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ انہوں نے صدر جمہوریہ وینکٹ رامن سے ملاقات کرکے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کانگریس پارٹی ہی ہے جو ہر طبقہ کو اپنے ساتھ لے کر ایک طاقتور اور مستحکم حکومت فراہم کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر جمہوریہ سے خواہش کی تھی کہ وہ راجیو گاندھی کو آئندہ حکومت بنانے کیلئے مدعو کریں

کیونکہ وہی واحد بڑی جماعت کے لیڈر تھے ۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ نے انہیں ہدایت دی تھی کہ وہ وہ راجیو گاندھی کو بتادیں کہ اگر وہ ( راجیو ) وزارت عظمی کیلئے پرنب مکرجی کی تائید کرتے ہیں تو وہ انہیں اسی شام وزارت عظمی کا حلف دلانے کیلئے تیار ہیں۔ فوتیدار نے اپنی کتاب میں یہ ادعا کیا ہے جس کا جلد ہی رسم اجرا ہونے والا ہے ۔ فوتیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک موقع پر آنجہانی اندرا گاندھی پرنب مکرجی ‘ پی وی نرسمہا راؤ اور وینکٹ رامن کو اپنے سیاسی جانشین سمجھتی تھیں تاہم بعد میں انہوں نے راجیو گاندھی کو اپنا جانشین بناتے ہوئے سیاست میں متعارف کروادیا تھا ۔ فوتیدار نے جو فی الحال کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں یہ تحریر کیا ہے کہ جب صدر جمہوریہ نے پرنب مکرجی کی حمایت کی تو وہ دنگ رہ گئے تھے اور کچھ دیر بعد سنبھل کر سوال کیا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے تاہم صدر جمہوریہ نے ان سے پورے اختیار کے ساتھ کہا تھا کہ وہ یہ پیام راجیو گاندھی کو پہونچادیں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ صدر جمہوریہ نے چندر شیکھر کو اس وقت وزیر اعظم بنانے پر احتیاط کا مشورہ دیا تھا اور ان کے تعلق سے کچھ منفی ریمارکس بھی کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر جمنہوریہ سے ملاقات کی تفصیلات سے راجیو گاندھی کو واقف کروادیا تھا ۔ راجیو گاندھی بھی صدر جمیہوریہ کے موقف سے حیرت زدہ رہ گئے تھے ۔ کانگریس پارٹی کے پاس زیادہ کچھ امکانات نہیں تھے اور راجیو گاندھی نے بالآخر چندر شیکھر کی تائید کرنے کا متنازعہ فیصلہ کرلیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر وزارت عظمی کیلئے انتظار کر رہے تھے اور انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کا اقتدار حاصل کرلیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT