Friday , January 19 2018
Home / ہندوستان / راجیو گاندھی کے قاتلوں کی مجوزہ رہائی پر حکم التواء کی درخواست

راجیو گاندھی کے قاتلوں کی مجوزہ رہائی پر حکم التواء کی درخواست

مرکز سپریم کورٹ سے رجوع ،عدالت میں جواب دینے چیف منسٹر ٹاملناڈو جئے للیتا کا اعلان

مرکز سپریم کورٹ سے رجوع ،عدالت میں جواب دینے چیف منسٹر ٹاملناڈو جئے للیتا کا اعلان

نئی دہلی 24 فبروری (سیاست ڈاٹ کام)راجیو گاندھی قتل مقدمہ کے تین مجرموں کی رہائش پر حکم التواء حاصل کرنے کے بعد مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع ہوتے ہوئے ٹاملناڈو حکومت کو سزائے عمر قید کاٹنے والے دیگر چار مجرموں کو آزاد کرنے کے فیصلے پر عمل آوری کو روکنے کی گذارش کی۔ چیف جسٹس پی ستا سیوم کی زیر قیادت ایک بنچ نے کہا کہ ٹھوس درخواست جس میںتمام 7 مجرموں کے نام درج کئے گئے ہیں آج عدالت میں داخل کی گئی اور مقدمہ کی عاجلانہ بنیادوں پر سماعت کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے 20 فبروری کو تین مجرموں مروگن، سنتان اور اریبو کو رہا کرنے پر حکم التواء جاری کیا تھا جن کی سزائے موت کو سپریم کورٹ نے 18 فبروری کو راجیو گاندھی قتل مقدمہ میںسزائے عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت کے مجرموں کے رہا کرنے کے فیصلے میں طریقہ کار کی کوتاہیاں موجود ہیں۔ مرکز کا یہ اقدام سپریم کورٹ کے اقدام کے بعد منظر عام پر آیا جس میں کہا گیا تھا کہ مرکز دیگر چار قیدیوں کے بارے مںی جن کی سزا کو حکومت ٹاملناڈو نے کم کردیا ہے، تازہ درخواست پیش کی جاسکتی ہے۔مرکز نے نلینی ،رابرٹ پئیس ،جیاکنور اور روی چندر کی رہائی کے فیصلے پر حکم التواء جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ 19 فبروری کو جئے للیتا حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ قتل مقدمہ کے تمام 7 مجرموں کو آزاد کردیا جائے۔ سنتان ،مروگن اور اریوو فی الحال سنٹرل جیل ویلور (ٹاملناڈو) میں ہیں اور 1991 سے قید میں ہے۔

دیگر چار روپوش عمر قید کے قیدیوں کے راجیو گاندھی کے قتل میں 31 مئی 1991 کو سری پرم بدور میں حملہ کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ بنچ نے 20 فبروری کو حکومت ٹاملناڈو ،آئی جی محابس چنائی، سپرنٹنڈنٹ جیل ویلور اور مجرموں مروگن ،سنتان اور اریوو کو نوٹیسیں جاری کرتے ہوئے 6 مارچ کو حاضر عدالت ہونے کا حکم دیا۔ دریں اثناء مرکز کی جانب سے راجیو گاندھی قتل مقدمہ کے مجرموں کی رہائش کے فیصلہ کو روک دینے کے مرکز کے اقدام پر چیف منسٹر ٹاملناڈو جئے للیتا نے آج کہا کہ ان کی حکومت اس کا قانونی طور پر سامنا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سے واقف ہیں۔ مرکز نے ہمیں مکتوب روانہ کیا ہے۔ ہم اس کا عدالت میں سامنا کریں گے۔ وہ سپریم کورٹ سے مرکز کے رجوع ہونے کے بارے میں سوال کا جواب دے رہی تھیں۔ جب ان کی توجہ رہائی کے فیصلہ کو ’’سیاسی اقدام‘‘ قرار دینے کے الزام کی طرف مبذول کروائی گئی تو انہوں نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے۔ اس پر پریس کانفرنس میں تبصرہ کرنا توہین عدالت ہوگا۔ ہم کو جو کچھ کہنا ہے ہم اپنے وکیل کے ذریعہ عدالت میں ہی کہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT