Wednesday , August 22 2018
Home / Top Stories / راجیہ سبھا انتخابات میں اعداد و شمار کا کھیل

راجیہ سبھا انتخابات میں اعداد و شمار کا کھیل

تعداد میں اضافہ کے باوجود بی جے پی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے گی

نئی دہلی 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملک کی 16 ریاستوں میں 58 راجیہ سبھا نشستوں کے لئے ہونے والے انتخابات برسر اقتدار جماعت این ڈی اے کیلئے کافی اہم مانا جارہا ہے۔ ایوان بالا میں اپوزیشن کے کمزور این ڈی اے کا راجیہ سبھا انتخابات کے بعد صورتحال میں مستحکم ہونا تقریباً طے ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق این ڈی اے کے ارکان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کے باوجود راجیہ سبھا میں بھی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوجانے کا امکان ہے۔ بی جے پی نے راجیہ سبھا کے لئے 26 امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ پہلی فہرست میں پارٹی کے اہم قائد ارون جیٹلی سمیت 8 ناموں کو قطعیت دی گئی تھی۔ جبکہ اتوار کے روز جاری کی گئی دوسری فہرست میں مزید 18 ناموں کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح بی جے پی مجموعی طور پر 26 نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔ تاہم 23 مارچ کو منعقد ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے بعد ہی این ڈی اے زیراقتدار مودی حکومت اکثریت حاصل کرنے میں چند سیٹوں سے پیچھے رہ جائے گی۔ تریپورہ میں زبردست کامیابی درج کرنے کے بعد ابھی سے 2019 ء لوک سبھا الیکشن سے پہلے تک جملہ 61 سیٹوں پر انتخابی مقابلہ کرنا ہے۔ ان میں چار نامزد نشستیں شامل ہیں۔ ان 61 سیٹوں میں سے فی الحال بی جے پی کے پاس جملہ 17 نشستیں ہیں۔ اگر تعداد کی بات کریں تو بی جے پی اور اُس کی حلیف جماعتیں انتخابات میں نصف نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ راجیہ سبھا چناؤ میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو نسبتاً زیادہ نقصان ہوگا۔ بی جے پی کو سب سے زیادہ فائدہ یوپی سے ہوگا۔ یہاں سے بی جے پی کم سے کم 7 نشستیں یقینی طور پر جیت سکتی ہے۔ جبکہ ایس پی یوپی سے صرف ایک ہی امیدوار کو راجیہ سبھا بھیج سکتی ہے حالانکہ ابھی تک اُن کے 6 ارکان تھے۔ ریاست کے 403 رکنی اسمبلی میں سماج وادی پارٹی کے صرف 47 ارکان ہیں جس کی وجہ سے ایس پی نے صرف ایک امیدوار جیہ بچن کو نامزد کیا ہے۔ حالانکہ اس کی وجہ سے ایس پی کے سینئر قائد نریش اگروال اسی مسئلہ پر ناراض ہوکر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ کانگریس اس ریاست میں بی ایس پی کی حمایت کررہی ہے جس کے پاس صرف 7 ارکان اسمبلی ہیں۔ بی جے پی نے اتوار کو پارٹی میں پھر سے شامل ہوئے کروڑی لال مینا کو بھی امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان میں ذات پات کے حساب کتاب کو اپنی طرف کرنے کے لئے مدد لال سینی کو بھی راجیہ سبھا میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ راجستھان میں جاریہ سال ہی اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں اور مینا مشرقی راجستھان میں اپنی ذات کے سب سے قدآور لیڈر مانے جاتے ہیں۔ اس علاقہ کی 25 سے 30 سیٹوں پر کروڑی لال مینا کا اچھا خاصا اثر ہے۔ بی جے پی کی فہرست میں ایس پی کے سابق لیڈر اشوک واجپائی بھی شامل کئے گئے ہیں۔ واجپائی نے حال ہی میں ایم ایل سی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دوسری طرف حیرت انگیز طور پر بی جے پی نے اپنے شعلہ بیان لیڈر ونئے کٹیار کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے سے انکار کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT