Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / راجیہ سبھا انتخابات پارٹیوں کی فتح، جمہوریت کی شکست

راجیہ سبھا انتخابات پارٹیوں کی فتح، جمہوریت کی شکست

 

غضنفر علی خان
گجرات ریاست کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قومی رہنما مہاتما گاندھی کا جنم یہیں ہوا تھا ۔ کئی تحریکات کا آغاز بھی گجرات میں ہوا تھا ۔ اس سر زمین کی جتنی شہرت اور جتنا امتیاز تھا آج اتنی ہی بدنامی اور رسوائی ہورہی ہے ۔ اس سال ہم تحریک آزادی کی موقر تحریک ’’ہندوستان چھوڑدو‘‘ بھی منانے جارہے ہیں لیکن اس سال یہاں راجیہ سبھا کیلئے ہوئے چناؤ میں جتنی بدنظمی ، نفس پرستی اور خودغرضی کا مظاہرہ ملک کی سیاسی پارٹیوں نے کیا اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ برسر اقتدار بی جے پی اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کیلئے زمین و آسماں کے قلابے ملاتی رہی اور کانگریس پارٹی اینی ساکھ بچانے میں سب کچھ کر گزری ۔ اس مقابلہ میں جتنی بے قاعدگیاں ہوئیں اس نے سارے ملک کو شرمسار کردیا ہے ۔ اب یہ کہنے میں بھی دیانتدار ہندوستانی کو شرم محسوس ہورہی ہے کہ ہم عددی اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں ہمارا ملک آج تک عظیم ترین جمہوریت ہونے پر ناز کیا کرتا تھا ۔ آج ہر ہندوستانی باشندہ سر جھکائے بیٹھا ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں بلا تحقیق کسی المناک اخلاقی گراوٹ کی شکار ہوگئی ہیں۔ ارکان کی خرید و فروخت انہیں عہدوں کی پیشکش ، روپئے پیسے کی ریل پیل کونسی برائی ہے جو ہماری جماعتوں میں نہیں پائی جاتی تھی ۔ ہر پارٹی اپنی خود غرضانہ منفعت کیلئے کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرتی ہیں۔ دراصل عام انتخابات ہوں یا راجیہ سبھا کے چناؤ ہوں ، ان میں ہر غیر دستوری اور غیر قانونی طریقہ پر عمل کرنے کیلئے پارٹیوں میں مسابقت ہورہی ہے ۔ بی جے پی کوشش کر رہی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہورہی ہے کہ کسی طرح جس کو انگریزی زبان میں By hook or crook کہا جاتا ہے ، کامیابی حاصل کرنے اس کو واحد مقصد بنالیا گیا ہے ۔ نظریات ، سیاسی فلسفہ ، اعلیٰ اقدار تو گوپا قصہ پارینہ ہوگئے ہیں، وہ لوگ کہاں چلے گئے جن کی ساری فکر ملک کے مفاد کیلئے ہوتی تھی ۔ آج ہر سیاست داں ملک کی فکر اور تعلق خاطر سے بے نیاز صرف اپنے ذاتی فائدہ ہی کو مقدم سمجھنے لگا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ ہماری عصری سیاست ایسا حمام بن گئی ہے جس میں سبھی بے لباس ہوگئے ہیں ۔ اب کون کس کی بے لباسی پر تنقید کرسکتا ہے ۔ سیاسی پا رٹیوں اور سیاست دانوں نے گویا سمجھوتہ کر رکھا ہے کہ ہم آپ کے ننگے پن پر کچھ نہیں کہیں گے ۔ آپ ہماری بے لباسی پر تنقید نہ کریں ۔ پھر انتخابات ایک طرح سے سرمایہ کاری کا موسم بن گئے ہیں جس میں ہر پارٹی کا امیدوار بے حساب سرمایہ مشغول کرتا ہے اور پھر اس سے کئی گنا زیادہ منافع کماتا ہے ۔ ہمارے ملک میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پیشہ طب اور تعلیم کا شعبہ پوری طرح سے تجارت بن گئے ہیں۔ اس فہرست میں سر فہرست تو سیاست داں آئے ہیں۔ عوامی ووٹ سے منتخب ہونے کے بعد سب سے پہلے ا رکان اُن عوام کو بھول جاتے ہیں جن کے کندھوں پر قدم رکھ کر یہ اقتدار پر پہنچے تھے ۔ گجرات میں راجیہ سبھا کی جو نشستوں کیلئے ہوئے چناؤ میں یہ ساری سیاسی خباشتیں خوب ابھر کر سامنے آئی ۔ کانگریس پارٹی نے احمد پٹیل کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ بی جے پی نے سمرتی ایرانی اور پارٹی کے صدر امیت شاہ کو انتخابی میدان میں رکھا تھا ۔ بی جے پی بڑے وعدے کر رہی تھی کہ ان تمام شعبوں پر جن کے لئے انتخابات ہورہے ہیں، اس کے امیدوار جیتیں گے۔ کانگریس پارٹی نے سر دھڑ کی بازی لگادی کہ احمد پٹیل کو کامیابی حاصل ہو۔ بی جے پی نے کانگریس کے چھ ارکان ا سمبلی کو کسی طرح منحرف کرالیا ۔ تاکہ راجیہ سبھا کیلئے ووٹ دینے والے کانگریسی ایم ایل ایز کی تعداد کم ہوجائے اور کانگریسی امیدوار ہارجائے۔ کانگریس کو خود اپنے ا رکان اسمبلی پر بھروسہ نہیں تھا بلکہ یہ خوف لاحق ہوگیا تھاکہ کہیں اور مزید ارکان کو لالچ دے کر بی جے پی ان کو منحرف نہ کردے ۔ وہ ارکان کس کام کے جو پارٹی کے نظریہ پر بھروسہ نہیں کرتے یا جنہیں خریدا جاسکتا ہے ۔ کانگریس نے اپنے مابقی ارکان کو بنگلور میں ایک تفریح گاہ میں بند رکھا ۔ اس تفریح گاہ کے مالک بھی سیاست داں ہی ہیں۔ بی جے پی نے ان پر سی بی آئی کا دھاوا کروادیا ۔ ان کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے اور کرنا ٹک میں کانگریس حکمراں ہیں ۔ غرض ہر قسم کی بے قاعدگی اور خرید و فروخت ہوتی رہی ۔ اتنا سب کچھ ہونے کے با وجود کانگریس (گجرات کانگریس) کے ارکان اسمبلی نے برملا بی جے پی امیدوار کو روک دیا ۔ پارٹی کے وہپ کے باوجود اتنی دیدہ دلیری سے کراس ووٹنگ ہوئی کہ کئی گھنٹوں تک ووٹوں کی گنتی رکی رہی ۔ کانگریس اور بی جے پی کے لیڈراپنے دعویٰ کے ساتھ الیکشن کمیشن سے رجوع ہوگئے ۔ الیکشن کمیشن پر جو ایک با اختیار دستوری ادارہ طرح طرح سے دباؤ ڈالا جانے لگا ۔ آخر کار کمیشن ان دو کانگریس ارکان کے ووٹ کو مسترد کردیا جنہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا جس کے نتیجہ میں احمد پٹیل کو کامیاب قرار دیا گیا ۔ ہندوستان چھوڑدو کی 75 ویں سالگرہ 10 اور 15 اگست کو یوم آزادی کے دن قریب تھے لیکن اس کا کیا علاج ہے کہ آج کی پیڑی کے سیاست داں اور اقتدار کے میدان میں لگی نئی نئی آئی ہوئی بی جے پی لیڈروں کی بھیڑ ہماری تاریخ سے واقف نہیں ہیں۔ جس آر ایس ایس کے اشاروں پر مرکزی بی جے پی حکومت رقص کرتی ہے۔ اس آر ایسا یس نے تو ہندوستان چھوڑدو تحریک میں جو 1942ء میں گاندھی جی نے کامیابی کے ساتھ چلائی تھی ، کوئی حصہ تک نہیں لیا تھا ، اس طرح بی جے پی نے بھی اس تحریک میں کوئی رول ادا نہیں کیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا اور ہندوستان چھوڑدو تحریک سے بی جے پی کا کوئی تعلق ہوتا تو اس کے احترام میں وہ ایسا کوئی قدم نہ ا ٹھاتی، بات بی جے پی کی ہے لیکن کانگریس کو کیا کہئے جو تحریک میں شریک تھی اور جس کو گاندھی جی کا آشیرواد بھی حاصل تھا ، اس کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر کیوں ایسی بدنامی مول لی ۔ راجیہ سبھا کی ایک نشست کو کیوں وقار کی نشست بنالیا تھا ۔ کیوں اتنی احتیاط کے باوجود اس کے دو ارکان نے کراس ووٹنگ کی تھی اور کیوں انتہائی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنا بیالٹ پیپر کسی اور کو نہیں بی جے پی کے صدر اور اس مقابلہ میں امیدوار امیت شاہ کو دکھایا۔ آخر کونسا انعام و ا کرام وہ دونوں بی جے پی کے صدر سے حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ کتنی بے حسی ہے کہ ایک ہفتہ تک تفریح گاہ میں بنگلورو میں مقید رہنے کے بعد سینکڑوں وعدے کرنے کے بعد ان ووٹوں نے ووٹنگ بی جے پی کے حق میں کی ۔ کیا اصول اور اخلاقی حدود کو روندنے کی اس سے زیادہ اور کوئی تکلیف دہ مثال ہوسکتی ہے ، ان دونوں ہی کی کیا بات ہے جانے ابھی کتنے لوگ کانگریس میں ہوں گے جو ا یسے ہی سیاسی عزائم رکھتے ہوں گے ۔ کانگریس کو ان باتوں پر غور کرنا چاہئے اور آ ئندہ کیلئے سبق سیکھنا چاہئے ۔

 

TOPPOPULARRECENT