Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / راجیہ سبھا انتخابات : کانگریس 3 ، تلگودیشم 2 ، ٹی آر ایس ایک پر کامیاب ایم اے خان کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز، کیشو را

راجیہ سبھا انتخابات : کانگریس 3 ، تلگودیشم 2 ، ٹی آر ایس ایک پر کامیاب ایم اے خان کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز، کیشو را

حیدرآباد /7 فروری (سیاست نیوز) راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کے 3، تلگودیشم کے 2 اور ٹی آر ایس کے ایک امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ ایم اے خان نے سب سے زیادہ 49 ووٹ حاصل کئے، اسپیکر اسمبلی این منوہر نے پہلا اور کانگریس رکن اسمبلی پی وشنو وردھن ریڈی نے آخری ووٹ دیا، جب کہ کانگریس رکن اسمبلی ڈی وینکٹیشور نے کسی بھی امیدوار کے حق میں اپ

حیدرآباد /7 فروری (سیاست نیوز) راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کے 3، تلگودیشم کے 2 اور ٹی آر ایس کے ایک امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ ایم اے خان نے سب سے زیادہ 49 ووٹ حاصل کئے، اسپیکر اسمبلی این منوہر نے پہلا اور کانگریس رکن اسمبلی پی وشنو وردھن ریڈی نے آخری ووٹ دیا، جب کہ کانگریس رکن اسمبلی ڈی وینکٹیشور نے کسی بھی امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔ 4 ووٹ مسترد کردیئے گئے۔ واضح رہے کہ سی پی آئی نے ٹی آر ایس امیدوار ڈاکٹر کے کیشو راؤ کی تائید کی اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے بعض ارکان نے بھی انہیں ووٹ دئے ہیں ۔ لوک ستہ کے صدر جے پرکاش نارائن نے تلگودیشم کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ وائی ایس آر کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم نے راجیہ سبھا انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ رائے دہی سے کانگریس کے باغی امیدوار اے پربھاکر ریڈی کی دست برداری کے بعد 6 امیدواروں کی کامیابی یقینی اور رائے دہی ضروری ہو گئی تھی۔ علاقہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایم اے خان کو مجلس کی بھی تائید حاصل ہوئی، جب کہ کانگریس کے دیگر دو امیدواروں ٹی سبی رامی ریڈی اور ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے فی کس 46 ووٹ حاصل کئے۔

تلگودیشم امیدوار جی رام موہن راؤ کو 36 اور مسز ستیہ راما راما لکشمی کو 38 ووٹ حاصل ہوئے، جب کہ ٹی آر ایس امیدوار ڈاکٹر کے وی پی رامچندر راؤ نے 26 ووٹ حاصل کئے۔ پہلے ترجیحی ووٹوں کی بنیاد پر تمام 6 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ صبح 9 تا 4 بجے شام رائے دہی ہوئی اور 248 ارکان ووٹ دینے کے مستحق تھے۔ دریں اثناء تلگودیشم نے الیکشن آفیسر سے اپنے ارکان اسمبلی ہنمنت شنڈے، ودیا ساگر، جے سی دیواکر ریڈی اور جی کملاکر کے ووٹوں کا شمار نہ کرنے کی اپیل کی اور ان پر خفیہ رائے دہی میں حصہ لینے کی بجائے سب کو بتاکر ووٹ دینے کا الزام عائد کیا۔

TOPPOPULARRECENT