Monday , June 18 2018
Home / سیاسیات / راجیہ سبھا انتخابات کے لیے اپوزیشن پارٹیاں متحد

راجیہ سبھا انتخابات کے لیے اپوزیشن پارٹیاں متحد

بی جے پی کے غلبہ کو ختم کرنے متحدہ مقابلہ کی تیاریاں ، 59 نشستوں کے لیے 23 مارچ کو انتخابات
نئی دہلی ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : راجیہ سبھا کی 59 نشستوں کے لیے 23 مارچ کو انتخابات ہوں گے ۔ 17 ریاستوں سے ایوان بالا کے لیے 59 امیدواروں کو منتخب کیا جارہا ہے ۔ ان انتخابات نے اپوزیشن پارٹیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے ۔ بی جے پی کے غلبہ کو ختم کرنے کے لیے اپوزیشن کا اتحاد 2019 کے عام انتخابات کی تیاری کا مظہر ہے ۔ ایوان زیریں میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہے ۔ اب اس کا یہاں سے صفایا کرنے کے لیے ایوان بالا کے انتخابات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے اتحاد کا ثبوت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اپوزیشن اتحاد کے لیے پہلے ہی ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی کانگریس کے امیدوار مغربی بنگال سے ابھشیک منوسنگھوی کی تائید کرے گی ۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اترپردیش میں بی ایس پی امیدوار بھیم راؤ امبیڈکر کے حق میں اپنی تائید کریں گے ۔ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد کو 59 نشستوں کے منجملہ 24 پر غلبہ حاصل ہے اور وہ مزید 10 پر کامیاب ہوسکتی ہے ۔ اس کے بعد 245 رکنی ایوان بالا میں این ڈی اے کے ارکان کی تعداد 86 ہوجائے گی ۔ جہاں ارکان کی تعداد کا نصف حصہ 123 ہوتا ہے ۔ راجیہ سبھا کے لیے نامزد ارکان میں کرکٹ کھلاڑی سچن تنڈولکر ، اداکارہ ریکھا اور بزنس خاتون انو آغا اپریل میں ریٹائر ہورہے ہیں ۔ مغربی بنگال سے پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے منجملہ ترنمول کانگریس کے پاس چار نشستیں ہیں ۔ اب وہ پانچویں نشست کے لیے فیصلہ کرنے میں اہم رول ادا کرسکتی ہے ۔ اترپردیش میں بی جے پی کو 10 نشستوں کے منجملہ 8 پر کامیابی ملے گی جب کہ بی ایس پی اور ایس پی کو ایک ایک نشست مل سکتی ہے ۔ سماج وادی پارٹی نے بالی ووڈ اداکارہ جیہ بچن کو نامزد کیا ہے ۔ اس طرح بہار میں جہاں راجیہ سبھا کی 6 نشستیں ہیں آر جے ڈی کو دو نشستیں ملیں گی اور ایک نشست کے لیے کانگریس کی حمایت کی جارہی ہے ۔ جنتادل یونائیڈ کو دو نشستیں مل رہی ہیں تو بی جے پی کو ایک نشست پر کامیابی ہوگی ۔ جھارکھنڈ میں بھی جے ایم ایم نے کانگریس کی حمایت کا عہد کیا ہے ۔ کرناٹک میں حکمراں پارٹی کانگریس کو چار کے منجملہ دو پر کامیابی ملے گی ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کا باہمی اتحاد بی جے پی کو بدترین شکست سے دوچار کرسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT