Friday , April 27 2018
Home / سیاسیات / راجیہ سبھا میں بھی کانگریس پر وزیراعظم کی تنقید

راجیہ سبھا میں بھی کانگریس پر وزیراعظم کی تنقید

نئی دہلی ۔ 7 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کانگریس کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ (کانگرسی) مکھوں کے خلاف تشدد، اسکامس اور ایمرجنسی کے دور جیسا ’’قدیم ہندوستان‘‘ چاہتی ہے جبکہ ان کی پارٹی (بی جے پی) ایک ’’نیا ہندوستان‘‘ بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات منعقد کرنے کیلئے تعمیری بحث کرنے کے علاوہ او بی سی بل اور تین طلاق بل کی منظوری کیلئے تعاون کی خواہش کی۔ صدر جمہوریہ کے خطبہ پر راجیہ سبھا میں تحریک تشکر پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا نعرہ انہوں نے نہیں بلکہ مہاتما گاندھی نے دیا تھا جو یہ چاہتے تھے کہ آزادی کے بعد کانگریس تحلیل کردی جائے کیونکہ اس کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ مودی نے کہا کہ ’’آپ نیا ہندوستان نہیں چاہتے بلکہ ایمرجنسی، بوفورس اور ہیلی کاپٹرس اسکامس چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’ہم مہاتما گاندھی کا ہندوستان چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ اب کانگریس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ مودی کا نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ مہاتما گاندھی کا دیا ہوا (نظریہ) ہے‘‘۔ ان کے اس ریمارک کی بی جے پی ارکان نے میزیں تھپتھپاکر تائید کی۔ مودی نے اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی موت کے بعد سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے الفاظ کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی (کانگریس) ایسا ہندوستان چاہتی ہے، جس میں ہزاروں بے قصور سکھ مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے وہ الفاظ یاد لاتے ہوئے کہا کہ ’’جب ایک بڑا درخت آتا ہے تو … آپ کو یاد ہے یہ جملے۔ کیا ایسا ہی ہندوستان کانگریس چاہتی ہے‘‘۔

 

لوک سبھا میں وزیراعظم کی تقریر انتخابی تقریر جیسی : شردیادو
نئی دہلی ۔ 7 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جے ڈی یو کے باغی قائد شرد یادو نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی تحریک تشکر پر مباحث کے دوران کی ہوئی تقریر کسی انتخابی جلسہ سے خطاب جیسی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے وعدوں کی تکمیل اور عوام کے مسائل اور ان کے حل پر تقریر مرکوز ہونے کے بجائے اس میں صرف موجودہ حکومت کے کارناموں کو اجاگر کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT