Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / راجیہ سبھا میں تلنگانہ بل پیش کرنے کے فیصلہ کی مخالفت

راجیہ سبھا میں تلنگانہ بل پیش کرنے کے فیصلہ کی مخالفت

حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے مرکز کی جانب سے راجیہ سبھا میں تلنگانہ بل پیش کرنے سے متعلق فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے اعلان کیا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2013 ء پہلے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ پارٹی کے سینئر قائد اور سابق رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے حکومت کے اس فیصلہ پر نکت

حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے مرکز کی جانب سے راجیہ سبھا میں تلنگانہ بل پیش کرنے سے متعلق فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے اعلان کیا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید بل 2013 ء پہلے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ پارٹی کے سینئر قائد اور سابق رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے حکومت کے اس فیصلہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بارے میں مرکزی حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے بجائے راجیہ سبھا میں بل کی پیشکشی مرکز کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ ونود کمار نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے لوک سبھا میں بل کی منظوری کو یقینی بنائے تاکہ راجیہ سبھا میں اس کی منظوری میں کوئی دشواری نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس بات کا تیقن دیا ہے کہ حکومت ریاست کی تقسیم کے فیصلہ کی پابند ہے، لہذا ٹی آر ایس پرامید ہے کہ پارلیمنٹ کے جاریہ سیشن میں ریاست کی تقسیم کا عمل مکمل ہوجائے گا ۔ اسی دوران ٹی آر ایس کی جانب سے پیش کردہ ترمیمات کے بارے میں کل 6 فروری کو مرکزی کابینہ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا ۔ پارٹی نے مسودہ بل میں 10 ترمیمات کی سفارش کرتے ہوئے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو مکتوب حوالہ کیا ہے ۔

دہلی کے سیاسی حلقوں میں یہ بات موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ اگر مرکزی حکومت مسودہ بل میں ٹی آر ایس کی ترمیمات کو شامل نہیں کرے گی تو کیا ٹی آر ایس بل کی تائید کرے گی ؟ ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ نے پہلے ہی واضح کردیا کہ پارلیمنٹ میں ضروری ترمیمات کے ساتھ بل پیش کیا جانا چاہئے۔ اسمبلی میں ہوئے مباحث اور ارکان کی جانب سے پیش کردہ 9 ہزار سے زائد ترمیمات پر مرکزی وزارت گروپ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ گروپ آف منسٹرس کا دو مرتبہ اجلاس منعقد ہوا لیکن بتایا جاتا ہے کہ ترمیمات کے سلسلہ میں غور و خوض نہیں کیا جاسکا۔ گروپ آف منسٹرس نے مسودہ بل کو قطعیت اور ترمیمات کا مسئلہ مرکزی کابینہ پر چھوڑ دیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکزی کابینہ کل اپنے اجلاس میں ٹی آر ایس کی جانب سے پیش کردہ ترمیمات پر کیا فیصلہ کرتی ہے ۔ دوسری جانب سیما آندھرا قائدین کی جانب سے ان کے علاقہ سے انصاف کے سلسلہ میں پیش کی گئی ترمیمات پر بھی مرکز کو فیصلہ کرنا ہے۔

کل جمعرات کو کابینی اجلاس کے بعد تلنگانہ مسودہ بل کی حقیقی نوعیت کا اندازہ ہوجائے گا۔ اسی دوران تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے صدر چندر شیکھر راؤ نئی دہلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کرتے ہوئے بل کے حق میں تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ میں آج کے سی آر نے مختلف جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی اور ان سے خواہش کی کہ وہ تلنگانہ بل کی تائید کریں کیونکہ گزشتہ 60 برسوں سے تلنگانہ عوام ناانصافیوں کے خلاف علحدہ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ مطالبہ انصاف پر مبنی ہے۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے سینئر قائدین ، ارکان اسمبلی و کونسل بھی نئی دہلی میں قیام کئے ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ 6 فروری کی شام حیدرآباد واپس ہوں گے تاکہ 7 فروری کو راجیہ سبھا کی 6 نشستوں کیلئے ہونے والی رائے دہی میں حصہ لے سکیں۔ٹی آر ایس نے مسودہ بل میں جن ترمیمات کی سفارش کی ہے ان میں دونوں ریاستوں کے لئے علحدہ گورنرس کا تقرر ، دو علحدہ ہائیکورٹس کا قیام، تلنگانہ میں برقی پلانٹس کی منظوری اور ملازمین کے الاٹمنٹ میں تلنگانہ کو مناسب حصہ داری جیسی تجاویز شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT