Friday , May 25 2018
Home / سیاسیات / راجیہ سبھا میں تیسرے دن بھی اپوزیشن کا شوروغل

راجیہ سبھا میں تیسرے دن بھی اپوزیشن کا شوروغل

بینک فراڈ اور دیگر مسائل پر بدستور احتجاج ۔ لوک سبھا کارروائی میں بھی خلل
نئی دہلی ۔ 7 مارچ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا کی کارروائی آج لگاتار تیسرے روز شوروغل اور احتجاج کی نذر ہوگئی جبکہ اپوزیشن پارٹیوں اور حلیفوں جیسے ٹی ڈی پی اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے نے پی این بی بینک فراڈ ، آندھراپردیش کو خصوصی پیاکیج کے مطالبے اور کاویری بورڈ کے مسئلہ پر پرشور احتجاج کیا ۔ احتجاجیوں کو بتایا گیا کہ حکومت تمام مسائل پر بحث کیلئے تیار ہے لیکن اپوزیشن کے بے تکان احتجاج نے ایوان کی کارروائی کے التواء پر مجبور کیا ، پہلے اسے صبح میں ملتوی کرنا پڑا اور بعد میں دوپہر میں دوبارہ مجتمع ہونے کے بعد دن بھر کیلئے کارروائی ملتوی کردی گئی۔ مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور وجئے گوئیل نے ایوان میں نظم بحال کرنے کی کوشش میں کہا کہ حکومت تمام مسائل پر مباحث کیلئے تیار ہے لیکن اس کا احتجاجی ارکان پر کچھ اثر نہ ہوا ۔ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کی کارروائی بھی متواتر تیسرے روز متاثر ہوئی کیونکہ وہاں بھی مختلف پارٹیوں بشمول این ڈی اے حلیفوں ٹی ڈی پی اور شیوسینا نے مختلف النوع مسائل پر احتجاج کیا۔ لوک سبھا کی کارروائی کا صبح جیسے ہی آغاز ہوا اپوزیشن و حلیف پارٹیوں کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر مختلف مسائل پر نعرے بازی کرنے لگے ، جس پر اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان کی کارروائی کو ایک گھنٹے کیلئے ملتوی کیا۔ زیادہ تر احتجاجی ارکان کو ایوان کے وسط میں دیکھا گیا ۔ بائیں بازو اور کانگریس کے ارکان اپنی بنچوں سے نعرے لگاتے دیکھے گئے ۔ اپوزیشن دوشنبہ سے کئی مسائل پر احتجاج کرتا رہا ہے جن میں پی این بی اسکام شامل ہے ۔ بجٹ سیشن میں ایک ماہ طویل وقفہ کے بعد پارلیمانی اجلاس کااحیاء ہوا ہے ۔ راجیہ سبھا میں دن کی کارروائی کے آغاز پر وقفہ ٔ صفر شروع کیا گیا اور صدرنشین ایم وینکیا نائیڈو نے ملک کے مختلف حصوں میں مجسموں کو نقصان پہونچانے کی حرکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایوان نے سابق رکن راجیہ سبھا جنیندر کمار جین (73 سال ) کو خراج عقیدت بھی پیش کیا ، جن کا اس ماہ کے اوائل دیہانت ہوا۔ کانگریس ، ٹی ایم سی اور بائیں بازو جماعتوں ، این ڈی اے حلیف ٹی ڈی پی اور آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے بشمول دیگر پارٹیوں کے ایم پیز نعرے بازی اور پلے کارڈس ہاتھوں میں تھام کر ایوان کے وسط میں پہونچ گئے ۔ اس شوروغل کے درمیان چیرمین نائیڈو نے ایوان کو ابتداء میں دوپہر 2 بجے تک ملتوی کیا ۔

TOPPOPULARRECENT