Saturday , January 20 2018
Home / Top Stories / راجیہ سبھا میں تین طلاق بل منظور نہیں ہوسکا ، سرمائی اجلاس ملتوی

راجیہ سبھا میں تین طلاق بل منظور نہیں ہوسکا ، سرمائی اجلاس ملتوی

آئندہ بجٹ سیشن میں بل کو منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی ، حکومت اور اپوزیشن کا اٹل موقف

نئی دہلی ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں تین طلاق بل منظور نہیں ہوسکا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے اختتام کے ساتھ ہی اس کے ایوان بالا کا اجلاس بھی غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی ہوگیا اور مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے حساس مسئلہ تین طلاق پر بل کی منظوری کیلئے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں ہونے والے بجٹ سیشن تک انتظار یقینی ہوگیا ہے۔ تاہم اس مسئلہ پر کسی طاقت آزمائی کے امکان کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کانگریس نے خصوصی وہپ جاری کرتے ہوئے اپنے تمام امکان کو راجیہ سبھا میں موجود رہنے کی ہدایت کی تھی۔ تین طلاق بل راجیہ سبھا کے آج کے ایجنڈہ میں شامل تھی لیکن حکومت اور کانگریس کے درمیان تعطل برقرار رہنے کے سبب اس پر پیشرفت نہ ہوسکی۔ حکومت کو پہلے ہی یہ اندازہ ہوچکا تھا کیونکہ راجیہ سبھا میں وہ اقلیت میں ہے اور بل کی منظوری میں مدد کیلئے اپوزیشن کو ترغیب دینے میں ناکام ہوگئی تھی۔ کانگریس کی قیادت میں ایک متحدہ اپوزیشن لوک سبھا میں پہلے ہی منظورہ اس بل کو ایوان کی سیلکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کے مطالبہ پر بضد رہی۔ شادی میں مسلم خواتین تحفظ حقوق بل 2017ء میں تین طلاق کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہے اور تین طلاق دینے والے شوہر کو تین سال کی قید کی سزاء مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہیکہ سپریم کورٹ کی طرف سے گذشتہ سال تین طلاق کے عمل کو غیردستوری قرار دیا گیا تھا جس کے بعد مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بل کی منظوری ہے۔ وزیرقانون نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود تین طلاق دینے کے واقعات روزانہ پیش آرہے ہیں اور ارکان پر زور دیا تھا کہ مسلم خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے اس بل کو منظور کرنا ضروری ہے لیکن راجیہ سبھا میں بلس کی منظوری میں بہ پابندی مدد کرنے کے سبب حکومت کی دوست کہلائی جانے والی دو جماعتوں انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتادل (بی جے ڈی) نے بھی سلیکٹ کمیٹی کے ذریعہ اس بل کی مزید تنقیح کی خواہش کی ہے۔ ان جماعتوں نے بنیادی طور پر قید کی مدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اپنے خاندان کو چھوڑنے والا کوئی شخص اگر جیل چلا جاتا ہے تو وہ انہیں نان و نفقہ فراہم نہیں کرسکے گا۔ اور بی جے ڈی کے ارکان یہ چاہتے تھے کہ ایسی مطلقہ مسلم خواتین کو مالی امداد کی فراہمی کی گنجائش بھی اس بل میں شامل کی جائے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہیکہ حکومت اپنے موقف پر اٹل ہے اور وہ اپوزیشن کے مطالبات قبول کئے بغیر اس بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کررہی ہے۔ اس نے کانگریس پر دوہرے معیارات اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور اصرار کے ساتھ کہا کہ راجیہ سبھا میں اس بل پر بحث ہونی چاہئے تاکہ کانگریس کی منافقت بے نقاب کی جاسکے جس نے لوک سبھا میں اس کی تائید کی تھی اور راجیہ سبھا میں مخالفت کررہی ہے۔ وزیرپارلیمانی امور اننت کمار نے کہا کہ ’’کانگریس انتشار پسند حربے اختیار کررہی ہے۔ وہ مسلم خواتین کی مدد کرنا نہیں چاہتی اور ہو ہی سلیکٹ کمیٹی کے نظریہ کے پیچھے کارفرما ہے۔ کانگریس کو تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’’دیر ہوسکتی ہے پر اندھیر نہیں ہوسکتی۔ کانگریس مسلم خواتین کے حقوق کا اغواء کرلینا چاہتی ہے جیسا کہ انہوں (کانگریس) نے شاہ بانو مقدمہ میں کیا تھا‘‘۔ کانگریس نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ مسلمانوں میں تین طلاق کے عمل کا مکمل خاتمہ کرنے کی پرزور حمایت کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی چاہتی ہیکہ مسلم خواتین کے حقوق کے مؤثر تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT